بلڈ ڈونرزڈے


ڈاکٹر نوشین عمران
14 جون کو دنیا بھر میں بلڈ ڈونرز ڈے منایا جاتا ہے۔ یعنی خون کا عطیہ کرنے والوں کا دن۔ خون کے گروپس دریافت کرنے والے سائنسدان کاری لینڈ سٹیفن کی تاریخ پیدائش 14 جون1968ءاسی مناسبت سے 14 جون کو خون کا عطیہ کرنے والوں کا دن منایا جاتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں ہر سال دنیا بھر میں کم و بیش 108 ملین خون کے بیگ عطیہ کئے جاتے ہیں۔ 62 ممالک ایسے ہیں جہاں سال میں ایک بار تمام صحت مند افراد خون عطیہ کرتے ہیں چاہے کسی کو ضرورت ہو یا نہ ہو۔ اس بیگ کو بلڈ بینک میں رکھ لیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر مریض کو لگایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ان ممالک میں مریصں کے انتقال خون کی سو فیصد ضرورت بلڈ بینک سے پوری ہو جاتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ہر ملک کی ایک فیصد آبادی بھی رضا کارانہ خون کا عطیہ دے تو مریضوں کی ضرورت کافی حد تک پوری ہو سکتی ہے۔
خون عطیہ کرنے والے بیگ میں پہلے ایسی دوا ڈالی جاتی ہے جو خون کو جم جانے سے روکتی ہے۔ اگر یہ دوا نہ ڈالی جائے تو خون کچھ دیر میں ہی جم جائے اور بے کار ہو جائے۔ مریضوں کو مکمل خون ”ہول بلڈ“ کی صورت بھی لگایا جاتا ہے اور اس خون سے مختلف پراڈکٹ بھی بنائے جاتے ہیں۔ مشین کے ذریعے خون کے اجزا کو الگ الگ کر کے پلیٹلٹس، البیومن، وائٹ سیل، پلازما بنائے جا سکتے ہیں اور مریض کی طلب کے مطابق مکمل خون یا اس سے بنایا گیا پراڈکٹ مریض کو لگایا جاتا ہے۔ خون عطیہ کرنے سے پہلے ہر ڈونر کے سکیننگ ٹیسٹ لازمی ہوتے ہیں۔ حون کے ”کراس میچ“ کے علاوہ ہیپاٹائٹس، ایڈز، لازمی ٹیسٹ ہیں۔ 1930ءسے پہلے خون کی گروپس کی مکمل آگاہی نہ ہونے کے باعث انتقال خون سے کئی اموات ہو جاتی تھیں۔ لیکن پازیٹو اور نیگٹیو کی مکمل معلومات کے بعد یہ طریقہ محفوظ ہو گیا۔
طبی لحاظ سے 17 سے 65 سال کی عمر کے تمام صحت مند افراد خون عطیہ کر سکتے ہیں۔ جن کا وزن کم از کم 50 کلو گرام ضرور ہو اور انہیں کوئی ایسا مرض نہ ہو جو خون کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔خون کا عطیہ دینے کے فوری بعد جسم میں نیا خون اور نئے خلیے بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ دو سے تین دن میں پلازما سیل تقریباً 35 دن میں سرخ ذرات بن جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مکمل صحت مند جوان شخص تین ماہ بعد خون کا عطیہ دے سکتا ہے۔
خون کے چار گروپس AB,B,A اور O ہیں جن میں ہر ایک میں پازیٹو یا نیگٹیو ”ریسز“ موجود ہوتا ہے اس طرح یہ آٹھ گروپ بن جاتے ہیں۔ غلط گروپ یا غلط ریسز لگنے سے خون کے ذرات آپس میں چپک جاتے ہیں۔ جس طرح خون کا گروپ ٹیسٹ کروائیں تو آپ کے سامنے ایک سلائڈ پر خون کے قطرے ڈالے جاتے ہیں اور ان میں اینٹی جن ڈالا جاتا ہے۔ غلط گروپ ہونے پر وہ چپک جاتے ہیں ایسا ہی جسم کے اندر بھی ہوتا ہے۔ غلط گروپ کا حون لگنے پر جسم کے اندر شدید ردعمل ہوتا ہے۔ خون میں لوتھڑے بن جاتے ہیں۔ سرخ ذرات ٹوٹ جاتے ہیں اور ان سے زہریلے مادے نکلتے ہیں جو جسم میں خون کے ذریعے پھیل جاتے ہیں۔ اس سے بعض اوقات موت بھی ہو سکتی ہے۔ ہر مریض کو اس کے اپنے گروپ کا خون ہی لگایا جاتا ہے مگر ایمرجنسی کی صورت میں بعض دوسرے گروپ بھی لگ سکتے ہیں۔ جیسا کہ O گروپ سب کو لگ سکتا ہے۔ لیکن O کو صرف O ہی لگتا ہے۔ AB گروپ کو سب گروپ لگ سکتے ہیں یہ سوائے AB کسی اور کو نہیں لگ سکتا۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved