Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • 5 ماہ کے دوران خلیجی ممالک سے 21 ہزار 951 پاکستانی ڈی پورٹ
    • سندھ میں فائر فائٹنگ نظام جدید بنانے کے لیے چینی کمپنی کی بڑی پیشکش
    • عمران خان نے ہمیشہ مجھ سے محبت کی، اب بھی ملاقات کی خواہش ہے:شعیب اختر
    • عامر خان نے معین اختر کی تمام اقساط مانگ لیں، کہا ایسا اداکار کبھی نہیں دیکھا ،aداکارہ ثروت گیلانی
    • عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا
    • چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے کو باضابطہ تسلیم کرنے کے لیے قانون منظور
    • عروج ممتاز نے پاکستانی فاسٹ بولنگ کے زوال کا ذمہ دار بابر اعظم کو قرار دے دیا
    • بانی پی ٹی آئی جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال روانہ
    • یمنی حوثیوں کے سعودی عرب میں نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے
    • سوشل میڈیا پر حکومت مخالف بیانیہ پھیلانے والے سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
    • پاکستانی بولر کا وسیم اکرم کی رہنمائی سے انکار، بھارتی صارف کا دعویٰ سابق کپتان نے من گھڑت قرار دے دیا
    • پاکستان کا ایک اور اعزاز،شاہ زیب خان نے ورلڈ تائیکوانڈو پریزیڈنٹ کپ میں کانسی کا تمغہ جیت لیا
    • ریاض ایئر کی پہلی پرواز لاہور پہنچ گئی، پاک سعودی فضائی روابط مزید مضبوط
    • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، ریٹ 5 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گیا
    • آئی سی سی نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم سے ڈی میرٹ پوائنٹ واپس لے لیا
    • پاکستان میں الرٹ: نیا میل ویئر حکومتی اداروں اور تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے
    • سعودی عرب یمن کے حوثیوں کو قابو نہیں کر سکے گا: پاسدارانِ انقلاب
    • ایران کا آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کا آئل ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ
    • کراچی کو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا مرکز بنانے کا بڑا منصوبہ
    • اسپیس ایکس راکٹ کی چاند سے ٹکر، ناسا نے گڑھے کی تصویر جاری کر دی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    تنخواہ، مہنگائی اور عوام الناس

    By Daily Khabrainجولائی 26, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ڈاکٹر عاصم ثقلین
    کل ایک اٹھارہ گریڈ کے پروفیسر نے میرے سامنے انتہائی دُکھ کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا کہ اس سال میں قربانی نہیں کرسکاکیونکہ اگر قربانی کرتاتو بقیہ تنخواہ سے اگست تک کے تمام اخراجات کس طرح پورے ہوتے۔ صاحب فرما رہے تھے کہ وہ اس امید سے تھے کہ اس ماہ تنخواہ کے ساتھ ملنے والے اضافے سے قربانی کے لیے کوئی جانور خریدنے کے قابل ہوں گے لیکن اس بار ایک تو قربانی کے جانوروں کی گرانی اور دوسرا اس ماہ اضافے کی بجائے تنخواہ سے کنوینس الاؤنس کی مد میں کٹوتی نے تنخواہ دار لوگوں کو حیران و ہلکان کر دیا گیا۔ شاید پہلی بار اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا ہے کہ حکومتی اربابِ اختیار کے اعلانات کے باوجود ماہِ جون کی تنخواہ میں کیا گیا اضافہ اگست کی تنخواہ کے ساتھ بھی نہیں مل پایا۔اب اللہ ہی جانے کہ یہ تاخیرتمام سرکاری ملازمین کی نظر میں اس حکومت کا بگڑا ہوا امیج مزید بگاڑنے کی سازش ہے یادفتری کاغذات کووقت پر سیاہ نہ کر سکنے کی وہ روایتی سُستی جس کے سرکاری عہدہ داران ہمیشہ سے عادی رہے ہیں۔۔۔ بہر حال یہ طے ہے کہ اگست کی بلا اضافہ ملنے والی تنخواہ سے سرکاری (غیر مراعات یافتہ) ملازمین کی سخت دل شکنی ہوئی ہے جو شاید یکم ستمبر تک کسی صورت کم ہونے والی نہیں۔
    دوسری طرف مہنگائی کا جن ہے کہ کسی طور قابو میں نہیں آ رہا۔یوں بھی مہنگائی اور معیشت کے کچھ گنجلک معاملات ہماری کم فہمی سے ہمیشہ ماوراء ہی رہے ہیں۔ اگر چہ بی۔اے میں اکنامکس بھی پڑھی تھی لیکن اس کے بعد علم معاشیات کا جنرل نالج ”مساوی افادہ مختتم“ اور ”تقلیلِ افادہ مختتم“کی رٹی رٹائی دو دو مثالوں سے آگے نہیں بڑھ پایا۔ کچھ عرصہ قبل تو یہ بات بہ آسانی سمجھ آ رہی تھی کہ روپے اور ڈالر کے تناسب میں پیدا کردہ جعلی استحکام ختم کرنے اور روپے کو انٹرنیشنل مارکیٹ میں اس کے اصل مقام پر لانے کی وجہ سے چوں کہ ڈالر کی قیمت ڈیڑھ گنا سے بھی زیادہ ہو گئی اس لیے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ نا گزیر تھا لیکن پریشان کُن امر یہ ہے کہ روپے اور ڈالر کا یہ مد وجزر تو ایک ہی بار آیامگر مہنگائی کے بھنور کا دائرہ تو عوام الناس کے لیے مسلسل بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ نچلا اور مفلس طبقہ تو ہمیشہ ہی سے ہماری مائل بہ زوال معیشت کا شکار رہا ہے مگر اب تو وہ لوگ بھی مہنگائی کے عذاب سے ہلکان ہیں جو بظاہر مڈل کلاس کی کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں عام آدمی کی رسائی سے دور ہو رہی ہیں۔پٹرول اور پھر پٹرول کے ساتھ ساتھ آٹا، گھی، چینی اور دال تک کی قیمتیں تسلسل کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔
    اب تو لوگوں نے حکومتی ”صاحبانِ اقتدار“ سے کسی شے کی مہنگائی اور گرانی کاشکوہ کرنا بھی اس لیے چھوڑ دیا ہے کہ کہیں ہمارے حکمران خدا نخواستہ کسی ”مافیا“ کے خلاف حرکت میں نہ آجائیں اور جواب آں غزل کے طور پر وہ مافیا اُسی شے کی قیمت مزیدبڑھانے پر نہ تُل جائے کیوں کہ ماضی قریب میں ایسی ہر لڑائی کا آخری شکار عوام ہی بنتے نظر آئے ہیں۔وقت اور حالات آہستہ آہستہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ پاکستان میں قوت و اختیار کا ہر منبع کسی خاص شعبے، گروہ یا طبقے کی بجائے محض کرپٹ مافیاز کی گرفت میں ہے۔ اور یہ مافیاز اپنی ادھر ادھر سے لُوٹی ہوئی دولت کے بل پرمعاشرے میں اپنی جڑیں اس قدر مضبوط کر چکے ہیں کہ کوئی فرد ِ واحد کیا بڑے بڑے اور طاقت ور محکمے بھی ان کے سامنے بے بس ہیں۔
    بہت سوچنے کی بات ہے کہ آخر ہمارے ہاں ہی کیوں لوگوں کا لالچ اور حرص کم نہیں ہوتا۔ امیر کی دولت کے ساتھ ساتھ اس کی مادیت پرستی بھی کیوں بڑھتی رہتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ روپے کما کر، فیکٹریوں پر فیکٹریاں،کارخانوں پر کار خانے اور پلازوں پر پلازے بنواکر بھی دولت مندطبقہ آخر ایک زندگی میں کتنی زندگیوں کے لیے مال بٹورنا چاہتا ہے؟ اس کی ہوسِ زر کہیں تھمتی کیوں نہیں؟ بقول ِ عرفان ستار:
    کہیں تو جا کے سمٹے گا ترا کارِ جہاں بانی
    کبھی تو تُو بھی دیکھے گا کہ ویرانی کہاں تک ہے
    کاش ہمارے ہاں موجود طبقہئ امرا کبھی دیکھ پاتا کہ مفلس و نادار کے گھر کی ویرانی کس قدر بڑھ چکی۔ کاش عام آدمی کے خون تک کو مال و زرمیں ڈھال کر لوٹ لینے کی خواہش رکھنے والا یہ بے حس مافیا ذرا سوچ ہی سکتا کہ سارا دن اینٹیں اور مٹی ڈھو کر پانچ چھ سو روپیہ کمانے والے اُس مزدور کے لیے گھی کی قیمت کا تین سو روپے کلو ہو جانا کیا معنی رکھتا ہے جس کے بچے سارا دن اس انتظار میں رہتے ہوں کہ ابا جب رات کوواپس آئے گا تو ہمارے گھر میں روٹی بھی پکے گی۔
    ہم اپنے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ پینسٹھ کی جنگ کے دوران میں نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان نے جو اس وقت اس مغربی پاکستان کے گورنر تھے، اشیائے خور و نوش کی قیمتیں نہیں بڑھنے دی تھیں کہ اس طرح عوام الناس کی تکلیف میں اضافہ ہوگا۔ ممکن ہے ارض پاک کے موجودہ اربابِ اختیار یہ سمجھتے ہوں کہ اب ہم چوں کہ الحمدللہ حالتِ جنگ میں نہیں بلکہ صورتِ امن میں ہیں، اس لیے ہر چیزکی قیمت ہر روز بڑھا کر عوام کی تکلیفوں میں اضافہ بہ آسانی کیا جا سکتا ہے۔
    ابھی کچھ روز قبل تکلیفوں میں گھِرا ایسا ہی ایک آدمی اپنی مشکلات کا ذکر کرتے کرتے یہ کہہ کر چلتا بنا کہ آخرِ کار ہمیں پریشان کرنے والے یہ لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اس لیے پریشانیوں اور مشکلات میں پھنسے یہ عوام کم از کم شاباش کے مستحق تو بنتے ہیں جو ایسے حالات اور ایسی مہنگائی میں بھی پُر سکون رہنے کا بہانہ ہی ڈھونڈ لیتے ہیں۔اپنی اُجڑی دنیا دیکھ کر کسی کی آخرت کی بربادی کے یقین سے خود کو تسلی دے لیتے ہیں۔
    (کالم نگار ممتازماہرین تعلیم ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.