Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف
    • جعلی نمبر پلیٹ پر معروف یوٹیوبر رجب بٹ کی لینڈ کروزر تھانے بند، ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج
    • محنت کش خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا، چوہدری سالک حسین
    • چوہدری سالک کی کوششوں سے پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع ملے، غلام مصطفی
    • پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نظرثانی کے بعد3.65 فیصد رہ گئی
    • جاپان نے مریخ کے چاند فوبوس سے مٹی کے نمونے لانے کیلئے خلائی مشن روانہ کر دیا
    • بنگلا دیش کا جوہری توانائی کے شعبے میں تاریخی سنگِ میل عبور
    • امریکہ میں پاکستان کے سفیر کی امریکی انویسٹرز کو پاکستان میںسرمایہ کاری کی دعوت
    • ہیڈکوارٹرز میں لائیو ای کچہری ڈیجیٹل والٹ ادائیگیوں میں انٹرآپریبلٹی متعارف
    • بورڈ آف انٹر میڈ یٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی میں منعقدہ وزیر اعلی پنجاب کیش پرائز ایوارڈ تقریب کے دوران پروفیسر ڈاکٹر اقبال محمود ،میٹرک پہلا سالانہ امتحان2026کے پوزیشن ہولڈرطلبا وطالبات سے اظہار خیال کر رہے ہیں ۔
    • برطانیہ کا اسرائیلی آبادکاری منصوبے میں حصہ لینے والے افراد پرپابندیاں عائد کرنیکا اعلان
    • پنجاب بینک کی اسلام آباد نووا کیئرہسپتال کیلئے 17ارب کی اسلامی پراجیکٹ فنانسنگ
    • لاہور:ریلوے کوارٹرز کے متاثرین اپنے مطالبات کے حق میں ہیڈ کوارٹر آفس لاہور میں احتجاج کر رہے ہیں۔
    • یوکرین کے روسی ٹیکنالوجی کمپنی کے ڈیٹا سینٹرز پر حملے، لاکھوں افراد کی رقم تک رسائی متاثر
    • ٹرمپ کو قتل کی دھمکیاں دینے والا امریکی شہری گرفتار، مقدمہ درج
    • وزیراعلیٰ سندھ کی کابینہ کو دورہ چین پر بریفنگ، سرمایہ کاری کے 34 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں
    • لاہور:کسان اپنے کھیت میں فصل اگانے سے پہلے ٹریکٹر کی مدد سے سطح ہموار کر رہا ہے۔
    • سرگودہا ‘ تیزرفتار کار بے قابو ہو کر نہر میںگرگئی ،ڈرائیور جاں بحق
    • پاک امریکہ معدنیات ‘ کان کنی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
    • فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں ورلڈ پولیو ڈے پر تقریب کا انعقاد
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    طالبان کی طاقت

    By Daily Khabrainاگست 27, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    سردارآصف احمدعلی
    پندرہ اگست کے بعد افغانستان میں اب تک مشروط حکومت نہیں بن سکی لیکن طالبان اس عمل میں پوری طرح مصروف ہیں اور اب تو تحریک طالبان کے سینئر قائدین کابل پہنچ چکے ہیں۔ شمالی افغانستان کے قائدین کا ایک وفد پاکستان کا دورہ بھی کر چکا ہے اور وفد کے قائدین نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ٗ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں بھی کر لی ہیں۔ کابل میں اب جناب حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ بھی طالبان کے قائدین کے ساتھ بہت سی میٹنگیں کر چکے ہیں اور گزشتہ دنوں انجینئر گلبدین حکمت یار نے بھی طالبان کے قائد کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ اس سارے عمل میں پاکستان کا ایک کلیدی کردار نظر آ رہا ہے۔ چاہے وہ وزیر خارجہ ہوں یا کابل میں پاکستان کے سفیر ہوں، یہ عمل تو اب ہم نہیں جانتے کہ کب تک جاری رہے گا لیکن کچھ ایسی ڈویلپمنٹس ضرور ہوئی ہیں جو قابل ذکر ہیں جو حسب ذیل ہیں۔
    (1 مغربی میڈیا اور مغرب کی قیادت کے رویئے اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور تاثر یہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طالبان افغانستان کی حکومت نہیں چلا سکیں گے اور آئندہ افغانستان میں خانہ جنگی کے امکانات ہیں۔
    (2 بین الاقوامی رپورٹنگ کا محور کابل ایئرپورٹ بن چکا ہے اور یوں لگتا ہے کہ مغرب کی دلچسپی صرف اسی ایئرپورٹ پر ہے نہ کہ افغانستان کے عوام پر یا ان کے مستقبل پر۔ یہ بتانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ افغانستان کے عوام طالبان سے خوفزدہ ہیں اور وہ بیرونی ممالک میں جانا چاہتے ہیں۔
    (3 مغرب کے اندازوں کے مطابق خانہ جنگی کی جوپیشگوئی کی گئی تھی اور وہ کسی حد تک درست بھی نظر آ رہی ہے کیونکہ ایک سابق نائب صدر نے پنج شیر وادی میں جا کر اعلان بغاوت کر دیا ہے۔
    (4 اب یاد رہے کہ وادی پنج شیر چاروں طرف سے طالبان کے گھیرے میں ہے اور وہ اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے اور مصالحت کی طرف معاملات کو لے کر جانا چاہتے ہیں۔ ابھی تک پنج شیر کی قیادت نے اس بات کا جواب نہیں دیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ پنج شیر وادی پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے اور اس پر حملہ کرنا یا قبضہ کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ جب روس کا افغانستان پر قبضہ ہوا تو انہوں نے بھی پنج شیر وادی کو اس کے اپنے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ کچھ ایسا ہی ملا عمر کے دور میں ہوا جبکہ پنج شیر وادی کو انہوں نے بھی اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ روس کی پالیسی سے اور نہ ہی ملا عمر کی پالیسی سے پنج شیر وادی کا افغانستان پر کوئی اثر پڑا۔ اب بھی طالبان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پنج شیر میں وہ اپنا مورچہ بنائے رکھیں گے اور وہ وہاں سے باہر نہیں آ سکیں گے۔ اس طرح بھی ہے کہ پنج شیر کی آبادی تمام کی تمام تر تاجک قومیت پر مشتمل ہے اور باقی افغانستان میں تاجک بہت کم ہیں اور بڑی بھاری اکثریت پختونوں کی ہے لہٰذا پنج شیر سے جو امیدیں بیرونی ممالک لگائے بیٹھے ہیں، ان کو بڑی سخت مایوسی ہوگی۔ نہ ہندوستان وہاں سے کچھ پا سکے گا اور نہ ہی مغربی قوتیں کچھ حاصل کر پائیں گی۔
    (5 پاکستان کے لئے خوشخبری ہے کہ افغان طالبان نے یہ اعلان کیا ہے بلکہ ایک کمیٹی بھی بنا دی ہے جس کے تحت وہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کا سدباب کریں گے۔ پاکستان بڑا مثبت کردار ادا کر رہا ہے اور اب تک ہزاروں لوگوں کو وہاں سے بذریعہ ٹرک اور ہوائی جہاز نکال چکا ہے۔
    (6 سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا طالبان ایک مخلوط حکومت بنا سکیں گے یا نہیں اور اگر مخلوط حکومت بنتی ہے تو وہ اتحادیوں کو اقتدار میں کس قدر حصہ دینا پسند کرے گی۔ اس میں پیچیدگی یہ ہے کہ جو شمالی علاقے ہیں، ان کے قائدین کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کو ساتھ ملانا طالبان کی کوئی مجبوری ہے اور اس سے وہ اپنی قیمت کو زیادہ بڑھا نہ لیں۔ اس نکتے پر ہی سمجھوتہ ہوگا یا پھر نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اب افغانستان میں طالبان کا 99 فیصد قبضہ ہے۔ اس حقیقت کو اگر شمالی اتحاد والے بھول گئے تو پھر وہ افغانستان کے ساتھ زیادتی کریں گے۔ وہ اپنی طاقت کے مطابق اپنا حصہ مانگیں تو پھر بات بن سکتی ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ طالبان اتنی بڑی طاقت بن چکے ہیں کہ اب انہیں اقتدار میں بہت بڑا حصہ دینا پڑے گا۔ آئندہ حکومت میں صدر بھی انہی کا ہونا چاہئے۔ وزیر خارجہ ٗ وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ اور وزیر اندرونی سیکورٹی وہ بھی انہی کے بنانے پڑیں گے۔ اگر کچھ مزید نائب صدور بنانے ہوں گے تو پھر ایک تاجک نائب صدر بن سکتا ہے اور ایک ترک قومیت کا نائب صدر بن سکتا ہے۔ کچھ اس طرح سے اقتدار میں حصہ داری ممکن ہوگی۔ مگر بالآخر یہ افغانیوں ہی کا فیصلہ ہے اگر اس نوعیت کا فیصلہ ہو گیا تو پھر ساری دنیا اس حکومت کو تسلیم کرلے گی اور اگر یہ فیصلہ نہ ہو سکا تو اس کی ساری کی ساری ذمہ داری شمالی اتحاد کے اوپر آئے گی اور حامد کرزئی پر آئے گی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ پر آئے گی۔
    اس وقت یہ سوال اٹھے گا کہ کیا افغانستان کو تسلیم کیا جائے یا نہیں۔ اگر یہ وقت آتا ہے تو پاکستان کو کیا کرنا ہے۔ میری تجویز یہ ہے کہ پاکستان کو فوری چین ٗ روس ٗ ایران اور ترکی کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے اور پھر یہ پانچوں ملک مل کر یہ فیصلہ کریں کہ بیک وقت افغان حکومت کو تسلیم کر لیں۔ اس کے بعد اس میں دنیا کے دیگر بہت سے ممالک بھی شامل ہو جائیں گے کیونکہ سیکورٹی کونسل کے دو مستقل ممبر اس فیصلے میں شریک ہوں گے اور وہ ہیں چین اور روس۔
    (کالم نگار سابق وزیرخارجہ اورممتاز ماہرمعیشت ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.