لاہور (خصوصی رپورٹ) کالعدم تنظیموں کو کروڑوں روپے فنڈنگ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والی 12ملکی وغیرملکی کمپنیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد ان کے خفیہ اکاﺅنٹس کی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق خفیہ رپورٹ میں لکھا گیا کہ لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد‘ پشاور‘ کوئٹہ‘ سوات‘ گلگت‘ نوشہرہ‘ اٹک‘ میانوالی‘ ملتان اور دیگر بڑے شہروں میں قائم ملکی وغیرملکی کمپنیوں کے نمائندگان اور مالکان مختلف تنظیموں کو خفیہ طور پر سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ بعض کمپنیوں کے مالکان کو کالعدم تنظیموں نے دھمکیاں بھی دیں کہ اگر ان کو فنڈز وغیرہ نہ دیئے گئے تو ان کی کمپنیاں اور گھر بموں سے اڑا دیئے جائیں گے۔ ایسی دھمکیاں پانے والوں میں بعض بڑے ٹرانسپورٹرز اور تاجر بھی شامل ہیں۔ ان افراد کو وزیرستان اور افغانستان سے کالعدم تنظیموں کی جانب سے فون آئے تھے‘ پھر جب ان نمبروں کی جانچ پڑتال کی گئی تو خفیہ اداروں نے بھی تصدیق کی کہ یہ کالعدم تنظیموں کے زیراستعمال ہیں۔ ایسے نمبر ٹریس کرنے کے بعد کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کی گرفتاری کیلئے سوات‘ مینگورہ‘ گلگت‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور پاراچنارہ میں سپیشل فورس بھی بھجوائی گئی تھی۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ بعض کمپنیوں‘ کارخانوں اور فیکٹریوں میں بھی کالعدم تنظیموں کے کارکنان بھی نوکریاں کر رہے ہیں اور وہ اپنی تنظیموں کو خفیہ معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔ نوکریاں کرنے والے یہ کارندے اعلیٰ تعلیم یافتہ بتاتے جاتے ہیں اور ان میں سافٹ ویئر انجینئر‘ کمپیوٹر‘ آئی ٹی و دیگر شعبہ جات کے ماہرین بھی ہیں جو درپردہ مختلف کالعدم تنظیموں کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے بعض مختلف تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ بتایا گیا کہ ملکی و غیرملکی کمپنیاں کالعدم تحریک طالبان‘ لشکر جھنگوی‘ لشکر طیبہ وغیرہ کے خفیہ اور جعلی اکاﺅنٹس میں تواتر سے بھاری رقوم منتقل کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ کالعدم تنظیموں کے کارندوں کو ٹرانسپورٹ اور رہائش وغیرہ بھی یہی کمپنیاں مہیا کرتی ہیں۔ کراچی کی بیشتر کمپنیاں پہلے ایک معروف سیاسی جماعت کا بھتہ کے نام پر فنڈز دیتی تھیں تاہم اب وہ مختلف کالعدم تنظیموں کو رقم دے رہی ہیں جبکہ بعض کمپنیاں دھمکیاں ملنے کے بعد سے کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کر رہی ہیں۔ اسی طرح بعض کمپنیوں کے پارٹنرز کا تعلق کالعدم تنظیموں سے بتایا گیا۔ فنڈنگ کی مدد سے یہ کالعدم تنظیمیں اسلحہ‘ بارود‘ خودکش جیکٹس‘ ٹائم ڈیوائس‘ بم اور بارودی سامان وغیرہ خریدتی ہیں جبکہ نوجوان نسل کی برین واشنگ کیلئے تعلیمی اداروں میں موجود اپنے کارکنوں کو بھی فنڈز مہیا کئے جاتے ہیں۔
فنڈنگ






































