تازہ تر ین

برسات اور امراض

ڈاکٹر نوشین عمران
مختلف امراض سے آگاہی اور بروقت حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کیلئے سال میں کئی بار قومی ادارہ صحت کی جانب سے الرٹ جاری کئے جاتے ہیں، جون سے ستمبر کے مہینوں میں چند امراض کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ، برسات کے باعث مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔
کانگووائرس: جانوروں میں پلنے والے چیچڑ کے کاٹنے سے پھیلنے والا وائرس کانگو فیور کا باعث بنتا ہے ، شدید سردرد، تیز بخار، کمردرد، جوڑوں میں درد، پیٹ میں مروڑ، سرخ آنکھیں ، قے متلی، سرخ چہرہ، جسم پر سرخ دھبے اس کی علامات ہیں، مرض بڑھنے پر ناک منہ سے خون بہنے لگتا ہے ، کانگو وائرس کا صرف ایک ہی مریض صحت کے اداروں کیلئے الرٹ ہے، شہروں کی نسبت گاو¿ں یا پسماندہ علاقوں میں مویشی پال افراد میں اس مرض کا زیادہ خدشہ ہے۔
چکن گونسیا: یہ وائرس بھی مچھر کے کاٹنے سے ہی پھیلتا ہے ، بخار، جسم درد، سردرد، قے ، تھکان، نقاہت اس کی ابتدائی علامات ہیں، اس کے علاج کیلئے کوئی خاص اینٹی وائرل دوا نہیں، علامات کو کنٹرول کرنے کیلئے مختلف ادویات دی جاتی ہیں۔
ڈینگی: مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والا ایک اور وائرس ڈینگی کا باعث بنتا ہے ، پاکستان میں ڈینگی کی وباءپہلی بار 1994میں پھیلی، تیز بخار ، جوڑوں میں درد، قے متلی، آنکھوں میں اور سر کے اگلے حصے میں شدید درد اس کی ابتدائی علامات ہیں، مرض بڑھنے پر ناک منہ سے خون ، خون کی قے ، پیشاب پاخانے میں خون، جسم پر سرخ نشان پڑجاتے ہیں، مریض کی علامات کنٹرول کرنے اور جسم سے پانی کی کمی دور کرنے کیلئے ادویات اور ڈرپ دی جاتی ہیں۔
ہیضہ: ہیضہ یا ”کالرا“ بیکٹیریا سے ہونے والی انفکشن ہے، پانی کی طرح دست ، قے ، ٹانگوں میں درد، جس میں پانی کی کمی اس کی علامات ہیں، علاج نہ ہونے سے جسم میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے جو بعض اوقات موت کا باعث بنتی ہے ، بیکٹیریا پانی یا کھانے کی اشیاءکے ذریعے ہی پھیلتا ہے ، مریض کے پاخانے کیلئے ہی بیکٹیریا پھیلتا ہے اور پانی یا خوراک کو آلودہ کرتا ہے، برسات میں ہیضہ کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے ، علامات شروع ہوتے ہی مریض کو نمکول ، او آر ایس دینا شروع کردیں اور فوری ہسپتال میں دکھائیں، ہیضہ کالرا سے بچاو¿ کیلئے ویکسیئن دستیاب ہے۔
ملیریا: مچھر کے کاٹنے سے ہونیوالا مرض ملیریا جولائی سے ستمبر تک بڑھ جاتا ہے ۔
خسرہ: اوبیلا بھی وائرس سے ہونیوالا مرض ہے، بخار ، جسم پر دانے ، پٹھوں میں درد، آنکھوں کی سرخی ، گلا خراب ، منہ میں سفید چھالے اس کی علامات ہیں، بچوں میں اس کا خدشہ زیادہ ہے، ایسے علاقے جہاں کوئی بچہ ویکسئین نہ لگوانے کے باعث خسرہ کا شکار ہو ،اپنے گرد ایسے بچوں میں مرض پھیلانے کا باعث بنتا ہے جن میں ویکسیئن مکمل نہ ہوئی ہو۔
ٹائیفائیڈ: لمبا عرصہ رہنے والا تیز بخار، متلی ، بھوک کا خاتمہ، قبض ، پیٹ میں درد اس کی ابتدائی علامات ہیں، آلودہ پانی اور کھانے پینے کی اشیاءسے پھیلنے والا بیکٹیریا برسات کے موسم میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے ۔
ہیپاٹائٹس AاورE: وائرس سے پھیلنے والامرض، علامات میں پیلی رنگت ، آنکھوں کا پیلا رنگ، بھوک کا خاتمہ، پیلا پیشاب، تھکان، ہلکا بخار شام ہیں، چونکہ یہ وائرس بھی آلودہ پانی اور کھانے کی اشیاءکے ذریعے ہی پھیلتا ہے ،برسات میں اسکے پھیلنے کا رسک بہت بڑھ جاتا ہے ، ہیپاٹائٹس Aکی ویکسئین دستیاب ہے۔
٭٭٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain