اسلام آباد (خبر نگار خصوصی، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی کے اجلاس مےںاپوزیشن جماعتوں نے ڈان لیکس کی رپورٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈان لیکس وزیر داخلہ یا ڈی جی آئی ایس پی آر کا فیصلہ نہیں ۔ اگر ہم پارلیمنٹ کو بالادست سمجھتے ہیں تو ڈان لیکس معاملے کو پارلیمنٹ میں لایا جانا چاہئے ۔۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ چودھری نثار کو قبول کرنا ہو گا کہ ڈان لیکس سکیورٹی کا معاملہ تھا ۔ پھر بیان بھی جاری کیا کہ حکومت اور فوج میں معاملات طے پا گئے ہیں کیا معاملات طے ہوئے بتایا جائے ۔ جب نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا تو بعد میں معاملات کیسے طے پائے ۔ چودھری نثار اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو اپنے بیانات واپس لینا ہوں گے کہ یہ سکیورٹی معاملہ نہیں اگر سکیورٹی معاملہ ہے تو پھر معاملات کیسے طے پایا ۔ شیریں مزاری نے کہاکہ ڈان لیکس کی کہانی سچ تھی یا جھوٹ ۔ اس بارے میں قوم کو بتایا جائے کہ کیا سکیورٹی کے حوالے سے غلط کہانی گھڑی گئی اور اگر یہ سچ ہے تو یہ انتہائی پریشان کن صورت حال ہے ۔ قوم کو تمام معاملات سے آگاہ کیا جائے اس حوالے سے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی راہنما اسد عمر نے کہا کہ وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈان لیکس معاملے میں ملک افواج کے خلاف من گھڑت خبر ہے اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی بیان جاری کیا ۔ خبر یہ تھی کہ فوج ایسے کام کر رہی ہے جن کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہو رہا ہے اگر ایسا سچ ہے تو یہ بہت بڑی خبر ہے ۔انہوں نے کہا کہ طارق فاطمی اور راﺅ تحسین کا اس معاملے میں کیسے قصوروار ہیں ۔ خبر رکوانا کیسے جرم ہو سکتا ہے اور اگر یہ خبر من گھڑت تھی تو کس نے لگوائی یا المینڈا نے خود خبر گھڑی تو یہ بھی بہت بڑا جرم ہے ۔ اسد عمر نے کہا کہ ڈان لیکس ڈجی جی آئی ایس پی آر کا فیصلہ نہیں یہ پارلیمنٹ فیصلہ کرے گی ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی بنانا اور قانون سازی کرنا پاکستان کی سول حکومت کا اختیار ہے ۔ فوج کے خلاف خبرلگوانا سازش ہے ۔ سپاہی امجد ، مطیع ، ارشد ، کیپٹن(ر) خاور ، میجر عمران ، میجر مدثر یہ وہ لوگ ہیں جو گزشتہ کچھ عرصہ میں ملک کی حفاظت کے لئے شہید ہوئے ہیں ہم یہ کہتے ہیں کہ ڈان میں رپورٹ قوم کے سامےن لائی جائے ۔ ممبر اسمبلی منزہ نے کہا کہ اس رپورٹ کو خفیہ کیوں رکھا جا رہا ہے اس کے ٹی او آرز کیا تھے ۔پرویز رشید ، طارق فاطمی اور راﺅ تحسین کو فارغ کیا گیا ۔ راﺅ تحسین نے عدالت سے بھی رجوع کیا ہے اس حوالے سے پوری حکومت کو مستعفی ہو جانا چاہئے ۔صدر مملکت 23 مارچ اور 14 اگست کو نظر آتے ہیں انہوں نے اس حوالے سے کیا کردار ادا کیا ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے کہ ہمیں اس حوالے سے معلومات فراہم کی جائیں اور رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے رپورٹ پر اقدام اٹھائے ان میں طارق فاطمی صاحب کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ۔ آج سوشل میڈیا پر آ رہا ہے کہ جس کو عہدے سے ہٹایا گیا وہ سرکاری دورے پر وفد کے ہمراہ چین گیا ہوا ہے جس سے قلمبدان لے لیا گیا لیکن وہ سرکاری دورے پر موجود ہے کیا یہ سکیورٹی بیچ والے شخص کو سزا دی گئی ہے ۔ نوید قمر نے کہا کہ حکومت کو اس پر جواب دینا چاہئے کہ کیا یہ قومی سلامتی کا معاملہ تھا یا نہیں ۔ صرف یہ کہنا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹوئٹ واپس لے لیا یہ کافی نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے جو کہا گیا وہ سب غلط تھا اس حوالے سے حکومت کو جواب دینا چاہئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم سب یہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ بالادست ہے اس کو قائم رکھا جائے گا ۔ ایم کیو ایم راہنما صلاح الدین نے کہاکہ اگر ہم پارلیمنٹ کو بالادست سمجھتے ہیں تو ڈان لیکس معاملے کو پارلیمنٹ میں لایا جانا چاہئے ۔ اس حوالے سے الگ سیشن بلایا جانا چاہئے ۔ یہ سب پارلیمنٹ کے سامنے آنا چاہئے۔ پانامہ پیپرز انکوائری بل 2016ء¾ کارپوریٹ بحالی بل 2015اور فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2017ءپیش کر نے کی تحاریک مسترد کر دیں ۔ منگل کو قومی اسمبلی میں ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے تحریک پیش کی کہ پاناما پیپرز انکوائری بل 2016ءزیر غور لایا جائے ¾وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں طے پاچکا ہے ¾سید نوید قمر نے بھی اس بات پر زور دیا کہ یہ معاملہ اس طرح ختم نہیں ہو سکتا۔قومی اسمبلی نے دستور (ترمیمی) بل 2017ءپیش کرنے کی تحریک کثرت رائے سے مسترد کردی۔ کنور نوید جمیل نے تحریک پیش کی کہ دستور (ترمیمی) بل 2017ءپیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ بل کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت ملک کے ہر شخص کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے بل کی مخالفت کی اور کہا کہ صدر‘ گورنر اور دیگر اہم شخصیات کو فرائض کی ادائیگی کی وجہ سے انہیں یہ رعایت حاصل ہے۔ ایوان نے بل پیش کرنے کی تحریک کثرت رائے سے مسترد کردی۔ اجلاس کے دوران فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2017ءپیش کرنے کی تحریک مسترد کردی گئی ۔ حق بلا معاوضہ لازمی تعلیمی (ترمیمی) بل 2017ءمتعلقہ قائمہ کمیٹی کو مزید غور کے لئے بھجوا دیا گیا۔ فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2017ءقومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ شکیلہ لقمان نے تحریک پیش کی کہ فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2017ءپیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ پارلیمانی سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر محمد افضل ڈھانڈلہ نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ ایوان سے اجازت ملنے پر شکیلہ لقمان نے بل ایوان میں پیش کیا جو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔اجلا س کے دوران دستور (ترمیمی) بل 2017ءپیش کرنے کی تحریک وزیر قانون کی یقین دہانی پر محرک نے واپس لے لی۔ عالیہ کامران نے تحریک پیش کی کہ دستور (ترمیمی) بل 2017ءپیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ اس پر کمیٹی میں کام ہو رہا ہے ¾ ہمارا بل آرہا ہے ¾ فاضل رکن بل واپس لے لیں۔ عالیہ کامران نے اس یقین دہانی پر بل واپس لے لیا۔اجلا س کے دور ان وکلاءو بار کونسلز (ترمیمی) بل 2017ءقومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی 6 رپورٹیں قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رانا شمیم احمد خان نے قومی ادارہ انسداد و دہشت گردی (ترمیمی) بل 2017ئ‘ فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2014ئ‘ حصول اراضی(ترمیمی) بل 2016ئ‘ انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2016ءاور صوبائی موٹر وہیکلز (ترمیمی) بل 2015ءپر کمیٹی کی 6 رپورٹیں یکے بعد دیگرے ایوان میں پیش کیں۔اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی دو رپورٹیں قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین چوہدری محمود بشیر ورک نے مجموعہ ضابطہ دیوانی (ترمیمی) بل اور قانونی اصلاحات (ترمیمی) بل 2016ءپر کمیٹی کی دو رپورٹیں ایوان میں پیش کیں۔اجلاس کے دور ان تیزاب اور آگ سے جلانے کے جرم کے بل 2014ءسے متعلق رپورٹ پیش کردی گئی۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رانا شمیم احمد خان نے ایوان سے صرف نذر کی تحریک کی منظوری کے بعد تیزاب اور آگ سے جلانے کے جرم کا بل 2014ءپر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کی نمائندگی عوام (ترمیمی) بل 2017ءپر رپورٹ پیش کردی گئی۔ عارف خالد نے قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کی نمائندگی عوام (ترمیمی) بل 2017ءپر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے قاعدہ 2007ءمیں صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد صدارتی خطاب پر بحث کے لئے 30 دن کی مدت مقرر کرنے اور تحاریک کے حوالے سے ترامیم متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردی گئیں۔





































