Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے بھیجا گیا خط عباس عراقچی کو موصول
    • اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہونے والے لبنانی فوجی افسران کی آخری رسومات ادا
    • ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر کا خدشہ، کئی شہروں میں درجہ حرارت 51 ڈگری تک جانے کا امکان
    • گرمی سے نجات کا قدرتی نسخہ؛ املی اور ادرک کا ٹھنڈا شربت صحت کا بھی محافظ
    • سولر پینلز کی نئی قیمتیں سامنے آ گئیں
    • اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کو ‘سپر ایپ’ بنانے کا فیصلہ
    • مومنہ اقبال کی رخصتی کب ہوگی؟ اداکارہ کی بہن نے بتادیا
    • ایک خاتون اسپتال زندگیاں بچانے گئی اس پر تیزاب پھینک دیاگیا، ماہرہ کوئٹہ واقعے پر کانپ اٹھیں
    • تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کا طبی معائنہ مکمل، طبیعت اب کیسی ہے؟
    • 15 سالہ بیٹر ویبھو سوریا ونشی کو بھارتی کرکٹ ٹیم کے ساتھ رکھنے کا فیصلہ
    • لیجنڈ ریسلر ہلک ہوگن کی موت کی وجہ سامنے آگئی، تحقیقات مکمل
    • ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے اندر بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا
    • امریکا میں فیسٹیول کے دوران فائرنگ؛ کم از کم 12 افراد زخمی
    • بیرونِ ملک جانے کی کوشش؛ صوبائی وزیر تعلیم مینا خان کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا
    • لبنان کے آرمی چیف سرکاری دورے پر پاکستان کیلئے روانہ
    • ملک میں گرمی کی شدید لہرکا خدشہ،7 سے 12 جون کے دوران ہیٹ ویو کی وارننگ جاری
    • لاہور: سی ٹی ڈی کی کارروائی، 2 دہشت گرد ہلاک
    • گلگت بلتستان کے عام انتخابات
    • مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سردار صفدر خان لغاری انتقال کر گئے
    • غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اہلِ کشمیر کی صحرانوردی

    By Daily Khabrainفروری 8, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    محمد صغیر قمر
    جب کوئی قوم خود اپنی بقاکی جنگ سلیقے سے نہ لڑ سکے،اپنی آزادی کی کو یقینی بنانے کی جدوجہد کے لیے د وسروں سے امیدیں وابستہ رکھے تومنزلیں یوں ہی کھو جاتی ہیں۔جیسے بنواسرائیل چالیس سال تک جہاد سے انکار کے بعد صحرانوردری کی سزا بھگتتے رہے۔
    جموں کشمیر پون صدی سے ایک غیراعلانیہ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔جس میں لاکھوں انسان موت کی نیند سلا دیے گئے۔لاکھوں ہجرت پر مجبور کیے گئے۔ہزاروں بندی خانوں میں ڈالے گئے۔جائیدادیں تباہ اور گھر مسمار کر دیے گئے۔ظلم کی رات طویل ہوتی گئی اوراہل کشمیر ظلم کی متعین تاریخوں کے ”یوم“منانے پر راضی کر لیے گئے۔ تین نسلیں اپنی آزادی کو یقینی نہ بنا سکیں۔یہ مانا کہ کشمیر کے خمیر میں رزم آرائی کم رہی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ تیس برسوں میں کشمیریوں نے جبر کے سامنے سینہ سپر ہو کربھارت کے چھکے چھڑادیئے۔ اس جدوجہد کو ترک نہیں ہونا چاہیے،حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں،بھارت جوزبان سمجھتا ہے اسی میں بات کرنا،کشمیریوں کا مقدر بدل سکتا ہے۔دنیا کتنی ہی بدل جائے،طاقت کی زبان استعمال کرنے والے ہی سرخرو ٹھہرتے ہیں۔مطالبے،نعرے اور قرارادادیں اپنی جگہ لیکن اہل کشمیر نے اس پون صدی کی دو دہائیوں میں جو سبق بھارت کو سکھایا ہے وہی کارگر تھا اور رہے گا۔
    پاکستان اور عالم اسلام سے ریاست کی آزادی کی مدد طلب کرنے والوں سے اب ریاست کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ اگر وہ آزادی کے لیے خود کچھ نہیں کر سکتے تو دوسروں کو اس کا ذمہ دار کیسے قرار دے سکتے ہیں۔گزشتہ تیس برسوں سے ریاست کی کچھ ”قیادت“ آزادکشمیر اور پاکستان میں آ بسی ہے۔ الا ما شااللہ چند ایک کو چھوڑ کر یہ سب تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی یہاں ”مہمان“ کی حیثیت میں رہتے ہیں اور پورا پروٹوکول بھی مانگتے ہیں۔ یہ لوگ پاکستانیوں سے شکوے بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے ”کچھ“ نہیں کیا۔ اس ربع صدی میں ان کی دوسری نسل بھی جوان ہو کر’”اپنے اپنے“ گھروں میں منتقل ہو چکی ہے اور تیسری نسل کو خبر ہی نہیں کہ کشمیر بھی کوئی مسئلہ تھا یا ہجرت کا کرب بھی کوئی کرب ہوتا ہے۔یہ المیہ ہے اور اس کا شکوہ بھی اپنے آپ سے بنتا ہے۔
    شیخ عبداللہ جیسا آدمی جس طرح ڈگڈی پر معصوم سادہ لوح کشمیریوں کو نچاتا تھا، پاکستان کی نشانیاں بتا کر محبت کی اداکاری کرتا تھا۔یکے بعد دیگرے اس کی اصلی اور معنوی اولاد نے جموں کشمیر کے عوام کے ارمانوں، آرزوؤں اور جذبات سے کھیلنا جاری رکھا اور کشمیری عوام ان کے وعدوں پر یقین کرتے رہے۔ یہ اداکار آج بھی ہمارے اندر زندہ ہیں اور ان کی اداکاری اب بھی باقی ہے۔ آج کا جموں وکشمیر جس انجام سے دوچار ہے،اس کو سمجھنے کے لیے کسی افلاطونی دماغ کی ضرورت نہیں۔ اس خطے کی قیادت چاہے وہ خود مختاری کے نظریے کی حامی ہے یا پاکستان سے الحاق کی متمنی یا آمریت کے تیار شدہ چار نکاتی پالیسی کی ترجمان، یہ سب افتراق اختلاف اور انتشار کی گہری خلیج کے آر پار کھڑے ہیں۔ حالیہ تحریک کے دوران ایک لاکھ سے زائد انسانوں کی قربانی اور ماضی کے چار لاکھ شہیدوں کا لہو دینے والے یہ لوگ جموں وکشمیر کے عوام کے ہی نہیں اپنے ضمیر کے سامنے بھی جواب دہ ہیں۔ کشمیریوں کے پاس اب دو ہی آپشن باقی ہیں۔ ایک یہ کہ جموں وکشمیر کی ”قیادت“ تمام تر اختلافات ختم کر کے آزادی اور صرف آزادی پر اتفاق کرلے۔ دوسرا یہ کہ قیادت کے منصب کو ترک کر کے کشمیری عوام کے کندھوں سے اتر جائیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ کشمیر کے عوام اپنے مزاج کے عین مطابق ان کو اتار پھینکیں گے۔ آج جب ریاست جموں کشمیر کے مستقبل پر گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں ”قیادت“ کاسرد مہر ی دکھانا،کسی معجزے کا انتظار کرنا،جیلوں میں سڑتے،ہجرت کے راستے پر پڑے بے بس لوگوں اور شہیدوں کے ورثاء سے لاتعلق رہنا،سیادت کے ”تمغے“اور بغل کی بیساکھیاں چھین لے گا۔صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اگر ہماری موجودہ آر پارکشمیری قیادت اپنا کوئی رول ادا نہ کر سکی اور محض طفل تسلیوں پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو احتجاجوں کی تصاویر بھیج بھیج کر بہلاتی رہی تو بہت جلد کشمیر کے اندر سے متبادل وہ لوگ اٹھیں گے جو اس جدوجہد کا دھارا بدل سکتے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں گرم لوہے پر چوٹ لگانے کا وقت ایک ہی بار آتا ہے اور وہ چند لمحے ہی ہوتے ہیں۔یہ لمحے گزر رہے ہیں۔مقبوضہ جموں کشمیر میں ہماری اس سہل انگیزی کا شدید ترین ردعمل ہو سکتا ہے۔یہاں تک کہ محصور لوگ کسی ایسے ”سیٹ اپ“ پر اتفاق کر لیں جو خالصتاًمیدان کارزار سے تعلق رکھتی ہو اور”باہر“ بیٹھنے والوں کو ہمیشہ کے لیے باہر کردیں۔
    ریاست کا ہر فرد آج قائدین سے سوالی ہے۔اس کی التجاؤں اور تمناؤں کا جواب ان میں سے کس کے پاس ہے؟قربانیوں، جراتوں اور ہمتوں کی لازوال داستان اس قیادت کے علاوہ اور کون جان سکتا ہے؟ اس لہو کی قدر کون پہچان سکتا ہے؟ جس کی اولاد ذبح ہو جائے، گھر بار لٹ جائے، وہ قاتل کے ساتھ کس قیمت پر صلح کے لیے تیار ہوں گے۔ وہ قاتل پر اعتماد اور دوستوں پر عدم اعتبار کا مظاہرہ کیسے کر سکتا ہے۔
    (متعدد کتابوں کے مصنف‘شعبہ تعلیم
    سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    گلگت بلتستان کے عام انتخابات

    کیا پاکستان کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟

    میری اننگ اب اختتام کو پہنچی!

    تازہ ترین

    ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر کا خدشہ، کئی شہروں میں درجہ حرارت 51 ڈگری تک جانے کا امکان

    سولر پینلز کی نئی قیمتیں سامنے آ گئیں

    تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کا طبی معائنہ مکمل، طبیعت اب کیسی ہے؟

    لیجنڈ ریسلر ہلک ہوگن کی موت کی وجہ سامنے آگئی، تحقیقات مکمل

    بیرونِ ملک جانے کی کوشش؛ صوبائی وزیر تعلیم مینا خان کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.