Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • امن معاہدہ طے,وزیراعظم نے حتمی متن کا باضابطہ اعلان کر دیا
    • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کمی کا فیصلہ
    • وزیراعظم کی پی پی کو گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کی دعوت
    • ایوان صدر کیلیے 2 ارب، وزیراعظم پبلک آفس کیلیے 92 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز
    • ٹرمپ کے ساتھ مکمل اتفاق، ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: نتن یاہو
    • گلبرٹو مورا نے رقم کی تاریخ، فیفا ورلڈ کپ میں میکسیکو کی نمائندگی کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بنے
    • نیپال،مسافر بس گہری کھائی میں جا گری، آٹھ ہلاک، 16 زخمی
    • ممتا بنرجی کے خلاف مقدمہ درج، انتخابی مہم میں اشتعال انگیز بیان دینے کا الزام
    • کین ولیمسن کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
    • سولرپینلز پر ٹیکس نہیں لگایا جارہا ہے، ایف بی آر حکام
    • ملاقات یا ڈیل پر دستخط کرنے سے ایرانی منجمد فنڈ بحال نہیں ہوں گے: امریکی نائب صدر
    • امپورٹ کی جانیوالی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنےکا فیصلہ
    • دنیا بھر میں فیس بک کی سروس متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا
    • ایلون مسک دنیا کا پہلا کھرب پتی بننے کے قریب
    • موٹر وے حادثہ سابق سینیٹر تاج آفریدی انتقال کر گئے
    •  بجٹ اجلاس:  18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش
    • لاہور: ایکسپائر سیرپ برآمد، فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے سویٹ کریم سیل کر دیا
    • ایک لاکھ بھارتیوں نے جعلی ڈگریوں سے امریکی H-1B ویزا حاصل کیا
    • ماس ٹرانزٹ سسٹم، ٹرانسپورٹ پر مفت سفر کی سہولت ختم
    • کین ولیمسن نے بین انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    شرارت کے بعد غائب ہونے کیلئے دادی کی طلسماتی خیمے جیسی شال میں چھپ جاتا

    By Daily Khabrainنومبر 8, 2016
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    دادی ڈھیلی ڈھالی پٹھان شلوار پہنتی تھیں اور دراز قمیض زیب تن کرتی تھیں جس کی وجہ سے وہ ایک عورت سے زیادہ مرد دکھائی دیتی تھیں….وہ ہمیشہ اپنے سر کو دوپٹے کے ساتھ ڈھانپ کر رکھتی تھیں….وہ ہمیشہ اپنے اردگرد ایک بڑی شال لپیٹے رکھتی تھیں جس کا سائز تقریباً سنگل بیڈ شیٹ (بستر کی چادر)جتنا ہوتا تھا….
    میں جب کوئی شرارت کرنے کے بعد آغا جی یا اماں سے چھپنے کی کوشش میں مصروف ہوتا تھا….میں یقینا ان کی شال کی تہوں میں پناہ حاصل کرتا تھا….جو وہ میرے لئے ایک طلسماتی خیمے کی مانند کھول دیتی تھیں جو مجھے اپنے حصار میں لے لیتاتھا اور مجھے اس سے چھپا لیتا تھا جو میری تلاش میں ہوتا تھا….اہل خانہ تجس میں مبتلا
    ہوتے تھے اور اس اسرار اور بھید کو جاننے کی کوشش کرتے تھے کہ یوسف کہاں غائب ہوگیا ہے….اس بڑے گھرانے میں محض چند افراد ہی یہ قیاس کرسکتے تھے کہ میں دادی کی شال میں چھپا ہوا ہوں….دادی اپنی آنکھیں بند کئے بیٹھی رہتی تھیں جبکہ اماں اور پھوپھی باب جان کئی مرتبہ کمرے کی تلاشی لے لیتی تھیں اور بڑبڑاتی جاتی تھیں کہ یوسف کہاں غائب ہوگیا ہے۔
    دادی ایک سے زائد وجوہات کی بنا پر مجھ سے محبت کرتی تھیں….فقیر کی پشین گوئی ایک وجہ تھی لیکن زیادہ اہم وجہ یہ بھی تھی کہ میں نور بھائی سے بے حد مختلف واقع ہوا تھا….میرا بڑا بھائی….وہ مسائل کھڑے کرنے کے حوالے سے مشہور تھے وہ اپنے کزنوں اور ہمسایہ لڑکوں کے ساتھ برسر پیکار رہتے تھے۔اگرچہ ان کی یہ کارروائیاں سنجیدہ نوعیت کی حامل نہ ہوتی تھیں لیکن محلے کے لڑکوں کے والدین کی جانب سے دادی کو شکایات موصول ہوتی رہتی تھیں….تاہم نور بھائی کو گھر کی خواتین آشیرباد حاصل تھی اور وہ بڑے ہی فنکارانہ انداز میں تمام تر الزام ان لڑکوں کے سر پر منڈھ دیتے تھے جو ان کی شکایات لے کر آتے تھے….اگرچہ دادی ان کے چکمے میں نہیں آتی تھیں لیکن انہوں نے محلے کے لڑکوں یا ان کے والدین کی موجودگی میں نورمیاں کی کبھی سرزنش نہ کی تھی….وہ ان کے جانے کے بعد ان کی خبر لیتی تھیں اور ان کا رونا دھونا محض ہمارے ہی کانوں میں پڑتا تھا۔
    سکینہ آپا دادی کے راستے سے دور ہی رہیں اور حکمران عورت گھر میں سکینہ آپا اور دیگر ان کے دوران بحث مباحثے میں مداخلت نہ کرتی تھیں….میرا خیال ہے وہ جانتی تھیں کہ سکینہ آپا کا ضدی پن اور جھگڑالو اور لڑاکا پن کہاں سے آیا تھا۔
    ایوب….جو مجھ سے محض ڈیڑھ برس بڑا تھا….وہ ایک خاموش ساتھی تھا اور گھر میں اس کی موجودگی محض اسی وقت محسوس کی جاتی تھی جب وہ اور میں باہم اکٹھے کھیلتے تھے اور سیڑھیوں میں سے ایک دوسرے کا تعاقب کرتے تھے یا شور شرابے کے ساتھ گھر کے آنگن میں کھیلتے تھے۔وہ واحد ہستی تھی جو ایک راز میں شریک راز تھی جسے میں نے ایک طویل عرصے تک راز ہی رکھا تھا حتیٰ کہ پشاور سے ہمارے منتقل ہونے کے بعد بھی….ایک مرتبہ دادا نے مجھے بتایا تھا کہ میں وہ سکے ایک شگاف یا دراڑ میں رکھ سکتا تھا جن کی میں بچت کرنا چاہتا تھا اور یہ شگاف یا دراڑزینے کے نیچے ایک ٹائل جزوی طور پر باہر نکل آنے کی وجہ سے منظرعام پر آئی تھی….دادا نے طلسماتی کہانی بنائی تھی کہ شگاف یا دراڑ طلسماتی طاقت کی حامل تھی اور وہ سکوں کو دوگنا کردیتی تھی اور اس کے لئے ایک خزانہ تخلیق کرتی تھی جو اسے خفیہ رکھتا تھا اور ٹائل واپس شگاف یا دراڑ پر رکھ دیتا تھا اور اس خواہش کے ساتھ کہ انہیں بڑھنے دیا جائے….میں نے خوف اور سنسنی کے ساتھ دادا کی کہانی سنی اور یہی حال ایوب کا بھی تھا….ہم دونوں نے باہم اکٹھے ایک ٹائل کو باہر کھینچا اور یہ کام اس وقت کیا جبکہ کوئی بھی ہمارے اردگرد موجود نہ تھا اور میں نے اس شگاف یا دراڑ میں دو عدد سکے دفن کردئیے۔دادا نے ہمیں بتایا تھا کہ ہم جتنی دیر تک سکے وہاں پر چھوڑ سکتے تھے اتنی دیر تک انہیں وہاں پر ہی چھوڑ دینا چاہیے تاکہ ان میں اضافہ ہوتا ہے….
    ”اگر تم اسے کھلا رکھو گے تو طلسم غائب ہوجائے گا۔“
    انہوں نے ہمیں راز دارانہ انداز میں بتایا تھا…. آنکھ جھپکے بغیر….سرگوشی کے انداز میں….ان کے چہرے پر سنجیدہ تاثرات عیاں تھے….
    درحقیقت….بمبئی (اب بمبئی)منتقل ہونے کے بعد میں شگاف یادراڑ اور سکولوں کی بابت سب کچھ فراموش کرچکا تھا حتیٰ کہ سکول کی چھٹیوں کے درمیان پشاور کے ہمارے ایک دورے کے دوران ایوب نے مجھے یا دہانی کرائی….سنسنی خیز کہانی ہنوز انپے معتبرپن کی حامل تھی اگرچہ اس وقت تک دادا اب حیات نہ تھے اور نہ زینے کے نیچے والا حصہ غیر ضروری اشیاءکے ڈھیروں اور گردوغبار سے ڈھکا پڑا تھا….ایوب اور میں نے ایک رات کے اندھیرے میں مخفی سکوںکو ڈھونڈ نکالا اور ہمیں احساس ہوا کہ یہ دادا کی من گھرٹ کہانی تھی جو انہوں نے ہماری تفریح طبع کے لیے گھڑی تھی اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا….ہم نے دکھ محسوس کیا اس وجہ سے نہیں کہ سکے دوگنا ہوئے تھے بلکہ اس وجہ سے کہ دادا ہمارے ساتھ ہنسنے کے لئے حیات نہ تھے۔
    (جاری ہے)

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    عورت ہونا جرم ہے؟ مادھوری ڈکشٹ کی نئی فلم نے تہلکہ مچا دیا

    سپر ہٹ بالی وڈ فلم ‘نو انٹری’ کا سیکوئل بننے کو تیار، ہدایتکار نے تصدیق کردی

    مومنہ اقبال کی رخصتی کب ہوگی؟ اداکارہ کی بہن نے بتادیا

    تازہ ترین

    وزیراعظم کی پی پی کو گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کی دعوت

    ایوان صدر کیلیے 2 ارب، وزیراعظم پبلک آفس کیلیے 92 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز

    گلبرٹو مورا نے رقم کی تاریخ، فیفا ورلڈ کپ میں میکسیکو کی نمائندگی کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بنے

    نیپال،مسافر بس گہری کھائی میں جا گری، آٹھ ہلاک، 16 زخمی

    کین ولیمسن کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.