اسلام آباد(صباح نیوز)سابق صدر پرویز مشرف نے کہاہے کہ نوازشریف آئندہ الیکشن بھی دھاندلی سے جیتیں گے۔ پاناما فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر نوازشریف کا مذاق اڑایا جارہاہے۔فوج کےخلاف سوشل میڈیا پر تنقید تشویشناک ہے۔ وزیراعظم نوازشریف جیل
میں والی بال کھیلا کرتے تھے ،اب بہانا بناتے ہیں کہ تکلیف میں رکھا گیا۔جب لوگ بر ابھلا کہہ رہے ہوں تو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔راحیل شریف بڑا جنرل سمجھتا ہوں۔ تین ججوں نے نوازشریف کی تفتیش کا کہاہے۔ جب ضمنی الیکشن میں حکومتی مشینری استعمال ہو تو کیسے ہار سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے اپنی مرضی سے بیان حلفی دیا ،ان پر دباﺅ نہیں ڈالاگیاتھا۔ راحیل شریف کو ایک بڑا جنرل سمجھتاہوں ۔ نجی ٹی وی انٹرویو میں سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ فوج کےخلاف سوشل میڈیا پر تنقید تشویشناک ہے۔ ڈان لیکس پر آرمی چیف نے آرمی کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔آئی ایس پی آر نے جو ٹوئٹ کیا میری نظر میں ٹھیک تھا۔ فوج پر وزیر اعظم کا کوئی دباﺅ نہیں ہوتا تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر آرمی چیف وزیراعظم کو آئینی سربراہ سمجھتا ہے ڈان لیکس کے کیس میں جن لوگوں کو سزا دی گئی وہ بلا مقصد ہے ۔ طارق فاطمی کا عہدے سے ہٹایا جانا بہتر بات ہے ان کا وزارت خارجہ میں نہ ہونا بہتر ہے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ راحیل شریف کو ایک بڑا جنرل سمجھتا ہوں نواز شریف کا فوج سے لڑائی کا سلسلہ بڑا عجیب تھا ڈان لیکس کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم کی ساکھ ختم ہو چکی ہے کرکٹ کے میچوں میں بھی گو نواز گو کے نعرے لگ رہے ہیں پاناما کیس میں دو ججوں نے وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ دیا ہے تاہم باقی تین نے ان کے حق میں فیصلہ نہیں دیا ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف دھونس دھاندلی سے الیکشن جیت جاتے ہیں حکومتی مشینری کا استعمال ہوتے کیسے الیکشن نہیں جیتیںگے جیل میں نواز شریف والی بال کھیلتے تھے اور باہر سے کھانے اور مٹھائیاں آتی تھیں میں نے کبھی کسی کو نہ کہا کہ ان کو تکلیف دو میں زبردستی کوئی کام نہیں کرتا اسحاق ڈار نے مرضی سے بیان حلفی دیا میرے دور میں سیاسی مخالفین پر کوئی دباﺅ نہیں تھا نواز شریف کو استعفیٰ دے دینا چاہیے جب لوگ بُرا بھلا کہہ رہے ہوں تو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے ۔پرویز مشرف نے کہا کہ اس وقت ملک کی سیاست کو ایک تیسری سیاسی قوت کی ضرورت ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فوج ہندوستان کے معاملے پر وزیراعظم کے ساتھ آن بورڈ نہیں ہے تاہم اس بات پر آن بورڈ ضرور ہے کہ ان کے ساتھ تعلقات بڑھانے چاہیں امن ہونا چاہیے اور تنازعات حل ہونے چاہیں اگر ہم نے ان کے ساتھ تعلقات رکھنے ہیں تو وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کو برقرار رکھیں گے ہم ان کے سامنے بچھ نہیں سکتے۔ہم ہندوستان کے سامنے کمزوری سے جھک نہیں سکتے پاکستان کے ساتھ ٹریڈ ہندوستان کا آئیڈیا ہے ہندوستان کے ساتھ غیر متوازن تعلقات فوج کا کوئی جوان برداشت نہیں کرے گا۔





































