لاہور (خصوصی رپورٹ) اربوں روپے قرضہ پر چلنے والی لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے بورڈ آف گورنرنز کی میٹنگ میں ایم ڈی کی تنخواہ 95 فیصد اضافہ کرکے چھ سے 11لاکھ50 ہزار کر دی گئی جبکہ ایجنڈے میں چالیس فیصد تنخواہ بڑھانے کا لکھا گیا تھا۔ صوبائی وزیر کا پہلے اعتراض پھر سفارش پر منظوری دیدی جبکہ بورڈ کے ممبر ایک رکن اسمبلی کو مراعات دیدی گئی۔ شہر بدستور گندا نظر آ رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی جو اربوں روپے قرضہ پر چل رہی ہے کی ذمہ داری ہے کہ لاہورشہر صاف رکھنا ہے اور کوڑا کرکٹ کو ڈمپنگ کرنا لیکن اس وقت ارکان اسمبلی، میئر، ڈپٹی میئرز جن کے تعاون سے شہر میں صفائی مہم چلائی جا رہی ہے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ اہم شاہراہوں کے علاوہ محلوں کی سطح پر گندگی بدستور قائم ہے لیکن دوسری جانب کمپنی نے بورڈ آف گورنرنز کی میٹنگ بلوائی جس کی صدارت چیئرمین رافع عالم نے کی جس میں صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر شریک نہ ہوئے جبکہ دوسرے رکن اسمبلی وحید گل، ایم ڈی محمد مصطفی سمیت دیگر ممبران موجود تھے اجلاس میں شہریوں کو صفائی سے متعلق شکایات اور شہر کو صاف رکھنے پر بات چیت کرنے کی بجائے میٹنگ میں ایم ڈی کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ کہ انہیں کمپنی کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے جو ٹارگٹس دیئے گئے جن میں نئی بھرتی، جی ایم اورمنیجرز کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی بتانا، کوڑا کرکٹ کو علیحدہ علیحدہ کرنے کیلئے دو پروجیکٹ لگانے حالانکہ ایک پروجیکٹ 2002ءلگ چکا ہے لینڈ فل سائیڈ لکھوڈیئر کا معاہدہ کرنے، مشینری کی خریداری کرنے، انٹرنیشنل ٹھیکیداروں سے نیا معاہدہ کرنے وغیرہ شامل ہیں جو پوری ہوگئیں لہذا ان کی تنخواہ بڑھا دی جائے۔ ذرائع کے مطابق خواجہ عمران نذیر نے تنخواہ بڑھانے پر اعتراض کیا لیکن بعد میں سفارش پر سائن کردیئے، دوسرے صوبائی رکن اسمبلی وحید گل کو کمپنی کی لگژری گاڑی اور صفائی کیلئے سکواڈ جیسی مراعات دیدی گئیں۔ چیئرمین رافع عالم سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ایم ڈی کی تنخواہ میں ابتدائی دنوں میں ہی اتنی طے ہوئی تھی لیکن ان کی کارکردگی دیکھنے کیلئے ٹاسک دیا گیا تھا جو انہوں نے پورا کرلیا ہے۔






































