کینسر کی مریضہ سے 27 کروڑ روپے کا فراڈ: ن لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر کے خلاف 3 مقدمات درج
لاہور: پنجاب کے دارالحکومت میں مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) ثاقب چڈھر ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کی زد میں آ گئے ہیں۔ کینسر کی مریضہ سے کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی اور بوگس چیک دینے کے الزام میں ان کے خلاف تین الگ الگ ایف آئی آرز درج کر لی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی لاہور کے تھانہ ڈیفنس اے میں متاثرہ خاتون، ماہ رخ عارف، کی شکایت پر کی گئی ہے۔ مقدمات کے مطابق اس فراڈ میں مجموعی طور پر 27 کروڑ روپے مالیت کے تین چیکس کے باؤنس ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
جائیداد کا سودا اور دھوکہ دہی کی تفصیلات
متاثرہ خاتون ماہ رخ عارف نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہیں اور انہیں اپنے علاج معالجے کے اخراجات کے لیے پیسوں کی شدید ضرورت تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی قیمتی جائیداد فروخت کرنے کا فیصلہ کیا اور مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ثاقب خان سے رابطہ کیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ:
-
انہوں نے ڈیوس روڈ پر واقع اپنی 60 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کا سودا ثاقب خان اور اکبر خان نامی افراد سے کیا۔
-
ادائیگی کے طور پر ملزمان نے انہیں 9، 9 کروڑ روپے کے 3 چیک دیے، جن کی کل رقم 27 کروڑ روپے بنتی ہے۔
چیک باؤنس اور پولیس کارروائی
ایف آئی آر کے مطابق جب خاتون نے یہ چیک کیش کروانے کے لیے بینک میں جمع کرائے تو ملزمان کے کھاتے میں رقم نہ ہونے کے باعث تینوں چیک ڈس آنر ہو گئے۔ بعد ازاں جب انہوں نے ایم پی اے ثاقب خان اور ان کے ساتھی سے اپنی رقم کا تقاضا کیا تو انہوں نے پیسے دینے سے واضح انکار کر دیا۔
پولیس نے کینسر کی مریضہ کی مدعیت میں ن لیگی ایم پی اے ثاقب خان اور اکبر خان کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کر کے معاملے کی قانونی تفتیش شروع کر دی ہے۔
