اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی دفاعی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے جس میں کمیٹی کے ارکان ، وفاقی وزرا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان شرکت کی۔ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے قومی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے ایل اوسی اور ورکنگ باونڈری کی مسلسل خلاف ورزیوں کامعاملہ زیرغور ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر عالمی برداری سے رابطوں کی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فاٹا میں آپریشن ضرب عضب کے اگلے مرحلے اور آپریشن ردالفساد پر بھی تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے حالیہ دورہ افغانستان پر بریفنگ دی گئی اور باہمی تعلقات پر افغانستان کے تحفظات اور سوچ سے متعلق اجلاس کو آگاہ کیا۔سیکرٹری خارجہ نے شرکا کو افغان صدر اور دیگر افغان حکام سے ہونے والی ملاقاتوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ 4 فریقی مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے کیلئے کردار ادا کرنے کوتیارہیں، اپنے دورے کے دوران افغان حکومت کوآگاہ کیا کہ پاکستان مصالحتی عمل کیلئے پرعزم ہے۔پاکستان کی جانب سے افغان صدر کو پیش کردہ موقف سے بھی آگاہ کیا گیا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ افغان حکومت کو دہشتگرد گروپوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے اقدامات کاکہا ہے۔ ملک کی اندرونی و بیرونی سکیورٹی صورت حال پر غور و خوص کیا گیا جبکہ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے دورہ افغانستان پر بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ افغان حکومت کو پاکستان کے دوٹوک موقف سے آگاہ کیا ہے اجلاس میں تہمینہ جنجوعہ کی جانب سے حالیہ دورہ افغانستان پر بریفنگ بھی پیش کی گئی جس میں تہمینہ جنجوعہ نے بتایا کہ انہون نے افعان صدر سمیت دیگر اعلی قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں ۔ تہمینہ جنجوعہ نے بتایا کہ افغانستان کے کچھ تحفظات ہیں جس پر سیکرٹری خارجہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا ۔ اس کے علاوہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ انہوں نے افغان حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان چار افریقی ممالک کے مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔ کیونکہ پاکستان افغانستان میں ہر ممنکنہ استحکام کی کوششوں کے لئے تیار ہے لیکن اس میں افغانستان کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا ۔سیکرٹری خارجہ نے افغان صدر اشرف غنی کو پاکستان کے دوٹوک موقف سے بھی آگاہ کیا ہے کہ افغان حکومت دہشتگرد گروپوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے اور پاکستان بھی افغانستان کے امن و استحکام کے لئے اصولی موقف پر قائم ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔






































