تازہ تر ین

جے یو آئی قافلہ پر خودکش حملہ, ذمہ داری کس نے قبول کی؟, دیکھئے بڑی خبر

مستونگ‘ کوئٹہ‘ اسلام آباد (نمائندگان خبریں) بلوچستان کے علاقے مستونگ میں خودکش بم دھماکے میں25 افرادشہید جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جے یو آئی کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔شہید ہونے والوں میں مولانا عبدالغفور حیدر ی کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔ڈپٹی ایم ایس مستونگ اسپتال نے دھماکے میں 28 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ 42 سے زائد زخمیوں کومستونگ اسپتال لایا گیاہے۔پولیس کے مطابق دھماکا مستونگ میں اس وقت ہوا جب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری مدرسے میں دستار بندی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے۔دھماکے کے بعد ریسکیو عملہ اور سیکورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔مولانا عبدالغفور حیدری کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ دھماکے کے بعد مستونگ سول اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں متعدد گاڑیوں کونقصان پہنچا جن میں سڑک کنارے گزرنے والی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔حکومتِ بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کے مطابق اس واقعے میں عبدالغفور حیدری بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔دھماکے میں عبدالغفور حیدری کی گاڑی بھی تباہ ہوئی ہے تاہم حکام نے تاحال اس کی نوعیت کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ زخمیوں کا علاج مستونگ کے ضلعی ہسپتال اور رئیسانی ہسپتال میں جاری ہے جبکہ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی لیویز اور ایف سی کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ صدر مملکت ممنون حسین نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری اور ان کے قافلے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت ،حملے میں جاں بحق ہونے والے افرادکے بلند درجات کی دعا کی ہے اور ان کے خاندان سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدی اور دیگر زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ صدر مملکت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد اور دیگر متاثرین کو ہر ممکن طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ پوری قوم نے دہشت گرد ی کا جواں مردی سے مقابلہ کر رہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز پورے ملک میں دہشت گرد وں کا پیچھا کر رہی ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ان کے خلاف کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دشمن پاکستان کی ترقی سے خائف ہو کرمعصوم شہریوں کو اپنی بزدلانہ کاروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن پور ی قوم ان سے نمٹنے کے لیے متحد ہے۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی کا کہنا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری پر خودکش حملے میں ان کے ڈائریکٹر اسٹاف افتخار مغل بھی شہید ہوئے۔ واضح رہے کہ مولانا عبدالغفور حیدری کے پرسنل سیکرٹری افتخاراحمد کی لاش بھی سول ہسپتال کوئٹہ لائی گئی ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف ‘ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر خودکش حملے کی مذمت کی ہےاور قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے جبکہ وزیراعظم نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مستونگ دھماکہ دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ امیر جماعت اسلامی سنیٹر سراج الحق کا جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ٹیلی فون ‘ ڈپٹی چیئرمین سینٹ عبدالغفور حیدری اور دیگر ساتھیوں کی خیریت دریافت کی۔وزیر مملکت اطلاعات نے مستونگ میں عبدالغفور حیدری کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی دین اور نہ ہی کوئی مذہب ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک بہادر مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئر مرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے ڈپٹی چیئرمین سینٹ اورجمعیت علماءاسلام کے سینئر رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلہ کو مستونگ میں نشانہ بنانے پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دھماکہ میں شہید ہونے والوں کے ورثاءسے اظہار تعزیت کیا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ مولاناعبدالغفور حیدری کو زیادہ زخم نہیںآئے انہوں نے شہداءکے ورثاءکیلئے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے مستونگ بلوچستان میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر دہشت گردانہ حملے کے خلاف( کل)اتوار کو یوم سوگ کا اعلان کردیا، دہشت گردی کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوگا ، تمام سیاسی ودینی جماعتوں سے شرکت کی اپیل کردی گئی ہے ، سربراہ جے یو آئی کے مطابق سانحہ مستونگ میں 28افراد جاں بحق اور 42زخمی ہوئے ہیں جبکہ دونوں رہنماﺅں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس بزدلانہ وسفاکانہ دہشت گردی سے آئین وقانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والی قوتوں کے حوصلے قطعاً پست نہیںہوں گے ،تمام علماءکرام متفق ہیں کہ پاکستان میں مسلح جدوجہد قطعاً جائز نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور مولانا فضل الرحمان نے جمعہ کو پارلیمنٹ لاجز کا دورہ کیا اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی رہائش گاہ پر جاکر سانحہ مستونگ کے حوالے سے یکجہتی کا اظہار کیا ۔دونوں رہنماﺅں کا مشاورتی اجلاس بھی ہوا جس میں دہشت گردی کے سفاکانہ واقعہ کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال پر غور کیا گیا ۔دونوں رہنماﺅں نے اس دہشتگردی کو ریاست پاکستان پر حملہ قراردے دیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پوری قوم پر حملہ ہوا ہے کیونکہ مجرمانہ عمل کے ذریعے شہریوںکی زندگیاں چھیننا کسی بھی طورپر درست اور جائز نہیںہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم آئین پاکستان قانون کی عملداری اور جمہوریت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں چاہے ہمیں اس کی کوئی بھی قربانی دینا پڑے ، ہم اپنی اس آئینی اور جمہوری جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کا سفر جاری رکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اتوار کو یوم سوگ ہوگا ،پوری قوم سانحہ مستونگ کو یوم سوگ کے طور پر منائے گی اور ملک بھر میں مظاہرے ہوںگے ۔ پوری قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حوصلہ نہ ہاریں اور اپنی یکجہتی اور قومی وحدت کو برقرار رکھیں کیونکہ اس قسم کے واقعات میں ملوث عناصر کی کوشش ہی قوم میں انتشار پیدا کرنا ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ریاست پاکستان پر حملہ ہوا ہے ، دشمن کے اس بزدلانہ حملے سے قطعاً خوفزدہ نہیں ہو سکتے ، آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اس کےلئے قوم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیںکرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان سے کہتا ہوں کہ وہ پر امن رہیں اور پر امن رہ کر اس واقعہ کے خلاف احتجاج کریں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہم اپنے اس غم کو طاقت میں تبدیل کردیں گے اوران عناصر کے جو پاکستان کے دشمن ہیں اور ریاست میں اپنی مرضی کی حکمرانی چاہتے ہیں کہ عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی پاکستان میں سسٹم کو ڈاواں ڈول نہیں کرسکتا ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں ان عناصر کو شکست ہو چکی ہے جو پاکستان میں سسٹم کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کے جن لوگوں پر حملے ہوئے ہم نے ان معاملات کی پیروی نہیںکی ، ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے کہ حملہ آور کون ہیں اور اس کے کیا ارادے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کرتے ہوئے ایسی شخصیات جو ملک کی نمائندگی کرتی ہیںکہ تحفظ کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے تمام جید علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں مسلح جدوجہد کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ ہمیں ان واقعات کے حوالے سے عالمی اور خطے کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا ، آج پاکستان اور اس کی قوم جو بھگت رہی ہے یہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی جنگ کے اثرات ہیں جبکہ پاکستان کو داخلی اور خارجی طورپر دہشت گردی کا سامنا ہے ، کامیاب فوجی آپریشنز بھی ہوئے ہیں ، دہشت گردوں کے عزائم کامیاب نہیںہوسکتے ۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ نے سکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ اور چمن کا دورہ ملتوی کردیا، جمعہ کے روز مستون میں جمعیت علمان اسلام(ف) کے رہنماءڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفوری حیدری کے قافلے پر خودکش دھماکے کے بعد مولانا فضل الرحمنٰ نے دورہ بلوچستان سکیورٹی وجوہات کی بناءپر ملتوی کردیا، مولانا فضل الرحمانٰ نے14 اور15 تاریخ کو کوئٹہ اور چمن کا دورہ کرنا تھا سانحہ چمن میں ہونے والے زخمیوں کی عیادت کرنا تھی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved