پشاور: (ویب ڈیسک) حکومتی اتحادی کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023ء کی منظوری کا خیر مقدم کیا گیا۔
اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے ذریعے عدالت اور آئین دونوں مضبوط ہوں گے، آئین پاکستان کے تحت پارلیمان قانون ساز سپریم ادارہ ہے جس کی بالادستی نظر آنی چاہیے، مذکورہ قانون سازی کے ذریعے افراد کی بجائے ادارہ مزید طاقتور ہو گیا ہے، ہمارا روز اول سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ افراد کی بجائے آئینی اداروں کو مضبوط کیا جائے۔
ایمل ولی خان نے کہا ججز کو نہیں عدالتوں کو بااختیار اور آئینی دائرہ اختیار کے مطابق اختیارات تفویض کئے جائیں، اراکین پارلیمنٹ کی بجائے پارلیمنٹ کو مضبوط کریں اور آئین و پارلیمان کی بالادستی قائم کی جائے، عدالتوں کو بھی یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ ان کا جھکاؤ ایک خاص سیاسی جماعت کی طرف ہے، سینئر ترین جج کو باہر رکھنا اور مخصوص ججز کو شامل کرنا عدالت عظمیٰ پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
Trending
- مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
- قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
- سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
- مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
- آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
- معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
- صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
- گوگل ماہرین کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش
