تازہ تر ین

1923 سے قائم تاریخی گورنر ہاؤس نتھیا گلی کی پہچان بن گیا، یہ عمارت آج بھی برطانوی دور کی شاندار یادگار ہے

نتھیا گلی میں واقع گورنر ہاؤس (جسے تاریخی طور پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہاؤس بھی کہا جاتا ہے) اپنی نوآبادیاتی دور کی تاریخ، خوبصورت فنِ تعمیر اور حالیہ سیاسی و قانونی تنازعات کی وجہ سے میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہا ہے۔

یہ تاریخی عمارت 1923 میں تعمیر کی گئی تھی، جو 76 کنال کے وسیع رقبے پر محیط ہے اور سمندر کی سطح سے 7,922 فٹ کی بلندی پر صنوبر کے گھنے جنگلات میں گھری ہوئی ہے۔

۔ عوام کے لیے کھولنا اور تجارتی استعمال (2019)

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا (KP) کابینہ نے سرکاری اخراجات کو کم کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کی پالیسی کے تحت ایک بڑا فیصلہ کیا۔

  • خبر: اگست 2019 میں صوبائی حکومت نے گورنر ہاؤس نتھیا گلی، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور اسپیکر ہاؤس کو عام عوام اور سیاحوں کے لیے کھول دیا۔

  • تفصیلات: اس تاریخی عمارت کے کمروں کو خیبر پختونخوا ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر آن لائن بکنگ کے لیے پیش کیا گیا (جس کا ابتدائی کرایہ لگ بھگ 40,000 روپے فی رات رکھا گیا) تاکہ اس کی دیکھ بھال کا خرچہ وہاں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پورا کیا جا سکے۔

سال 2023 میں نتھیا گلی اور گلیات کے دیگر علاقوں میں موجود مختلف سرکاری اور تاریخی ریسٹ ہاؤسز کی نجی شعبے کو منتقلی کے حوالے سے شدید مالی اور انتظامی تنازعات سامنے آئے۔

  •  تحقیقاتی رپورٹس اور سرکاری دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا کہ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی میں کئی اہم اور قیمتی تاریخی املاک کو مبینہ طور پر انتہائی کم قیمتوں  پر نجی ٹھیکیداروں اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو لیز پر دے دیا گیا۔

  •  اس اقدام سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا، کیونکہ یہ لیز بورڈ کی باقاعدہ منظوری کے بغیر دی گئی تھیں۔

گورنر ہاؤس نتھیا گلی کا سب سے حالیہ اور بڑا تنازع پشاور ہائی کورٹ (PHC) میں خیبر پختونخوا حکومت اور گورنر سیکرٹریٹ کے درمیان چلنے والی قانونی جنگ ہے۔

  •  گورنر خیبر پختونخوا (فیصل کریم کنڈی) نے اپنے پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جس کے تحت صوبے نے اس تاریخی عمارت کا انتظامی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

  • گورنر کے وکلاء (شمائل احمد بٹ اور شیراز بٹ) نے عدالت میں دلیل دی کہ وفاقی قانون  کے تحت، گورنر قانونی طور پر پشاور گورنر ہاؤس کے ساتھ ساتھ نتھیا گلی گورنر ہاؤس کو بھی اپنی سرکاری رہائش گاہ کے طور پر استعمال کرنے کا حقدار ہے۔ صوبائی حکومت کا اسے یکطرفہ طور پر اپنے قبضے میں لینا اور تجارتی بنانا غیر آئینی ہے۔ اس کے علاوہ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی عدم توجہی کے باعث اس صدی پرانی تاریخی عمارت کی حالت بھی خراب ہوئی۔

  •  پشاور ہائی کورٹ کے بنچ (جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال) نے گورنر کو نتھیا گلی گورنر ہاؤس کا استعمال جاری رکھنے کی عبوری اجازت دی اور صوبائی حکومت کو اس عمارت کی مزید تجارتی فروخت یا غیر مجاز استعمال سے روکتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain