تازہ تر ین

”اسلامی عسکری اتحاد “ پاک فوج کتنے افسر اور نوجوان سعودی عرب روانہ ؟؟ بڑی خبر آ گئی !!

لاہور (سیاسی رپورٹر) معلوم ہوا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے سعودی عرب پہنچتے ہی اسلامی عسکری اتحادکی تشکیل، ڈھانچے اور کس ملک سے سامان حرب اور کتنی تعداد میں فوجی لئے جائیں گے یہ غور کیا جائے گا اور اس سلسلے میں اگلے ماہ ہونے والی اسلامی ممالک کی کونسل آف ڈیفنس منسٹرز کے اجلاس میں ان تفصیلات کا اعلان کر دیا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اب تک جو امور طے ہوئے ہیں ان کے مطابق پاکستان سے ایک بریگیڈ حاضر سروس فوج سعودی عرب بھیجی جائے گی اور اس ضمن میں موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کچھ دن پہلے سعودی عرب کے دورے میں حتمی فیصلہ بھی کر چکے ہیں ۔اس ضمن میں رسمی طور پر مسلم ممالک کی دفاعی وزراءکی کونسل میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان سے فوجی اہلکاروں اور افسروں کی تعداد اور سامان حرب کی درخواست کی جائے گی۔جن کے جواب میں توقع ہے کہ جیسا کہ تفصیلات باہمی طور پر طے ہو چکی ہیں وزیراعظم پاکستان اس کی منظوری دیں گی اور حتمی دستخط صدر پاکستان جناب ممنون حسین جو آئینی اعتبار سے پاک فوج سپریم کمانڈر ہیں۔ یہ بھی ممکن کہ حکومت یہ فیصلہ منتخب پارلیمنٹ سے کروائے۔یاد رہے کہ اپنے دورہ سعودی عرب میں انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی طرف سے اعلان کردہ اسلامی امہ فوج کی ہر طریقے سے مکمل مدداور بھرپور تعاون کرے گا البتہ ان کے دورے کے حوالہ سے اسلام آباد سے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور یہ اظہار بھی کر چکے ہیں کہ پاکستانی فوج سعودی عرب کی سرحدوں کے باہر استعمال نہیں ہو گی۔ چند روز پہلے معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے سعودی عرب کے جنرل عصیری کا انٹرویو شائع کیا ہے جس میں جنرل عصیری نے اسلامی امہ فوج کے حوالہ سے بعض تفصیلات بیان کی ہیں۔ جنرل عصیری نے امریکی اخبار کے مطابق یہ کہا ہے کہ اسلامی امہ فوج تمام رکن مسلم ممالک میں جہاں کہیں دہشتگردی ہو گی اس کے انسداد کے لئے استعمال کی جائے گی تاہم عسکری تنظیموں اور باغی عناصر کا قلع قمع کرنا ہی اس کا فرص ہو گا۔ جنرل عصیری کے مطابق باغیوں میں یمن کے حوثی باغی بھی شامل ہیں اگر یہ پالیسی طے شدہ ہے تو شاید کچھ مشکلات کھڑی ہوں کیونکہ نہ صرف پاکستان بلکہ سابقہ اور موجودہ آرمی چیف بھی اس طرف اشارہ کر چکے ہیں اورپاک فوج کا محکمہ تعلقات عامہ بھی اعلان کر چکا ہے کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب سے باہر استعمال نہیں ہوں گے۔ حتمی فیصلہ کونسل آف ڈیفنس منسٹر یعنی اسلامی ممالک کے وزراءدفاع کی کونسل کرے گی۔ واضح رہے کہ اسلامی امہ فوج جس کے رکن ممالک کی تعداد پہلے مرحلے میں 34 بتائی گئی تھی اب 41 ممالک تک پہنچ چکی ہے اور اب اسے 41 رکنی اسلامی امہ فوج کہا جا رہا ہے۔ہمارے ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کے حاضر سروس بریگیڈ یعنی پانچ ہزار فوجی، سپاہیوں چھوٹے افسروں اور بڑے افسروں کے علاوہ ہر قسم کے سامان حرب سے لیس یہ بریگیڈ اسلامی امہ فوج کا مضبوط حصہ شمار ہو گا۔ تاہم یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اُمہ فوج کی مرکزی کمان اور ہیڈ کوارٹر کے لئے جنرل (ر) راحیل شریف نے اپنے باعتماد اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل اعلیٰ ریٹائرڈ فوجی افسروں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے کہ جن میں بریگیڈ (ر) جنرل کے عہدے کے سابق افسر شامل ہوں گے۔ پاک فوج کے ریٹائرڈ اعلیٰ افسروں سے اس سلسلے میں بعض نام لئے جا رہے ہیں جنہیں ہم اپنے قارئین کے لئے وقت آنے سے کچھ پہلے آگاہ کریں گے۔ یاد رہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے کئی ماہ پہلے ہی روزنامہ خبریں کو اعزاز مل چکا ہے کہ اس نے ایک نہیں بلکہ مختلف تاریخوں میں 6 تفصیلی خبریں شائع کی تا کہ جنرل راحیل شریف ریٹائرمنٹ کے بعد اسلامی امہ فوج کے سربراہ بن رہے ہیں اس سلسلے میں ہونے والی ہر پیش رفت سے اخبار کے قارئین اور چینل ۵ کے ناظرین کو آگاہ کیا گیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسلامی ممالک کے وزراءدفاع کونسل کے اجلاس سے پہلے جو کہ اگلے ماہ متوقع ہے یہ چارٹ تیار کر لیا جائے گا ہر ممالک کی فوج، مالی وسائل اور میسر سامان حرب کے پیش نظر ان کے ذمہ کتنے فوجی، سپاہی افسر اور کتنا سامان حرب لگایا گیا ہے۔ اور کونسل اس چارٹ کی حتمی منظوری کے بعد اعلان کرے گی۔ دریں اثناءیہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس وقت بھی سعودی عرب میں 1180 پاکستانی فوج کے تربیت یافتہ افسران اور ارکان موجود ہیں جو تربیتی مراکز کے علاوہ مشاورتی فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ یہ فوجی اور اہلکار 1982ءمیں پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب بھیجے گئے تھے اور وقتاً فوقتاً انہیں تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔ اگر اسلامی امہ فوج کے لئے جیسا کہ بتایا جا رہا ہے ایک بریگیڈ حاضر سروس فوجی بھیجنے کا فیصلہ ممکن ہو گیا تو پہلے سے موجود 1180 پاکستانی فوجی افسروں اور اہلکاروں کو ملا کر کل تعداد 6180 ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ ریٹائرڈ جرنیل اور خصوصی شعبوں کے ریٹائرڈ تعداد کے علاوہ ہوں گے جنہیں جنرل (ر) راحیل شریف ہیڈ کوارٹر میں کمان کی سطح پرفرائض کی ادائیگی کے لئے خود منتخب کریں گے واضح رہے کہ ایک بریگیڈ کی خبر بھی سب سے پہلے روزنامہ خبریں سابق آرمی چیف کے عہدہ¿ ملازمت کے دوران شائع کر چکاا ہے اور گزشتہ دنوں دو ایک ذرائع سے سامنے آنے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ ایک بٹالین نفری السعودیہ پاک فوج سے لی جا رہی ہے کیونکہ ایک بٹالین میں صرف 800 فوجی شامل ہوتے ہیں۔ روزنامہ خبریں اور چینل ۵ کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس امر کا بھی امکان ہے کہ وزراءدفاع کونسل کے اجلاس کے بعد جو کہ اگلے ماہ متوقع ہے۔ مزید پاکستانی فوجیوں کی ضرورت پڑے گی جو اسلامی امہ فوج بنانے والے مسلم ممالک میں مضبوط ترین تجربہ کار ترین اور عالمی شہرت والے فوجی شمار ہوتے ہیں تاہم حتمی فیصلہ اس کونسل کے اجلاس کے بعد ہو گا جیسا کہ سعودی جنرل عصیری نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کو دیئے جانے والے انٹرویو میں کیا۔ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس منصوبے بارے سابق آرمی، موجودہ آرمی چیف، وزیراعظم پاکستان کو شروع سے علم تھا یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی خبریں آنے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے پہلے تصدیق کی، پھر مشیر خارجہ سرتاج عزیز سمیت دونوں نے سینٹ میں تردید کی خبریں نے اپنی خبروں کی صحت پر اصرار کیا اور اخبار کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے اپنے ٹی وی پروگرام میں کھل کر یہ کہا کہ جناب سرتاج عزیز کا یہ کہنا آئندہ بھی اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا یہ کہنا کہ مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی جب میں نے اس خبر کی تصدیق کی غلط اور بے بنیاد ہے خبریں نے چیف ایڈیٹر نے کہا تھا کہ اس منصوبے پر کام جاری ہے اور خبریں کے قارئین ہی نہیں دنیا دیکھے گی کہ جنرل راحیل شریف اسلامی امہ فوج کے سربراہی کے لئے سعودی عرب جائیں گے۔ بعد ازاں چند ہفتے قبل وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جووزیراعظم نوازشریف کے انتہائی قریبی معتمد اور رشتہ دار ہیں نے یہ دھماکہ کر دیا کہ اسلامی امہ فوج کے لئے جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ امر بھی واضح رہے کہ اس منصوبے کی وزیراعظم نوازشریف کو مکمل تائید اور حمایت حاصل ہے اور ہر مرحلہ پر رہی ہے اور مستقبل میں بھی یہی امکان ہے کہ امن فوج کی ضرورت کے پیش نظر ایک پاکستانی بریگیڈ یعنی اہلکاروں اور افسروں کو اسلامی امن فوج کے سپرد کرنے کی منظوری دے دیں گے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain