جارج ٹائون (آئی این پی) برطانیہ کے شاہ چارلس نے اپنے کیریبین خطے کے تیز رفتار دورے کے دوران گیانا میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور نوآبادیاتی دور میں ڈھائے جانے والے مظالم کا جائزہ لیا۔ عالمی خبر رساں ادارے مطابق اگرچہ برطانوی بادشاہ کا تین کیریبین ممالک پر مشتمل یہ نو روزہ دورہ بنیادی طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں پر توجہ مبذول کرانے کے لئے ترتیب دیا گیا تھا لیکن اس دورے کے دوران بھی غلامی کی تجارت اور نوآبادیاتی رعایا کے ساتھ برطانوی رویے کے اثرات نمایاں رہے۔ دارالحکومت جارج ٹائون کے ایک قبرستان میں شاہ چارلس نے گیانا کے وزیراعظم مارک فلپس کے ہمراہ ان فوجیوں کی یادگار پر پھول چڑھائے جنہوں نے آزادی سے قبل برطانیہ کے لیے جنگ لڑی تھی۔ اس کے بعد شاہ چارلس نے برطانوی نوآبادیاتی دور کے ایک ایسے مقام کا بھی دورہ کیا جہاں مقامی افراد کو پھانسیاں دی جاتی تھیں اور ماضی کی ان ناانصافیوں کے اعتراف کے طور پر وہاں کچھ دیر خاموشی اختیار کی۔ سابق کالونیوں کے متعدد سربراہانِ مملکت برطانیہ سے نوآبادیاتی نظام اور غلاموں کی بین الاقوامی تجارت پر باضابطہ معافی کا مطالبہ کر چکے ہیں جس سے برطانوی شاہی خاندان صدیوں تک مستفید ہوتا رہا ہے۔ اگرچہ بادشاہ نے اس تاریخی حقیقت اور تلخ ماضی کو تسلیم کیا ہے لیکن انہوں نے تاحال باضابطہ معافی مانگنے سے گریز کیا ہے۔ برطانوی آئینی روایت کے مطابق باضابطہ معافی کا اعلان صرف برطانوی حکومت ہی کر سکتی ہے۔ایک چھوٹے احتجاجی مظاہرے کے دوران مقامی قانون ساز ٹیرنس کیمپل نے خبررساںادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا برطانیہ کی بیشتر دولت گیانا ہی سے حاصل کی گئی تھی۔ بادشاہ کے لیے یہ ایک مناسب وقت اور جگہ ہے کہ وہ اپنا دل بڑا کریں اور غلامی پر باضابطہ معافی کا اعلان کریں۔اس کے برعکس شاہی محل کا موقف ہے کہ کیریبین کے اس دورے کی تمام تر توجہ حال اور مستقبل کی ترجیحات، خاص طور پر ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر مرکوز ہونی چاہیے۔تیل کی دولت سے مالا مال لیکن زیادہ تر جنگلات پر مشتمل چھوٹے سے ملک گیانا میں دی کنگز فانڈیشن ماحول دوست منصوبوں کی مالی معاونت کر رہی ہے۔
برطانوی شاہ چارلیس کا دورہ کیریبین

