راولپنڈی(بیورورپورٹ)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا تو کچھ افغانستان چلے گئے اور اپنے آپ کو ری آرگنائز کیا۔ افغانستان میں دہشت گردوں کو را کی سپورٹ حاصل ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن کو واپس لے کر آنا ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہر آپریشن کامیاب ہوا۔ا نہوں نے بتایا کہ ردالفساد ملک میں فساد پھیلانے والوں کیخلاف ہے، اس آپریشن میں سہولت کاروں کو ختم کرنا ہے اور غیرقانونی اسلحے کی بھی صفائی کریں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ردالفساد کی کوئی ٹائم لائن نہیں اور یہ آپریشن صرف فوج کا نہیں، سب نے مل کر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فساد کو پاکستان سے باہر نکال کر پھینکنا ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ فوج سے پہلے عوام نے جیتی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر ہر ادارہ کام کر رہا ہے، ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا۔آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی طور پر بھی افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہورہی بلکہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے،دہشت گرد افغانستان میں بیٹھے ہوئے ہیںجنھیں” را“ سمیت دوسری دشمن ایجنسیوں کی مدد حاصل ہے، ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کو بیرونی قوتوں سے ڈی لنک نہیں کر سکتے ، افغانستان کے ساتھ بارڈر میکنزم بہتر کرنے کی ضرورت ہے، سرحد کھولنے کےلئے افغانستان کو بارڈر پر کچھ اقدامات کرنے چاہیں پاکستان میں بلا تفریق دہشتگردوں کے خلاف کاروئیاں کی جا رہی ہیں جو کسی خاص صوبے کے افراد کے خلاف نہیں ، دہشت گرد کا کوئی مذہب اور صوبہ نہیں ہوتا ،ردالفساد آپریشن کے نام میں ہی پیغام ہے کہ ہم نے فسادی لوگوں کو رد کرنا ہے اور پاکستان میں استحکام کو واپس لانا ہےمنگل کو ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ردالفساد آپریشن کے نام میں ہی پیغام ہے کہ ہم نے فسادی لوگوں کو رد کرنا ہے اور پاکستان میں استحکام کو واپس لانا ہے ، پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کےلئے بہت سے آپریشن ہوئے اور تمام آپریشن کامیاب رہے ، ردالفساد کا مقصد دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو ختم کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کےلئے تمام ادارے اپنا اپنا کام کر رہے ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بھی تمام ادارے اپنے اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں ۔ ہم نے دہشت گردوں پر فزیکل کنٹرول حاصل کر لیا اور اپنے تمام علاقے کلیئر کر لئے،زیادہ تر دہشت گرد مارے گئے اور باقی افغانستان بھاگ گئے ، ہم نے آپریشن کے ذریعے ریاست کی رٹ بحال کی ، دہشت گرد افغانستان میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کو بیرونی قوتوں سے ڈی لنک نہیں کر سکتے ، دہشت گردوں کو را سمیت دوسری دشمن ایجنسیوں کی مدد حاصل ہے ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ افغانستان خود بھی دہشت گردی میں گھرا ہوا ہے مگر افغانستان کو حالات حاضرہ کا جائزہ اینٹی پاکستان نظریے سے نہیں بلکہ افغانستان کے مفاد کے حساب سے لینا ہوگا ۔





































