کراچی (وحید جمال سے)قبل از وقت انتخابات کی افواہوں کے پیش نظر سیاسی جماعتیں زیادہ متحرک نظر آتی ہیں حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی نے ایکدم اپنی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے وزیر اعظم گذشتہ دو ہفتوں کے دوران دو مرتبہ دورے پر سندھ پہلے دورہ ان کا شیررازی بردران کی دعوت پر ٹھٹھہ آئے جبکہ دوسرے دورے میں گورنر ہاﺅس میں صنعت کار اور تاجر بردری کے علاوہ ہندو برادری کے تہوار ہولی کی تقریب میں شرکت اور سندھ میں مسلم لیگ ن کے عہدیداران سے ملاقات تھی ۔ 2013کے عام انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ وزیرا عظم نے سندھ میں سیاسی دورہ کیا ہے اس سے قبل چار سالہ دور اقتدار میں جب بھی کراچی آئے کراچی آپریشن اور انتظامی حوالے سے میٹنگو ںمیں شرکت کیلئے آئے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ تھا کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں سیاسی سرگرمیاں محدود رکھی گی اور مسلم لیگ ن سندھ کا رخ نہیں کرے گی گورنر سندھ سعید الزماں صدیقی کے انتقال کے بعد بدلتی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم محمد نواز شریف نے محمد زبیر کو صوبے کا نیا گورنر مقرر کردیا مسلم لیگ ن کے پنجاب بلوچستان خیبر پختونخواہ آزاد کشمیر گلگت بلستان میں گورنر تعینات ہیں اب سندھ میں بھی گورنر تعینات کرکے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ گورنر سندھ پارٹی کیلئے سیاسی کردار ادا کریں گے گذشتہ دنوں پیر پگاڑا سے ان کی ملاقات بھی سیاسی کڑی کا حصہ تھی آئین و سیاسی ماہرین کے مطابق گورنر کے عہدے کو سیاسی مقاصد یا پارٹی کی تنظیم کے لئے استعمال کرنا آئینی طورپر درست نہیں وزیر اعظم نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ گورنر سندھ مسلم لیگ کے ناراض ارکان کو متحرک کریں گے گورنر ہاﺅس میں مسلم لیگ ن کے ارکان اور ذمہ داران کےلئے دروازے کھلے رہیں گے تاکہ وہ سندھ میں سیاسی دلچسپی کی وجہ سے نہ صرف مایوس بلکہ دوسری سیاسی جماعتوں شمولیت اختیار کرچکے ہیں سندھ کے چار سابق وزرائے اعلیٰ ممتاز علی بھٹو لیاقت علی جتوئی ڈاکٹر ارباب غلام رحیم غوث علی شاہ جنہیں مسلم لیگ ن نے نظر انداز کیا اہمیت نہ ملنے پر مایوس ہوگئے کراچی کے واحد رکن قومی اسمبلی عبدالحکیم بلوچ کو وزیر مملکت تو بنایا گیا وہ بھی اہمیت نہ ملنے پر وزیر مملکت کے عہدے اور رکن قومی اسمبلی مستعفی ہوکر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی عرفان اللہ مروت کے بارے گذشتہ دنوں پیپلزپارٹی کی قیادت سے ملاقات اور پیپلزپارٹی میں شمولیت کی خبریں منظر عام پر آئیں جس پر سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے ٹویٹ میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عرفان اللہ مروت کی شمولیت کی خبر پر سخت اعتراض کیا جس کے بعد ان کی شمولیت کھٹائی میں پڑگئی مسلم لیگ فنگشنل حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی وفاق میں اتحادی ہے جسے مرکز میں ایک وزارت بھی دی گئی ہے جبکہ فنگشنل لیگ کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی امتیاز شیخ کو بھی وزیر اعظم کے خصوصی مشیر کا عہدہ دیا گیا تھا انہوں نے بھی وزیر اعظم کے مشیر کے عہدے اور صوبائی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دیدیا اور پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرکے دوبارہ ضمنی انتخابات پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں جام مدد علی بھی جو فنگشنل لیک کے ٹکٹ پر رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے وہ بھی مستعفی ہوکر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں ذرائع کے مطابق فنگشنل لیگ اور مسلم لیگ ن دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی تعلقات بدستور سرد مہری کا شکار نظر آتے ہیں وزیر اعظم اور فنگشنل لیگ کے سربراہ پیر پگاڑا کے درمیان تقریبا تین سال سے باضابطہ کوئی ملاقات نہیں ہوئی اس عرصے میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سندھ کے دورے پر ان سے ملاقات کی تھی جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے سندھ میں سیاسی سرگرمیاں تیز کرنے کا عمل شروع کردیا ہے دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف عمران خان آئندہ چند روز میںسندھ کے دورے پر آرہے ہیں انہوں نے بھی سندھ میں پارٹی رہنماﺅں کا آئندہ انتخابات کیلئے متحرک ہونے کا پیغام دیا ہے سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کراچی آپریشن کے بعد تین دھڑوں میں واضح طورپر تقسیم ہوگئی ہے تینوں گروپوں کے رہنما ایک دوسرے کیخلاف الزام تراشیوں میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے دوسری سیاسی جماعتیں اس کا فائدہ اٹھا کر کراچی میں اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے میں مصروف ہیں آئندہ متوقع عام انتخابات میں سرگرمی سے حصہ لینا چاہتی ہیں جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن پاکستان تحریک انصاف سندھ کی سیاست میں متحرک نظر آرہی ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ کراچی سے زیادہ زیاد نشستیں حاصل کی جائیں جبکہ سندھ میں پیپلزپارٹی سیاسی طورپر مضبوط ہے ان کا اصل محور کراچی ہے ۔
سندھ میں ”ن لیگ اور پیپلز پارٹی“ کی سرگرمیان تیز
