اسلام آباد، سیالکوٹ (خصوصی رپورٹ+ بیورو) پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کو نوازشریف سے جائیداد کے ثبوت مانگنے چاہئے تھے۔ پاکستان میں ایک ہزار ارب روپے سالانہ چوری ہو رہا ہے۔ ن لیگ والوں کو مشرق وسطیٰ سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔ شاہراہ دستور پر میرا فلیٹ ظاہر نہیں کیا گیا تو یہ اکاﺅنٹینٹ کی غلطی ہو گی۔ پارلیمنٹ جانے کا کیا فائدہ وہاں جا کر ”فولش“ باتیں سنوں، آصف زرداری کے ساتھ مل کر کرپشن کے خلاف تحریک چلانا ممکن نہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کو نوازشریف سے جائیداد کے ثبوت مانگنے چاہئے تھے۔ صادق اور امین کی شرط پوری دنیا کے قانون میں ہے۔ ملک بچانے کیلئے یہ ضروری ہے۔ آج پاکستان میں کرپشن عروج پر پہنچی ہوئی ہے۔ ایک ہزار ارب روپے سالانہ چوری ہو رہا ہے۔ نوازشریف نے ابھی تک منی ٹریل نہیں دی۔ سویلین ادارے اس کی تحقیقات کریں۔ دوسرے ممالک میں فنڈنگ دیتے ہیں وہ آپ کو استعمال کرتے ہیں مجھے ایک ملک نے آفر کی میں نے اسے منع کر دیا۔ اس کا نام نہیں بتاﺅں گا۔ ن لیگ کو دوسرے ملکوں کے کاروباری لوگ فنڈنگ کرتے ہیں۔ انہیں مشرق وسطیٰ سے پیسہ آتا ہے۔ میں نے 1983ءمیں لندن میں فلیٹ لئے۔ میں کرکٹ سے پیسہ کماتا تھا۔ (7) سال بعد شوکت خانم کھولا۔ لندن فلیٹ بیچ کر پیسہ پاکستان لے کر آیا۔ اگر آف شور نہ بناتا تو مجھے 35 فیصد ٹیکس دینا پڑتا۔ 2002ء میں بنی گالہ کی زمین جمائما کے پیسوں سے لی۔ فلیٹ بیچ کر پیسے اسے واپس کر دیئے۔ 2004ءمیں طلاق ہو گئی۔ اس نے وہ رقم مجھے گفٹ کر دی۔ جمائما نے مجھے گٹ کر دیا تو یہ حلال تھی۔ نیازی سروسز کے نام سے آف شور کمپنی اس لئے بنائی کہ فلیٹ خریدنا تھا۔ شاہراہ دستور پر فلیٹ ظاہر نہیں ہوا تو اکاﺅنٹینٹ سے غلطی ہو گئی ہو گی۔ میرا ہر پیسہ حلال کا ہے میں سچ کہتا ہوں۔ یہ جھوٹ بولتے ہیںایک بیٹا کچھ کہتا ہے بیٹی کچھ کہتی ہے۔ ڈان لیکس پر سات مہینے کیوں لگے۔ اگر غلط کام نہیں کیا تو 3 بندوں کو کیوں نکالا گیا۔ کہنے میں سول ملٹری معاملہ طے ہو گیا۔ اس سے سوال اور بڑھ گئے ہیں۔ ڈان لیکس اب پارلیمنٹ میں بھی آئے گا۔ میمو گیٹ پر نوازشریف کالا کوٹ پہن کر عدالت چلے گئے۔ تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ ہم ہر کیس سپریم کورٹ لے کر جا رہے ہیں۔ اسامہ کی فنڈنگ کا کیس بھی سپریم کورٹ لے کر جاتے رہے ہیں۔ خالد خواجہ نے قبول کیا کہ نوامشریف کو اسامہ کے پیسے دیئے۔ ان کے خلاف کوئی ادارہ کام نہیں کرتا۔ جے آئی ٹی سے زیادہ امید نہیں ہے۔ ہمیں کسی ادارے سے بھی امید نہیں ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے۔ پارلیمنٹ میں ان کے خلاف میں گیا تو سپیکر نے اسے مسترد کر دیا۔ پارلیمنٹ جانے کا کیا فائدہ وہاں جا کر ”فولش“ باتیں سنو۔ ہمارے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہت خراب ہیں۔ مودی کے خلاف ان کی زبان سے ایک لفط نہیں نکلتا۔ ہماری فارن پالیسی کے حالات بہت خراب ہیں۔ کشمیر میں وہاں کے معصوم لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ آصف زرداری آج کہہ رہا ہے کہ آر او الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ دھرنے کے وقت وہ نوازشریف کے ساتھ بیٹھ گئے۔ آصف زرداری کے ساتھ مل کر کرپشن کے خلاف تحریک چلانا بہت مشکل ہے اس پر عوام کو سمجھانا ممکن نہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ڈان لیکس پر مک مکا کسی صورت منظور نہیں، حکمران اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ قوم جاننا چاہتی ہے کہ اس معاملے میں ایسا کیا تھا جسے ”حل“ کر لیا گیا ہے، اس کی تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر لانا ضروری ہے۔ ڈان لیکس دو فریقوں کا نہیں بلکہ ملکی سالمیت کا معاملہ ہے، عوام کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیوں نہیں کیا جا رہا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عمرڈار کی قیادت میں جا نے والے وفد سے بنی گالا میں ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں ضلعی صدر عثمان ڈار، جنرل سیکرٹری عظیم نوری گھمن، سیکرٹری اطلاعات اصغر اعوان عطاری ایڈووکیٹ، احسان اللہ چودھری، شیخ محسن عتیق، سابق ایم پے ایز، چوہدری اخلاق احمد، طاہر محمود ہندلی، سابق اولمپیئن آصف باجوہ، سیٹھ عابد، مرزا دلاور بیگ، ملک زاہد، چوہدری شاہنواز، میاں رفیق، محمد اکمل چیمہ، باﺅ طارق، حاجی ناصر، غلام مصطفی و دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔ چیئرمین عمران خان نے سیالکوٹ میں کا میاب جلسہ کرانے پر عہدیدران اور کارکنان کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے سیالکوٹ کی موجودہ ٹیم پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ سیالکوٹ میں کامیاب اور سب سے بڑا جلسہ کر کے ایک نئی سیاسی تاریخ رقم کر دی ہے۔ شو ڈاﺅن میں لاکھوں افراد نے شرکت کر کے پانامہ کے چوروں اور ان کے حواریوں کے منہ بند کر دیئے ہیں۔ پانامہ چوروں کی حقیقت قوم کے سامنے آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جب تک سچ نہیں بولیں گے دلدل میں پھنستے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل الیکشن ریفارمز ضروری ہے اس پر پاکستان تحریک انصاف اپنا کام مکمل کر چکی ہے۔ انہوں نے پارٹی عہدیداران کو بتا یا کہ سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ان سے رابطے میں تھی اور میں نے عمرڈار سے ملاقات کا کہا جس پر انہوں نے گزشتہ رات ملاقا ت کی۔





































