سرینگر(این این آئی)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہائی کورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت ایک نوجوان کی نظر بندی برقرار رکھتے ہوئے اس کی درخواست مسترد کردی جس سے من مانی نظر بندیوں کے مقدمات میں عدالتی ریلیف کی فراہمی پر سنگین سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس راج نیش اوسوال نے ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے اعجاز احمد راتھر کی پی ایس اے کے تحت نظر بندی برقرار رکھی۔ انہیں گزشتہ سال 7 مئی کو ضلع مجسٹریٹ پلوامہ کے حکم پر اس بنیاد پر نظر بند کیا گیا تھا کہ انہیںبھارت کی سلامتی کے لیے نقصان دہ طرز عمل سے باز رکھاجائے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس اوسوال نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ بات اہم ہے کہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) فورسز کی نظروں سے بچنے کے لیے خفیہ طور پر کام کرتے ہیں، نہ کہ کھلے عام۔ چنانچہ ان کی سرگرمیوں کے براہِ راست شواہد شاذ و نادر ہی موجود ہوتے ہیں اور ان کی غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کا بنیادی ذریعہ اکثر انٹیلی جنس رپورٹس ہوتی ہیں۔جج نے کہاکہ جب متعلقہ ادارے اور نظر بندی کا حکم دینے والی اتھارٹی اس مخصوص دہشت گرد کا نام بتا چکی ہوں جسے درخواست گزار نقل وحمل اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کر رہا تھا، تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ درخواست گزار کو مبہم وجوہات کی بنیاد پر نظر بند کیا گیا ہے۔سرینگر سے تعلق رکھنے والے قانونی ماہرین نے کہا کہ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح براہِ راست شواہد کے بغیر مبہم انٹیلی جنس رپورٹس کو استعمال کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کو پی ایس اے جیسے کالے قوانین کے تحت برسوں تک سلاخوں کے پیچھے رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں من مانی گرفتاریوں اور نظر بندیوں کو جائز قرار دینے کے لیے اوور گراؤنڈ ورکر (او جی ڈبلیو) کی اصطلاح کامسلسل غلط استعمال کیا جا رہا ہے جہاں نوجوانوں کے خلاف محض شک کی بنیاد پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں اور پولیس قابلِ اعتماد شواہد کے بغیر ڈوزیئر تیار کرتی ہے۔قانونی ماہرین نے کہا کہ ایک طرف پی ایس اے کے تحت نظر بندیوں کو بار بار کالعدم قرار دیا جانا اور دوسری طرف مبہم وجوہات کی بنیاد پر نظر بندیوں کو برقرار رکھنا دوہرے معیار اور مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کو انصاف سے محروم رکھنے کی عکاسی کرتا ہے۔