لاہور(ویب ڈیسک)زینب قتل کیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم عمران کی والدہ زینب کے گھر میں کام کاج کرتی تھی۔ ملزم عمران کی والدہ سلمیٰ نے ایک سال تک زینب کے گھر پر کام کیا تھا تاہم اس نے نے چند ماہ پہلے ہی زینب کے گھر سے کام چھوڑا تھا۔ والدہ کی وجہ سے عمران کی بھی زینب کے گھر والوں سے شناسائی تھی جبکہ ننھی زینب بھی ملزم کو جانتی تھی اسی لئے اس کے ساتھ چلی گئی تھی۔ واضح رہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ملزم عمران کی والدہ اور چچا نے بتایا تھا کہ انہیں ٹی وی پر فوٹیج دیکھنے کے بعد شک تو ہوا تھا اور باتیں بھی شروع ہوئیں کہ اس کی شکل عمران سے ملتی ہے مگر کسی نے پولیس کو بتانے کی زحمت نہیں کی۔ ملزم عمران کے والد کا انتقال گذشتہ سال 12 دسمبر کو ہوا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم نہ صرف سیریل کِلر یعنی سلسلہ وار قاتل ہے بلکہ ایک سیریل پیڈوفائل بھی ہے جو نفسیاتی حد تک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہے۔ملزم نے دورانِ تفتیش بتایا کہ وہ پکڑے جانے کے ڈر سے بچوں کا گلا گھونٹ کر انہیں موت کے گھاٹ اتارتا تھا۔ملزم نے پانچ بچیوں کو زیرِ تعمیر گھروں میں ریپ کر کے قتل کیا اور لاش قتل کے دن ہی ٹھکانے لگا دی۔
Tag Archives: zainab
سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ کر زینب کے والد نے ایسا انکشاف کر دیا کہ ساری تفتیش ہی نیا رُخ اختیار کرگئی
معصوم زینب کا اغوا کب ہوا ۔۔۔؟ٍملزم کہاں موجود رہا ۔۔۔؟والد کے ہوش اُڑا دینے والے انکشافات
قصور (ویب ڈیسک) زیادتی کے بعد قتل کر دیے جانے والی بچی زینب کے والد نے مطالبہ کیا ہے کہ قاتل کو سرعام پھانسی دی جائے۔ تفصیلات کے مطابق قصور میں زیادتی کے بعد قتل کر دیے جانے والی بچی زینب کے والد کی جانب سے نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے خصوصی گفتگو کی گئی ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ بچی کا اغوا 5 روز پہلے ہوا لیکن پولیس نے نہ بچی کو نہ ہی ملزم کو تلاش یا پکڑنے کی کوشش کی۔ملزم گھر کے آس پاس کے محلوں میں ہی موجود رہا لیکن پولیس نے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اس دوران پولیس والے ایک مرتبہ پوچھ گچھ کیلئے گھر آئے اور چائے پی کر چلے گئے۔ اس کے بعد 5 روز تک پولیس نے شکل نہیں دکھائی۔ اس دوران رشتے دار خود بچی کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن پولیس نے کوئی مدد نہیں کی۔ زینب کے والد نے مطالبہ کیا ہے کہ قاتل کو گرفتار کرکے سرعام پھانسی دی جائے۔ چیف جسٹس اور آرمی چیف کا واقعے پر نوٹس لینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔