کراچی میں خوفناک حادثہ پانی کے ٹینکر کی ٹکر سے نوجوان جوڑا اور ان کا نوزائیدہ بچہ جائے حادثہ پر جاں بحق ہوگیا۔
روشنیوں کا شہر کراچی جو کبھی اپنی روشن سڑکوں کے سبب مشہور تھا اب سڑک پر روز ٹرک، ٹرالر اور ٹینکر کی ٹکر سے سڑکوں پر مرنے والے شہریوں کی وجہ سے مشہور ہوچکا ہے۔
حادثات کا عالم یہ ہے کہ روز کی بنیاد پر کراچی کی کسی نہ کسی سڑک پر کوئی ٹینکر یا ٹرولر اپنے ٹائر کے نیچے کسی معصوم کا جسم روند کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے البتہ ایک دن میں ایک سے زائد حادثات بھی رونما ہورہے ہیں۔
جہاں روز ہی ایک نہ ایک واقع شہ سرخیوں کا حصہ بن رہا تھا وہیں کراچی میں 24 مارچ کو ملیر کے علاقے ’ملیر ہالٹ‘ پر ایسا حادثہ رونما ہوا کہ کیا دکھنے والوں بلکہ سننے والوں کی بھی روح کانپ اٹھی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔
ملیر ہالٹ پر ایک ہولناک حادثہ پیش آیا جس میں ایک پانی کے ٹینکر کے بے قابو ہو کر ایک موٹر سائیکل کو ٹکر مارنے سے ایک نوجوان جوڑا اور ان کا نوزائیدہ بچہ جاں بحق ہو گئے۔
کراچی ٹریفک پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پیر محمد شاہ نے بتایا کہ پانی کا ٹینکر ماڈل کالونی سے شاہراہِ فیصل کی طرف جا رہا تھا جب ڈرائیور بائیں طرف موڑنے میں ناکام رہا۔ حالانکہ نئے نصب شدہ کنکریٹ کے رکاوٹیں موجود تھیں، مگر ٹینکر ان رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے مخالف سمت میں جا کر ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا گیا جس پر یہ بدقسمت جوڑا سوار تھا۔
متوفی جوڑے کی شناخت 25 سالہ عبدالقیوم اور 19 سالہ زینب کے طور پر کی گئی۔ کورنگی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) محمد طارق نواز کے مطابق یہ جوڑا طبی معائنے کے لیے اسپتال جا رہا تھا جب یہ المیہ پیش آیا۔ آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون نے ٹکر کے فوراً بعد بچے کو جنم دیا، تاہم نوزائیدہ بچہ زندگی کی جنگ نہ جیت سکا۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے تصدیق کی کہ جوڑے اور ان کے نوزائیدہ بچے کی لاشیں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) لائی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ جہاں ماں کو شدید کرش انجریز آئیں وہیں نوزائیدہ بچے کے جسم پر کوئی بیرونی زخم نہیں تھے۔
تحقیقات میں ظالم ڈرائیور کی تھکاوٹ اور تیز رفتاری کا انکشاف:
تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ یہ حادثہ ملیر ہالٹ کے قریب ڈرائیور کی انتہائی تھکاوٹ اور تیز رفتاری کی وجہ سے ہوا۔ حکام نے انکشاف کیا کہ ٹینکر کا ڈرائیور رحیم 24 گھنٹے کی تھکا دینے والی شفٹ کے بعد شدید تھکاوٹ کا شکار تھا اور گاڑی پر قابو پانے میں ناکام رہا۔
اگرچہ ڈرائیور نے ابتدا میں بریک فیل ہونے کا الزام لگایا مگر ٹریفک حکام نے تصدیق کی کہ بریک مکمل طور پر کام کر رہے تھے اور اصل وجہ تیز رفتاری تھی۔
ٹینکر کو سفورہ ہائیڈرنٹ سے منسلک QR کوڈ کے ذریعے ٹریس کیا گیا جس کے بعد یہ بھی پتا چلا کہ ٹینکر نے ایک ہائیس وین اور ایک اور موٹر سائیکل کو بھی ٹکر ماری تھی۔
کراچی کی سڑکوں پر بھاری گاڑیوں کا قبضہ:
حالیہ ہولناک حادثہ ملیر ہالٹ کے قریب اس بات کا غماز ہے کہ شہر میں اس سال اب تک 214 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں سے 68 افراد بھاری گاڑیوں کی ٹکر سے جاں بحق ہوئے ہیں۔
ان گاڑیوں میں 17 افراد ڈمپر کے نیچے آ کر، 24 افراد ٹرالرز، 14 افراد پانی کے ٹینکروں، 5 افراد مزدا ٹرکوں اور 8 افراد بسوں کی ٹکر سے جاں بحق ہوئے ہیں۔
ان خطرناک حادثات کے باوجود حکومت کی طرف سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ حکومت کا تازہ ترین اقدام بھاری گاڑیوں کی پابندی میں ایک گھنٹے کی نرمی صرف ایک مذاق محسوس ہوتا ہے۔
ان گاڑیوں کو شہر کی سڑکوں پر مکمل طور پر بند کر دینا چاہیے خاص طور پر ان اوقات میں جب زیادہ تعداد میں شہری سڑکوں پر ہوتے ہیں۔