بالی ووڈ اداکارہ نورا فتیحی اور سنجے دت کا حالیہ گانا ’سرکے چنر‘ شدید تنازع کا شکار ہونے کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا جب نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) نے گانے کے مواد پر نوٹس جاری کرتے ہوئے اسے معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق گانے پر عوامی سطح پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں سوشل میڈیا صارفین نے اسے “غیر اخلاقی” اور “فحش” قرار دیتے ہوئے فوری پابندی کا مطالبہ کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مواد سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل پر۔
این ایچ آر سی کی مداخلت کے بعد گانے کو مختلف پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد فلمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس معاملے پر اداکارہ کنگنا رناوت نے بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے بالی ووڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فلم انڈسٹری “تمام حدیں پار کر چکی ہے” اور اسے اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔
دوسری جانب کچھ فنکاروں اور ہدایت کاروں نے اس اقدام کو اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تخلیقی آزادی کو اس طرح محدود کرنا فن اور ثقافت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع نہ صرف فلمی دنیا بلکہ سماجی اقدار اور آزادیٔ اظہار کے درمیان جاری کشمکش کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بالی ووڈ مستقبل میں ایسے حساس معاملات کو کس طرح ہینڈل کرتا ہے۔





































