انسداد دہشتگردی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں نامزد ملزم ارمغان سے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ایف آئی اے کو جیل میں تفتیش کی اجازت دے دی۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملزم ارمغان سے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں تفتیش کی اجازت کیلئے عدالت سے رجوع کیا، جس کی عدالت نے اجازت دے دی۔
درخواست میں کہا گیا کہ ملزم کو عدالت نے مصطفی عامر کے اغواء اور قتل کیس میں جیل بھیج دیا ہے، ملزم ارمغان کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے، ملزم ارمغان سے منی لانڈرنگ کیس میں تحقیقات کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے ایف آئی اے کی ملزم ارمغان سےتفتیش کی درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت نے ایف آئی اے کو 3 اپریل تک ملزم سے جیل میں تفتیش کی اجازت دیتے ہوئے حکم دیا کہ ایف آئی اے مقررہ وقت میں تفتیش مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالت کو ملزم ارمغان سے جیل میں تفتیش پر کوئی اعتراض نہیں، ایف آئی اے ملزم ارمغان سے جیل میں 9 دن تک تفتیش کرسکتی ہے، ایف آئی اے ملزم ارمغان کو جیل سے باہر نہیں لےجا سکتی، ایف آئی اے ملزم ارمغان سےصبح سے غروب آفتاب تک تفتیش کر سکتی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل ایف آئی اے تفتیشی افسر کو ملزم ارمغان سے تفتیش کی اجازت دے۔
واضح رہے کہ مصطفیٰ عامر کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی لاش 14 فروری کے روز پولیس کو حب سے ملی تھی، مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے تشدد کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلایا تھا۔
23 سالہ مصطفیٰ عامر کی لاش ملنے کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا، مصطفیٰ ارمغان کے گھر گیا تھا وہاں لڑائی جھگڑے کے بعد فائرنگ کرکے اس کو قتل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مقتول کی لاش کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لے جایا گیا، لاش کو گاڑی میں جلایا گیا، ملزمان نے لاش کی نشاندہی کی، اب تک کی تحقیقات کے مطابق ارمغان اور شیراز نے گاڑی کو آگ لگائی۔