تازہ تر ین

بھارت کا اعلان جنگ….چین اور پاکستان کی سرحد پر بھاری میزائل نصب….غیر معمولی نقل و حرکت

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک عرصے سے پاکستان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا شروع کر رکھا ہے مگر اب اس کی انتہا کر دی ہے کہ بلوچستان‘ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں پاکستان کے خلاف اور بھارت کی حمایت اور تعاون والے عناصر کی موجودگی کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ یہاں تک کہہ ڈالا ہے کہ بھارت ان عناصر کی جو مدد کر رہا ہے‘ اس پر ان لوگوں نے بھارت کا شکریہ ادا کیا اور مزید تعاون اور مدد کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی میڈیا میں پاکستان سے باہر دوسرے ملکوں میں مقیم مفرور بلوچ رہنماﺅں براہمداغ بگٹی اور خلیل بلوچ کے پاکستان کے خلاف زہریلے بیانات کو نمایاں جگہ دی جا رہی ہے۔ یہ خبریں عام بھی ہو چکی ہیں کہ بھارت نے پاکستان اور چین کی سرحدوں پر عام میزائلوں سے 8گنا زیادہ تباہی مچانے والے براہمو میزائل نصب کر دیئے گئے ہیں۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں تقریباً دو ماہ کے کرفیو کے باوجود جگہ جگہ بھارت کے خلاف مظاہروں پر بھارتی فوج کے جارحانہ حملوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے باعث تقریباً 80کشمیری باشندے شہید اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور بھارتی فورسز کے انتہائی بہیمانہ تشدد کے باوجود مظاہرے زیادہ شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانے زیادہ شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانوں نے اونچے پیمانہ پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا ہے اور اسے دہشت گرد ملک قرار دیئے جانے کے بارے میں مہم شروع کر دی ہے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کے خلاف جارحانہ اور اشتعال انگیز مہم سے وہی فضا پیدا کر دی ہے جو 1965ءاور 1971ءکی جنگوں سے پہلے پیدا کی گئی تھی۔ ان دنوں یہ دونوں جنگیں روایتی ہتھیاروں سے لڑی گئی تھیں اور دونوں ملکوں کے پاس ایٹم بم اور جدید تباہ کن میزائلوں والے جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے‘ مگر آج ان دونوں ملکوں کے پاس ایسے ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جو ان دونوں جنگوں کی نسبت کئی گنا زیادہ تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ اس ہولناک تباہی کا تصور لرزا دیتا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کے علاوہ پاکستان دشمن مہم کو بھارتی میڈیا اور ٹیلیویژن والے جس طرح بھرپور انداز میں چلا رہے ہیں اور پاکستان سے فرار ہونے والے بلوچ قوم پرستوں کے بیانات کو جس انداز میں اچھال رہے ہیں‘ ان کا اندازہ انٹرنیٹ پر کسی بھی بھارتی اخبار کی خبروں یا ٹیلیویژن کی نشریات سے کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کے بین الاقوامی سطح پر پڑھے جانے والے انگریزی اخبارات سمیت دیگر ہندی متعدد اخبارات بھی شامل ہیں۔ اس نے یہاں تک خبریں شائع کی ہیں کہ چین بھی پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کر رہا ہے اور اس کے سرکاری میڈیا نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے بجائے POK (پاکستان کا مقبوضہ کشمیر) لکھنا شروع کردیا ہے۔ چین میں سارا میڈیا سرکار کے ماتحت ہے‘ وہاں نجی میڈیا کا تصور موجود نہیں‘ مذکورہ اخبار کی موجودہ روش کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ایک خبر میں لندن میں مقیم بلوچ ری پبلک پارٹی کے سربراہ براہمداغ بگٹی اور واشنگٹن میں مقیم بلوچ رہنماﺅں کے بیانات کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ دو بھارتی اخبارات میں یکساں نوعیت کی خبریں چھپی ہیں جس کے مطابق خلیل بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ عوام پاکستان کے خلاف پانچ جنگیں لڑ چکے ہیں اور اب چھٹی جنگ کیلئے تیار ہو رہے ہیں۔ براہمداغ بگٹی نواب اکبر بگٹی کا پوتا ہے۔ ایک عرصہ سے لندن میں مقیم ہے۔ اس وقت براہمداغ بگٹی مکمل طور پر بھارت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور اسے بلوچستان کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے۔ اخبار نے براہمداغ کے اس بیان کو نمایاںسرخیوں کے ساتھ چھاپا ہے کہ بھارت پوری سنجیدگی کے ساتھ بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ اسی طرح معاونت کرے جس طرح کی معاونت اس نے 1971ءمیں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ کی تھی۔ اخبار کے مطابق پٹھان کوٹ کے واقعات کے بارے میں براہمداغ نے بھارتی مو¿قف کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ بھارتی حکومت کا قوم پرستوں کے ساتھ موجودہ تعاون وقتی نہیں بلکہ مستقل ہونا چاہئے۔ ان معاملات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خود بھارت کے اندر بعض سیاسی دانشوروں نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت اور مہم جوئی کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ سابق بھارتی وزیر سلمان خورشد نے کھلے الفاظ میں کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، اس بھارت لیے بھارت کو اعتراف کو لینا چاہیے بھارت کے لیے نہایت غیر مناسب اور نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، سلمان خورشید نے ڈھکے چھپے الفاظ میں کہا کہ بھارت اس وقت خود اندرونی انتشار کا شکار ہے، اسے دوسروں کے معاملات میں دخل دینے سے گریز کرنا ہوگا۔ سلمان خورشید کا یہ اشاریہ بھارت میں چلنے والی علیحدگی پسند باغیوں کی 26 تحریکوں کی طرف ہے ان میں ناگالینڈ ” تری پوربہار“ آسمام چھتیں گڑھ، مدھیہ پردیش، تامل ناڈومنی پورا اور دوسرے علاقوں میں شدت کے ساتھ جاری باغیانہ تحریکیں شامل ہیں، (26تحریکوں کی نشاندہی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمیدگل مرحوم کرچکے ہیں) ایک اور اہم واقعہ یہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اے آرٹھا کرکے اس بیان نے اچانک بہت اہمیت اختیار کرلی کہ بھارتی وزیراعظم کو بلوچستان وغیرہ کے معاملات کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینا چاہئے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بھارت کی 29اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی 478 آسامیاں ایک عرصے سے خالی پڑی ہیں، اس کے باعث عدالتوں میں مقدمات کا ڈھیر لگ گیا ہے اور اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ مقدے ان عدالتوں میں زیرالتوا ہیں ۔چیف جسٹس نے براہمی کا اظہار کیا کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود حکومت اس مسئلہ کو نظرانداز کررہی ہے، چیف جسٹس کا یہ بیان بھارت کے اندروں اور بیرون ملک نمایاں طور پر چھپا تو بھارتی حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی اور چیف جسٹس سے معذرت کرنے کے ساتھ ان کی طرف سے جاری بیان کی اس سے وضاحت کی گئی کہ دوسرے معاملات کے بارے میں چیف جسٹس کا اشارہ بلوچستان ججوں کے معاملات کے بارے میں نہیں بلکہ دوسرے عام امور کی طرف تھا۔ جہاں تک مقبوضہ کشمیر کا معاملہ ہے وہاں تقریباً سات لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں،اس علاقے میں کشمیری حریت پسندوں کے ہاتھوں سینکڑوں بھارتی فوجی مارے جاچکے ہیں، اس کے باعث بھارتی فوجی مقبوضہ علاقہ میں ڈیوٹی دینے سے گھبراتے ہیں، اس صورتحال کے پیش نظر ہر چھ ماہ کے بعد فوج کے دستے واپس بلا کر نئے دستے تعینات کردئیے جاتے ہیں،مگر کئی برسوں کے دوران ہر فوجی کئی کئی بار مقبوضہ کشمیر میں آنے پر مجبورہوچکا ہے، بھارت کی کل فوج15لاکھ کے قریب ہے، بھارت نے اس وقت مقبوضہ کشمیر میں 10ایسے پر تشدد اور ظالمانہ قسم کے قوانین نافذ کررکھے ہیں جن کی دنیا بھر میں کسی جمہوری ملک میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے،ان میں آئی ٹی اے (ITA) انڈین ٹیلگراف ایکٹ پوٹا (دہشت گردی سے تحفظ کا ایکٹ) یو اے پی اے (غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون) ٹاڈا (تخریب کاری کی سرگرمیوں کا ایکٹ) این ایس اے( نیشنل سکیورٹی ایکٹ)، آئی ٹی اے (انڈین انفارمیشن و ٹیکنالوجی ایکٹ) او ایس اے (سرکاری راز داری کا ایکٹ) ایف ایس پی اے ، ایس ایف پی آر جیسے انتہائی سخت اور ظالمانہ قوانین شامل ہیں۔ ان میں بعض قوانین آسام، مدھیہ پردیش، آندھراپردیش، مغربی بنگال، بہار چندگھڑی، تری پورہ، ناگالینڈ، جھاڑ گھنڈ، مہاراشڑ اور تامل لینڈ وغیرہ میں باغیوں سے نمٹنے کے لیے نافذ ہیں، ان کے تحت بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں یہ سارے قوانین نافذ ہیں، ان کے تحت بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی جگہ بغیر اجازت چھاپے مارسکتی ہے، محض شبہ میں کسی کو گولی مار سکتی ہے کسی کا گھر مسمار کرسکتی ہے، فوج لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندی لگاسکتی ہے، کسی بھی شخص کو اغوا کرسکتی ہے اور اس پر ملک دشمنی کے الزام لگا کر شدید تشدد کرسکتی ہے، ان ساری کارروائیوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیںکیا جاسکتا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved