تازہ تر ین

سابق وزیر اعلیٰ سندھ کی کزن اور صوبائی وزیر کے بھانجے بارے المناک خبر

کراچی (خصوصی رپورٹ) شادی ایک مقدس فریضہ ہے جس کو ہمارے خطے میں ایک مصیبت اور خوفناک معاملہ بنادیا گیا ہے۔ اس خطے میں سب سے پہلے بلوچ اور پختون قبائل نے غیرت کے نام پر قتل شروع کئے حالانکہ قرآن و سنت کے مطابق کسی کو قتل کرنا سنگین جرم ہے۔ قتل کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمایا ہے کہ ایک قتل ناحق پوری انسانیت کا قتل ہے اور ایک انسان کی جان اللہ کو خانہ کعبہ سے بھی زیادہ پیاری ہے‘ لیکن ہمارے اس خطے میں قتل عام کو غلط نہ سمجھا گیا‘ خصوصاً عورتوں کے قتل کو غیرت کا نام دیا گیا۔ یہ ایک طویل تاریخ ہے کہ کس طرح اپنی بہن‘ بیٹی‘ بیوی یہاں تک کہ ماں کو بھی نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیا گیا اور جس مرد پر الزام عائد کیا گیا اس سے صرف مالی فائدے جرمانے کی شکل میں لئے گئے۔ اس لئے جب ماضی میں برصغیر پر انگریزوں کی حکومت آئی تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ جس نے غیرت کے بہانے سے عورت کو قتل کیا‘ اس قاتل کے پورے خاندان کو ڈیتھ سکواڈ کے ذریعے قتل کر دیا جائے گا۔ اعلان کے بعد ایک بلوچ نوجوان نے ضلع جیکب آباد میں اپنی بیوی کو قتل کر ڈالا تو انگریز حکومت نے اس خاندان کے 9افراد کو میدان میں کھڑا کر کے ڈیتھ سکواڈ کے ذریعے مار ڈالا‘ تب جا کر اس زمانے میں عورتوں کا قتل عام بند ہوا۔ سابق فوجی حکمران جنرل (ر) پرویزمشرف کے دور میںگھوٹکی سے آزاد حیثیت میں رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے والے سردار علی محمد مہر کو جنرل احسان کی سفارش پر وزیراعلیٰ سندھ بنا دیا گیا۔ علی محمد مہر کے دور میں پنوعاقل سے تعلق رکھنے والے بلخ شیر مہر اور شائستہ عالمانی نے پسند کی شادی کی تھی اور پھر اس وقت کے وزیراعلیٰ علی محمد مہر نے سرتوڑ کوشش کی تھی کہ کسی طریقے سے بلخ شیر اور شائستہ واپس ورثاءکے حوالے کئے جائیں لیکن اس وقت کے ٹی پی او صدر ایس ایس پی ثناءاللہ عباسی نے دونوں کو متعلقہ عدالت میں پیش کر دیا اور عدالت نے دونوں کو شیلٹر ہوم بھیج دیا‘ بعدازاں قبائلی تنازع پر 7افراد مار دیئے گئے تب شائستہ اور بلخ شیر ناروے چلے گئے اور تاحال وہ ناروے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ علی محمد مہر کی جانب سے بلخ شیر مہر کو اس لئے انتقام کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی کیونکہ وہ پیر پگاڑا کا مرید تھا اور علی محمد مہر کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اب حال ہی میں علی محمد مہر کی کزن اور علی بخش مہر کی بیٹی جگنو مہر نے صوبائی وزیرجام مہتاب ڈہر کے بھانجے تیمور ڈہر سے پسند کی شادی کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں آپس میں کزن بھی ہیں کیونکہ علی بخش مہر کی اہلیہ کا تعلق ڈہر خاندان سے ہے۔ ضلع گھوٹکی میں ڈہر خاندان پرامن کہلاتا ہے۔ ڈہرکی شہر بھی ڈہر قبیلے نے آباد کیا تھا۔ جگنو مہر اور تیمور ڈہر کی شادی نے مہر خاندان کو مشتعل کر دیا۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ علی بخش مہر نے اپنے تعلقات کو استعمال کیا۔ دونوں کو بلوچستان کے ایک بااثر سیاسی خاندان نے پناہ دی تھی لیکن انہیں کسی طرح افغانستان کی سرحد تک لے جایا گیا۔ شبہ ہے کہ ان دونوں کو افغانستان میں پناہ دینے کے لالچ میں محفوظ مقام سے نکلوایا گیا اور پھر دونوں کو افغان سرحد کے قریب قتل کردیا گیا اور پھر وہیں دفن بھی کیا گیا۔ قندھا کے ایک انگریزی اخبار نے چھوٹی سی خبر شائع کی ہے کہ افغان سرحد کے قریب ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو افغان شہری کے ساتھ ہلاک کردیا گیا ہے۔ لڑکے کی شناخت تیمور کے نام سے ہوئی ہے اور لڑکی و افغان شہری کی شناخت نہیں ہو سکی۔ تینوں کو افغانستان میں ہی دفن کر دیا گیا۔ ڈہر خاندان اس وقت افغانستان‘ پاکستان کی سرحد پر پہنچ گیا ہے لیکن تاحال انہیں لاشیں نہیں دی گئی ہیں لیکن یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ تیمور کو ایک لڑکی اور افغان شہری کے ساتھ قتل کر دیا گیا ہے۔ لاشیں بھی افغانستان میں دفن کی گئی ہیں۔ اس وقت متاثرہ خاندان بے بسی کے عالم میں طورخم کے قریب موجود ہے اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ گھوٹکی میں ہر زبان پر یہی بات ہے کہ مہر خاندان بااثر ہے اور اس نے افغانستان کی سرحد پر لڑکے اور لڑکی کو افغان فورسز کے ہاتھوں مروا دیا اور ثبوت بھی مٹا دیا اور متاثرہ خاندان کو دادرسی کا بھی حق نہیں دیا۔ اس طرح تیمور ڈہر اور جگنو مہر کی محبت کا منطقی انجام بہت خراب ہوا ہے۔ دونوں کو دھوکہ دے کر افغانستان میں قتل کر دیا گیا اور پھر لاشیں بھی ورثاءکے حوالے نہیں کی گئیں۔ قتل کی خبر اگر قندھار ٹائمز نہ دیتا تو شاید ورثاءکو پوری زندگی پتہ بھی نہ چلتا کہ وہ کہاں ہیں‘ لیکن اب جبکہ دونوں کو قتل کر دیا گیا ہے تو ورثاءمیں بے چینی پھیل گئی ہے۔ لیکن مہر خاندان مکمل خاموش ہے۔ ڈہر خاندان لاشیں نہ ملنے کے باعث تاحال تعزیت وصول نہیں کر رہا ہے لیکن ضلع گھوٹکی میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پولیس نے مختلف شہروں میں ریڈالرٹ کر رکھا ہے‘ کسی بھی ناخوشگوار واققہ سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات کئے گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جگنو اور تیمور کو جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی کی روایتی سوچ کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ دونوں کو صرف اس لئے قتل کیا گیا ہے کہ انہوں نے خاندانی روایات سے بغاوت کر کے شادی کر لی تھی اور نام نہاد وڈیروں کی غیرت جاگ گئی اور انہوں نے اسی غیرت کے نام پر دونوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ آج دونوں دیار غیر میں منوں مٹی تلے دفن ہیں جہاں ان پر فاتحہ پڑھنے والا کوئی نہیں ہے۔ مہر خاندان اس لئے خوش ہے کیونکہ ان کی روایتی غیرت کو للکارنے والی لڑکی اب اگلے جہاں کو چلی گئی ہے اور جس نے بھی اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے اس نے سارے ثبوت مٹا دیئے ہیں۔ تیمور کا خاندان جیتے ہی مردہ تصویر بنا ہوا ہے‘ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور حکومت سندھ یا وفاقی حکومت نے ان کی مدد کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ پہلے یہ معاملہ پی پی کی قیادت کے سامنے اٹھایا گیا تھا‘ پی پی قیادت نے دونوں خاندانوں کو خاموش رہنے کیلئے کہا تھا لیکن اب پی پی قیادت نے لاشیں ورثاءکے حوالے کرنے کیلئے ابھی تک کوئی تحرک نہیں لیا۔ یوں روایتی سوچ کامیاب ہو گئی اور دو معصوم نوجوان موت کی بھینٹ چڑھ گئے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain