کراچی (خصوصی رپورٹ) اس وقت سندھ میں سیاسی تماشا لگا ہوا ہے۔ سیاسی مداری ڈگڈگی بجا کر سیاسی پرندوں کو اکٹھا کررہے ہیں اور ایک مجمع لگا ہوا ہے۔ پیپلزپارٹی نے پھر بااثر جاگیردار اور وڈیروں کو اپنے ساتھ ملانے کا عمل شروع کردیا ہے لیکن کہتے ہیں کہ عقل مند کوا دونوں ٹانگوں سے پھنستا ہے۔ یہی حال پی پی کی قیادت کا ہے‘ وہ بڑی عقلمندی دکھا رہے ہیں اور دنیا کو بتا رہے ہیں کہ دیکھا کس طرح آصف زرداری نے اپنی جادوگری دکھا دی اور سب کو اپنے ساتھ ملا لیا؟ لیکن آنے والے کل کے بارے میں کسی کو کیا پتہ؟ اس وقت جو صورتحال سامنے آرہی ہے وہ پی پی کے لئے کوئی بہتر صورت نہیں ہے کیونکہ اس وقت سب کو اکٹھا کیا گیا ہے تو پھر کوئی راضی‘ دوسرا ناراض والی پوزیشن تو رہے گی۔ اب گھوٹکی اور سکھر سے تعلق رکھنے والا مہر گروپ ناراض ہوگیا ہے کیونکہ ان کے سیاسی مخالفین خالد لوند اور دیگر کو پارٹی میں شامل تو کیا گیا ہے لیکن مہر گروپ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اب مہر خاندان نے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے خفیہ رابطے شروع کردیئے ہیں۔ دوسری جانب سید خورشید شاہ بھی پارٹی سے ناراض ہیں کیونکہ پارٹی الیکشن اور بلدیاتی الیکشن میں انہیں کارنر کیا گیا ہے۔ اس طرح سید قائم علی شاہ کو ضلع خیرپور کی سیاست سے آﺅٹ کردیا گیا ہے اور ضلع کونسل اور پارٹی الیکشن میں ان کا ایک بھی حمایتی آگے نہیں آیا۔ ضلع کونسل کے چیئرمین شہر یاروسان بنے ہیں جو منظور وسان کے بھانجے ہیں۔ اس طرح ضلع لاڑکانہ میں سہیل انور سیال کو لفٹ ملی ہوئی ہے۔ نثار کھوڑو اور ایاز سومرو کو لفٹ نہیں مل رہی ہے۔ ضلع شہدادکوٹ میں میرنادر مگسی کو مکمل نظرانداز کیا گیا ہے اور چانڈیو قبیلہ کو بھی زیادہ اہمیت نہیں مل رہی ہے۔ ضلع نوشہرہ فیروز میں سب سے زیادہ اہمیت صوبائی وزیر قانون ضیاءالحسن لنجار کو دی جارہی ہے دیگر ارکان سندھ اسمبلی ناراض ہیں۔ ضلع شکار پور میں آغا سراج درانی کو بھی زیادہ لفٹ نہیں مل رہی ہے۔ ضلع کونسل کے الیکشن اور پارٹی الیکشن میں ان کے حامیوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ ضلع سانگھڑ میں جام مدد علی کو زیادہ توجہ مل رہی ہے۔ باقی رہنماﺅں کو بھی پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔ ضلع ٹنڈو الٰہ یار سے علی نواز شاہ کو نظرانداز کیا جارہا ہے حالانکہ وہ کئی مرتبہ وزیر بھی رہے ہیں اور وہ مالی بے قاعدگیوں میں بھی کبھی ملوث نہیں پائے گئے۔ ضلع حیدرآباد میں سب سے زیادہ توجہ شرجیل میمن اور جام خان شورو کو مل رہی ہے اور سینئر رہنماﺅں کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ضلع دادو میں لیاقت جتوئی جب سے پاکستان تحریک انصاف میں گئے ہیں پی پی کے کئی سینئر رہنما ان سے رابطے میں آگئے ہیں۔ ضلع میرپور خاص میں آفتاب شاہ جیلانی کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ضلع کشمور میں سلیم جان مزاری ناراض ہیں ان کو زیادہ اہمیت نہیں مل رہی ہے۔ ضلع جیکب آباد میں اعجاز جکھرانی کو زیادہ لفٹ ملنے سے دیگر رہنما ناراض بیٹھے ہیں۔ نواب شاہ میں تو کسی کو لفٹ نہیں ہے۔ اس طرح مختلف اضلاع میں ان افراد کو نوازا جارہا ہے جو ماضی میں پی پی پی کے مخالف رہے ہیں۔ اس صورتحال میں پارٹی کے سینئر رہنما ناراض بیٹھے ہیں اور انہوں نے جس طرح خاموشی اختیار کی ہے وہ نئے سیاسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے اور پیپلزپارٹی کو اس کا اندازہ شاید ابھی نہیں ہوگا کہ عام الیکشن کے وقت کون سے رہنما پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور کون پارٹی کو چھوڑ جائے گا؟ اس طوفان سے پہلے گھٹن کا پیپلزپارٹی کی قیادت کو اندازہ نہیں ہے لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ خفیہ ملاقاتوں اور درون پردہ رابطوں کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ ضلع بدین میں اسماعیل راہو نے جب سے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے‘ وہاں بااثر چانگ خاندان ناراض ہوگیا ہے کیونکہ اسماعیل راہو کے والد شہید فاضل راہو کے قتل کیس میں چانگ قبیلے کے تین افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔ انہوں نے پھانسی رکوانے کی بڑی کوشش کی تھی لیکن راہو خاندان نے معاف کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اب ذوالفقار مرزا بھی خاموش بیٹھے ہیں اور کسی بھی وقت سیاسی دھماکہ کرسکتے ہیں۔ قیاس ہے کہ وہ عنقریب بدین میں بڑا جلسہ کرکے نیا سیاسی سفر شروع کریں گے۔ سندھ میں مسلم لیگ فنکشنل‘ مسلم لیگ ن‘ عوامی تحریک‘ مسلم لیگ ق‘ پاکستان تحریک انصاف اور دیگر بااثر افراد مل کر نئی سیاسی پارٹی بنانے یا پھر نیا سیاسی اتحاد قائم کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ اس ضمن میں ایاز لطیف پلیجو سرگرم ہوگئے ہیں جبکہ درجنوں ناراض خاندان نے نئے مجوزہ اتحاد میں شمولیت کی حامی بھری ہے اور اس مرتبہ پولیس بھی عام انتخابات میں بے گار کے طور پر استعمال نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دو الیکشنز میں دھاندلی کرنے کے باوجود پی پی پی اس مرتبہ دھاندلی کرنے کی منصوبہ بندی کرنے سے قبل مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت پر قبل از وقت دھاندلی کرنے کا الزاام لگا کر جگ ہنسائی کا سامنا کررہی ہے اور عام الیکشن کے قریب آتے ہی بہت سے چہرے دوسرے پارٹیوں میں چلے جائیں گے۔ نئے سیاسی کھلاڑی سیاسی میدان میں مقابلہ کریں گے۔





































