All posts by Khabrain News

فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کا کوئی جواز نہیں : انتونیوگوتریس

نیو یارک : (ویب ڈیسک) سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوتریس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کا کوئی جواز نہیں ، نہ ہی مغربی کنارے میں کشیدگی کے بعد مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت کو یکطرفہ اقدامات سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی کو بتایا کہ ہر نئی آباد کاری امن کی راہ میں ایک اضافی رکاوٹ بن رہی ہے ، ہر نئی بستی کی سرگرمی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے اور اسے روکنا چاہیے۔
ان کاکہنا تھا کہ تشدد کے لیے اکسانا ختم ہونا چاہیے، کوئی ایسی چیز جو دہشت گردی کو جواز بناتی ہو اسے سب کو مسترد کر دینا چاہیے۔
سیکرٹری جنرل نےکہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی موجودہ صورتحال برسوں میں سب سے زیادہ کشیدہ ہے، اسرائیل۔فلسطین امن عمل تعطل کا شکار ہے اور تناؤ اپنے عروج کو پہنچ رہا ہے۔
انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ میں زور دیا کہ ہماری فوری ترجیح مزید کشیدگی کو روکنا، تشدد میں کمی اور امن بحالی ہونا چاہیے۔

نوبیل امن انعام 2023: چار سال میں سب سے کم امیدوار نامزد

اوسلو: (ویب ڈیسک) ناروے کی نوبیل کمیٹی کے مطابق رواں برس نوبیل امن انعام کے لیے گزشتہ چار سال میں سب سے کم امیدوار نامزد کیے گئے ہیں ، امیدواروں کے ناموں کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ناروے کی نوبیل کمیٹی نے گزشتہ روز کہا ہے کہ فروری کی آخری تاریخ تک 305 امیدواروں کو 2023 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے جو کہ چار سال میں سب سے کم تعداد ہے، امیدواروں میں 212 افراد اور 93 تنظیمیں شامل ہیں۔
اوسلو میں قائم تنظیم کا بتانا تھا کہ گزشتہ سال کے 343 امیدواروں کے مقابلے میں رواں سال نوبیل انعام کے لیے امیدواروں میں کمی آئی ہے اور یہ 2019 کے بعد رجسٹرڈ ہونیوالے امیدواروں کی سب سے کم تعداد ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ گذشتہ آٹھ سال میں امیدواروں کی سالانہ تعداد 300 سے تجاوز کر چکی ہے ، سال 2016 میں 376 امیدوار شامل تھے جو سب سے زیادہ امیدواروں کا ایک ریکارڈ تھا۔
واضح رہے کہ امن کا نوبیل انعام ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں دیا جاتا ہے جبکہ دیگر ایوارڈز سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں انعام کے بانی الفریڈ نوبیل کی خواہش کے مطابق پیش کیے جاتے ہیں۔
انعام یافتہ افراد 10 دسمبر کو ایوارڈ کی تقریبات میں انعامات وصول کرتے ہیں، جو 1896 میں نوبیل کی وفات کی برسی کی تاریخ ہے، نوبیل انعام میں ایک ڈپلومہ، ایک گولڈ میڈل اور 10 ملین سویڈش کرونر نقد انعام کی صورت میں دیے جاتے ہیں ۔

امریکا : وسط مغربی ریاستوں میں برفباری سے نظام زندگی متاثر

کیلیفورنیا : (ویب ڈیسک) امریکا کی وسط مغربی ریاستوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی متاثر ہوگئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا میں 2 کروڑ شہری آبادی پر مشتمل ریاستوں میں برفانی طوفان نے تباہی مچادی ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلی فورنیا میں برفانی طوفان سے ایک لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں جبکہ ریاست میں برفانی طوفان سے ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوگئی ہیں، محکمہ موسمیات نے کیلیفورنیا میں جمعہ اور ہفتہ کو شدید برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔
شدید طوفانی ہواؤں اور برفباری کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کررہ گئے ہیں جبکہ منی سوٹا، وسکونسن اور ڈکوٹا میں برفانی طوفان کی وجہ سے سکول سمیت سرکاری دفاتر بھی بند کردیے گئے ہیں۔

فرانس : لیکچرکے دوران طالبعلم نے چاقو کے وار سے خاتون ٹیچرکوقتل کردیا

پیرس : (ویب ڈیسک) فرانس کے ہائی سکول میں لیکچر کے دوران 16 سالہ طالبعلم نے چاقو کے وارکرکے خاتون ٹیچر کو قتل کردیا ۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افسوس ناک واقعہ فرانس کے قصبے سینٹ جین ڈی لیو کے ایک ہائی سکول میں پیش آیا جہاں 52 سالہ ٹیچر ہسپانوی زبان کی کلاس لے رہی تھیں کہ جماعت میں موجود ایک 16 سالہ طالبعلم نے ان پر چاقو سے حملہ کردیا۔
حملے سے شدید زخمی ہونے کے باعث ٹیچر کو فوری طبی امداد دی گئی تاہم وہ ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑگئیں ۔
رپورٹس کے مطابق طالبعلم کو گرفتار کرلیا گیاہے جس سے تفتیش جاری ہے ، ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ واقعہ دہشت گردی کا نہیں بلکہ طالبعلم کا ذاتی فعل ہے۔
یاد رہے کہ فرانس میں گزشتہ 40 سالوں سے ٹیچرز پرطالبعلموں کے حملے کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں ۔

آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں، چاہتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں: چیف جسٹس

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہوگئی۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بنچ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کررہا ہے ۔
لارجر بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔
سپریم کورٹ نے از خود نوٹس میں تین سوالات اٹھائے ہیں، پہلا سوال اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کی تاریخ دینا کس کی ذمہ داری ہے؟ دوسرا سوال انتخابات کی تاریخ دینے کا آئینی اختیار کب اور کیسے استعمال کرنا ہے؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کی ذمہ داری کیا ہے؟۔
عدالت نے ازخود نوٹس سی سی پی او غلام ڈوگر ٹرانسفرکیس میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہرنقوی کے نوٹ پرلیا گیا ہے۔
کیس کی سماعت
سپریم کورٹ میں سماعت کے آغاز پر عدالت نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار وضاحت طلب ہے، پنجاب اور کے پی اسمبلیاں 14 اور17 جنوری کو تحلیل ہوئیں، آرٹیکل 224/2 کے تحت انتخابات اسمبلی کی تحلیل سے 90 دنوں میں ہونے ہوتے ہیں، آرٹیکل 224 ایک ٹائم فریم دیتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی، چاہتے ہیں انتخابات آئین کے مطابق ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے 3 معاملات کو سننا ہے، صدر پاکستان نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا، آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 دنوں میں انتخابات ہوں گے، سیکشن 57 کے تحت صدر نے انتخابات کا اعلان کیا ہے، دیکھنا ہے صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد تاریخ دینا کس کا اختیار ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انتحابات کا مسئلہ وضاحت طلب ہے، ہم ارادہ رکھتے ہیں کہ آپ سب کو سنیں گے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے سماعت طویل نہیں کریں گے، تیاری کریں کیس کی سماعت سوموار سے ہوگی۔
دورانِ سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے ازخود نوٹس سے متعلق کچھ تحفظات ہیں، ہمارے سامنے دو اسمبلیوں کے سپیکر کی درخواستیں ہیں، یہ ازخود نوٹس جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے نوٹ پر لیا گیا، اس کیس میں چیف الیکشن کمشنر کو بھی بلایا گیا جو کہ فریق نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ سوال دونوں اسمبلیوں کے سپیکرز نے اپنی درخواستوں میں شامل کیے ہیں لیکن سپریم کورٹ نے صرف آئینی نکتہ دیکھنا ہے اور اس پر عملدرآمد کرانا ہے، ہم صرف آئین کی تشریح اور آئین کی عملداری کے لیے بیٹھے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ‏ہم آج نوٹس جاری کریں گے، ‏ہم اس معاملے کو طوالت نہیں دینا چاہتے اور نہ کوئی ابہام چھوڑنا چاہتے ہیں، ‏ہم 2 بجے بیٹھے ہیں اور یہ ہمارے لیے غیرمعمولی ہے۔
سماعت میں اٹارنی جنرل نے وقت دینے کے لیے استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل ہم صرف چند ضروری باتوں تک محدود رہیں گے، کیس کی تفصیلی سماعت اگلے ہفتے کریں گے۔
اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کا بھی ازخود نوٹس لیا جائے۔
دورانِ سماعت جسٹس جماعت مندوخیل نے کہا کہ اس ازخود نوٹس کیس پر اپنی آبزرویشن دینا چاہتا ہوں، یہ ازخود نوٹس کیس نہیں بنتا۔
اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‏آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 روز میں انتخابات ہوں گے اور ‏وقت جلدی سے گزر رہا ہے، ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا تھا مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔

وزیراعظم کا سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر تشکیل بنچ پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر تشکیل بنچ پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کا اجلاس ہوا، جس میں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں وزیر اعظم نے صدر کو خط لکھنے سے متعلق پارٹی کے قانونی مشیروں سے مشاورت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں صدر کی جانب سے انتخابات کی تاریخ دینے کے اعلان کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔
اجلاس میں وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر بنچ کی تشکیل پر اتحادیوں سے مشاورت کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، وزیر اعظم حکومتی اتحادی اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے انعقاد پر بھی مشاورت ہوگی، ملکی امن و امان سے متعلق اے پی سی کے انعقاد سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوگی۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود مختار ادارہ ہے، وزیر اعظم انتخاب کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، جیل بھرو تحریک ناکام ہوگئی،عوام نے پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست مسترد کردی۔

چین کو ہر موسم کا ساتھی اور دوست سمجھتے ہیں: ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ چین کو ہر موسم کا ساتھی اور دوست سمجھتے ہیں۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بدستور تشویش کا اظہار کرتا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز وزیر دفاع کی سربراہی میں افغانستان کا دورہ کیا گیا، دورے میں دہشت گردی کے تدارک اور بالخصوص ٹی ٹی پی کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ہونے والے مذاکرات سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی سے متعلق تھے، دونوں ممالک نے دہشت گردی سے مل کر نمٹنے پر اتفاق کیا۔
ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے تحت خواتین اور اسلام کے موضوع پر 8 مارچ کو کانفرنس کر رہا ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور کینیا کے صدر کے درمیان کل فون پر گفتگو ہوئی، وزیرِ اعظم نے شہید صحافی ارشد شریف کے معاملے پر بھی بات کی، شہباز شریف نے کینیا کے صدر سے پاکستانی صحافی کے قتل سے متعلق تحقیقاتی ٹیم سے تعاون پر شکریہ ادا کیا، وزیر اعظم نے اس تحقیقات میں مزید تعاون کی درخواست بھی کی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے ہنگری کا دو روزہ دورہ حال ہی میں مکمل کیا ہے، دورے میں مفاہمت کی تین یادداشتوں پر دستخط ہوئے، مفاہمت کی ایک یادداشت دونوں ملکوں کی فارن سروس اکیڈمیز کے باہمی تعاون کے بارے میں ہے۔
ممتاز زہرا بلوچ نے یہ بھی کہا کہ ہنگری کی یونیورسٹیوں میں پاکستان کے طلبہ کی تعداد میں سو فیصد اضافہ ہو گا۔

طیبہ گل کیس میں سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کا جواب غیرتسلی بخش قرار

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) تفتیشی افسر نے طیبہ گل ہتک عزت کیس میں سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کا جواب غیرتسلی بخش قرار دے دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کے خلاف طیبہ گل کے ہتک عزت کے کیس کی سماعت ہوئی۔
ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی کی عدالت میں تفتیشی افسر نے رپورٹ جمع کرواتے ہوئے کہا کہ شہزاد سلیم تسلی بخش جواب نہ دے سکے، لہذا طیبہ گل کا موقف درست ہے جس کی تائید کی جاتی ہے۔
تفتیشی افسر نے رپورٹ میں کہا کہ طیبہ گل اور سابقہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم کو انکوائری کے لئے طلب کیا گیا، طیبہ گل نے موقف اختیار کیا کہ 2019 میں نیب نے انہیں گرفتار کیا، عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر طیبہ گل کو بری کردیا، مگر شہزاد سلیم نے سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر ان کی کردار کشی کی۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ طیبہ گل کے مطابق شہزادسلیم نے ان کے خلاف نازیبا القابات کا اظہار کیا، ان کے بیانات کے باعث انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ شہزادسلیم کے مطابق وہ ڈی جی نیب سمیت سرکاری اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور طیبہ گل جھوٹ بول رہی ہیں اور ان کی کردار کشی کر رہی ہیں، وہ اپنے شوہر کے ہمراہ 25 سے زائد مقدمات میں نامزد ہیں اور انکوائری میں الفاظ کو توڑ مروڑ کر استعمال کر رہی ہیں۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔

نیب بھی قابل احتساب، عدالت نے احتساب کرنا ہے: جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ نیب بھی قابل احتساب ہے، عدالت نے نیب اقدامات کا احتساب کرنا ہے۔
سندھ کول اتھارٹی کرپشن کیس کی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے تفصیلی رپورٹ جمع نہ کروانے پر سپریم کورٹ نے اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ انتہائی سنجیدہ ہے، 19 ارب کی کرپشن کا کیس ہے لیکن نیب انکوائری نہیں ہو رہی، نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کردیا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ڈیڑھ سال سے ابھی تک تحقیقات مکمل نہیں ہوئی، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ نیب بھی قابل احتساب ہے، اگر کیس نہیں بنتا تو بھی انکوائری مکمل کریں، فیئر ٹرائل ملزم کا حق ہے، نیب تحقیقات مکمل کرنے میں تاخیر نہیں کر سکتا، عدالت نے نیب اقدامات کا احتساب کرنا ہے، نیب غیر ضروری طور پر ملزمان کو ہراساں نہ کرے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ نیب رپورٹ میں نہ تاریخیں بتائی گئیں نہ ہی کوئی اور تفصیل، عدالت نیب رپورٹ سے مطمئن نہیں، عدالت نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کیا نیب سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کر رہی ہے یا نہیں؟
بعد ازاں سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر ڈی نیب کراچی کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) جوڈیشل کونسل میں سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف جائیدادوں سے متعلق ریفرنس دائر کر دیا گیا۔
سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے بھجوایا گیا ہے، ریفرنس میں سپریم کورٹ کے جج اور ان کے اہلخانہ کی جائیدادوں کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
ریفرنس میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثوں کی تحقیقات کرے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثے 3 ارب روپے سے زائد مالیت کے ہیں، فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہے۔
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا سپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہے، گلبرگ تھری لاہور میں 2 کنال 4 مرلےکا پلاٹ ہے، سینٹ جون پارک لاہور کینٹ میں 4 کنال کا پلاٹ ہے، اثاثوں میں گوجرانوالا الائیڈ پارک میں غیر ظاہر شدہ پلازہ بھی شامل ہے۔
ریفرنس میں الزام لگایا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے مبینہ طور پر 2021 میں 3 بار سالانہ گوشواروں میں ترمیم کی، گوشواروں میں ترمیم گوجرانوالا ڈی ایچ اے میں گھر کی مالیت ایڈجسٹ کرنے کے لیے کی گئی، پہلے گھر کی مالیت 47 لاکھ پھر 6 کروڑ اور پھر 72 کروڑ ظاہر کی گئی۔
قبل ازیں آڈیو لیکس کے معاملے پر پاکستان بار کونسل کی زیر قیادت تمام بار کونسلز نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔