Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • مشہور گانوں کے حقوق چوری ہوئے،ابرار الحق کا قانونی کارروائی کا اعلان
    • اسرائیلی افواج کو لبنان شام اور غزہ کے سیکورٹی زون میں روکنے کا فیصلہ
    • ہیملٹن کی فراری کے ساتھ پہلی فتح، اسپینش گراں پری جیت لی
    • برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی امریکا ایران معاہدے کے بعد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار
    • واٹس ایپ میں ایک بہترین فیچر کا اضافہ
    • فیفا ورلڈکپ جاپان کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں صفائی کی روایت کو برقرار رکھا
    • نیتن یاہو میں پرکھنے کی صلاحیت نہی صدر ترمپ
    • امریکا اور ایران کی بڑی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اسحاق ڈار
    • روس نے رات بھر یوکرین پر 70 میزائل اور 611 ڈرون داغ دیے
    • امریکا ایران جنگ ختم معاہدہ طے پاگیا
    • آبنائے ہرمز کھولنے سے منجمد فنڈز کی ریلیز تک، امریکہ-ایران امن معاہدے کی 14 اہم شرائط سامنے آ گئیں
    • برازیل: 2 ہیلی کاپٹرٹکراگئے، معروف گلوکار اولیور ٹری سمیت 6 افراد جاں بحق
    • فیفا ورلڈ کپ 2026: جرمنی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم بن گئی
    • امریکہ میں طیارہ حادثہ، 12 افراد ہلاک
    • ایران امریکا معاہدہ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد گرگئیں
    • سوئیڈن نے تیونس کو 1-5 سے شکست دیدی
    • شہباز شریف نے امریکا اور ایران امن معاہدہ طے پانے کا اعلان کردیا
    • چینی کا استعمال مکمل ختم کرنا صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے، تحقیق
    • ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ہائی پروفائل تقریب میں اپنی 80ویں سالگرہ منائی
    • افغانستان میں موجود دہشتگرد پورے خطے کیلئے بڑا خطرہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اوپن اے آئی میرا آئیڈیا تھا، جسے بڑے لوگوں نے چرایا: ایلون مسک کا دعویٰ

    By Khabrain Newsاپریل 29, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ایلون مسک نے اوکلینڈ، کیلیفورنیا میں ایک اہم مقدمے کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی دراصل ان کا آئیڈیا تھی، جسے بعد میں اس کے منتظمین نے اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایلون مسک نے اوپن اے آئی کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے، جس میں انہوں نے کمپنی کی موجودہ انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ منگل کے روز شروع ہونے والے اس اہم مقدمے میں ایلون مسک نے موقف اختیار کیا کہ اوپن اے آئی دراصل ان کا اپنا آئیڈیا تھا، لیکن بعد میں اس کے عہدیداروں نے اسے چرالیا۔

    ایلون مسک نے کہا کہ اوپن اے آئی کو انہوں نے اس مقصد کے لیے شروع کیا تھا کہ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہو جو انسانیت کے فائدے کے لیے کام کرے۔ ان کے مطابق کمپنی کو بعد میں ایک منافع کمانے والے ادارے میں تبدیل کر دیا گیا، جو ان کے بقول اصل وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔

    مسک نے عدالت میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی خیراتی ادارے کو اس طرح تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی تو امریکا میں فلاحی کاموں کی بنیاد ہی کمزور ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی کا مقصد کسی فرد کو فائدہ پہنچانا نہیں تھا بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی تھا۔

    اپنی گواہی میں ایلون مسک نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نہ صرف اس منصوبے کا خیال پیش کیا بلکہ اس کا نام رکھا، اہم افراد کو ٹیم میں شامل کیا اور ابتدائی مالی مدد بھی فراہم کی۔ ایلون مسک کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر اسے منافع کمانے والا منصوبہ نہیں بنایا تھا۔

    دوسری جانب اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سَم آلٹمین کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شروع ہی سے ایلون مسک کے عزائم مختلف تھے۔ ان کے مطابق مسک نے کمپنی کی ابتدائی ترقی میں سرمایہ کاری کی اور بعد میں اسے ایک کاروباری ادارہ بنانے کی کوشش کی تاکہ وہ خود اس کے سربراہ بن سکیں۔ وکلاء نے یہ بھی کہا کہ مسک نے اس مقدمے کا سہارا اس وقت لیا جب انہیں اپنی مرضی کا نتیجہ نہیں ملا۔

    اوپن اے آئی کے وکلاء کے مطابق کمپنی کو 2019 میں ایک منافع بخش ڈھانچے کی طرف لے جانا اس لیے ضروری تھا تاکہ جدید کمپیوٹنگ وسائل حاصل کیے جا سکیں اور ماہر سائنسدانوں کو برقرار رکھا جا سکے، خاص طور پر گوگل جیسے بڑے اداروں کے ساتھ مقابلے کے لیے۔

    مقدمے میں ایلون مسک نے اوپن اے آئی اور اس کے شراکت دار مائیکروسافٹ سے 150 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ کمپنی کو دوبارہ غیر منافع بخش ادارہ بنایا جائے اور اس کی موجودہ قیادت کو ہٹا دیا جائے۔

    دوسری طرف مائیکروسافٹ کے وکیل نے کہا کہ کمپنی نے ہر مرحلے پر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں کی گئی۔

    عدالت میں جج نے ایلون مسک کو سوشل میڈیا پر اپنے بیانات کے حوالے سے بھی تنبیہہ کی، خاص طور پر ان پوسٹس پر جن میں انہوں نے اوپن اے آئی کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مسک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنی سوشل میڈیا سرگرمی کم کریں گے۔

    یہ مقدمہ نہ صرف اوپن اے آئی کی قیادت اور اس کی ساخت پر سوالات اٹھا رہا ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت اور اس کے مستقبل پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

    Khabrain News

    Keep Reading

    واٹس ایپ میں ایک بہترین فیچر کا اضافہ

    یورپی یونین کا میٹا کو بڑا حکم!

    اے آئی استعمال کرنے والی کمپنیوں کی آمدنی میں بہتری، نئی رپورٹ جاری

    تازہ ترین

    فیفا ورلڈکپ جاپان کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں صفائی کی روایت کو برقرار رکھا

    آبنائے ہرمز کھولنے سے منجمد فنڈز کی ریلیز تک، امریکہ-ایران امن معاہدے کی 14 اہم شرائط سامنے آ گئیں

    برازیل: 2 ہیلی کاپٹرٹکراگئے، معروف گلوکار اولیور ٹری سمیت 6 افراد جاں بحق

    فیفا ورلڈ کپ 2026: جرمنی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم بن گئی

    امریکہ میں طیارہ حادثہ، 12 افراد ہلاک

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.