ڈیرہ بگٹی(صباح نیوز) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب بلوچستان ملک کا امیر ترین صوبہ ہوگا، چند سالوں کی بات ہے بلوچستان کے مسائل مکمل طور پر حل ہوں گے، 15 ارب روپے کی لاگت سے بلوچستان کے ہر علاقے میں گیس پہنچائی جائے گی، سپریم کورٹ کے فیصلے سے اتفاق تو نہیں مگر اس کا احترام کرتے ہیں،فیصلے پرکوئی انتشار نہیں ہوا،یہ جمہوریت کی فتح ہے،آج ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں، ملک میں جب انتشار ہوتا ہے تو ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ ن خیالات کا اظہار وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کھچی کینال منصوبہ کا افتتاح کرنے کے موقع پر ڈیرہ بگٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وزیر داخلہ احسن اقبال ،وزیر برائے سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ،وزیراعلی بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری ،وزیر مملکت میر روشین خان ڈومکی ،وزیرداخلہ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حق تو یہ ہے کہ آج یہاں پر محمد نوازشریف کو ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ منصوبہ ان کا منصوبہ ہے 1998میں انہوںنے اس کی بنیاد رکھی اور آج 2017میں اسی کا افتتاح ہورہا ہے بہت سے لوگوں نے کہا کہ ہر ایکڑ پر حکومت لاکھ روپے خرچ کررہی ہے ۔ اس پر 80ارب روپے خرچ ہوئے 2002میں شروع ہوا لیکن توجہ نہ دی گئی آمریت کا ایک لمبار دور بھی گزر گیا ۔ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی وہ پانچ سال بھی گزر گئے لیکن کسی نے پیسے نہ دیئے کہ یہ منصوبہ مکمل ہوسکے ۔ منصوبہ کو آگے بڑھانے کیلئے پیسے نوازشریف نے دیئے یہ منصوبہ ڈیرہ بگٹی کے عوام کی تقدیر بدلنے کا خاص طور پر ڈیرہ بگٹی او رسوئی کے عوام کا ہم پرقرضہ ہے ۔ آپ کی گیس پورے پاکستان نے استعمال کی اور پورے پاکستان نے ترقی کی بہت سی حکومتیں آئیں لیکن انہوںنے صرف باتیں اور عوام سے صرف ووٹ حاصل کئے یہ صرف مسلم لیگ کی حکومت ہے جو باتیں نہیں کرتی کام کرتی ہے ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت عوام کے مسائل کو حل کرتی ہے ۔ آج بلوچستان کا مستقبل بلوچستان کے عوام کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ منصوبہ تمام صوبوں کے درمیان ایک محبت کا منصوبہ ہے 300کلومیٹر کینال پنجاب سے گزرتی ہے لیکن پانی بلوچستان کیلئے آتا ہے ان کا کہنا تھا کہ میر سرفراز بگٹی نے عوام کیلئے پینے کا پانی کی فراہمی کی بات کی میری وزیراعلی بلوچستان سے بھی بات ہوئی ۔ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کیلئے پینے کا پانی اور گیس عوام کا نہیں یہ تمھارا مسئلہ ہے یہ حل ہوگا۔ پانی اور گیس کے مسئلہ کو مستقل طور پر حل کیا جائے گا۔ یہ عوام پر احسان نہیں بلکہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ماضی کو کوتاہیوں کو دور کریں ۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب بلوچستان پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہوگا۔ یہ صرف کہنے کی بات نہیں حقائق عوام کے سامنے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے ووٹ کے فیصلے صحیح کئے تو اس کے ثمرات عوام کو ملیں گے یہ لمبی بات نہیں چند سالوں کی بات ہے کہ بلوچستان کے وسائل دوسرے صوبوں سے زیادہ ہوا کریں گے یہ فیصلے عوام کے پاس ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کام کرتی ہے باتیں ذرہ کم کرتی ہے ۔دوسرے لوگ باتیں زیادہ کرتے ہیں کام بہت کم کرتے ہیں ۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پانی کے 200ارب روپے سے زائد کے منصوبوں پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے منصوبوں پر 25ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ یہ منصوبے صرف کاغذوں میںنہیں بلکہ موقع پر نظر آئیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 455ارب روپے کے سڑکوں کے منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ آج 15ار روپے کی لاگت سے بلوچستان کے ہر ضلعی ہیڈکوارٹرکو گیس دی جائے گی یہ کام موقع پر شروع ہوچکا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ احسن اقبال نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں 21یونیورسٹیاں وفاقی حکومت کی مدد سے یا بنائی جاچکی ہیں یا بن رہی ہیں ۔ گوادر وہ ذریعہ ہے جس سے بلوچستان پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری اپنے بھائیوں سے جو ناراض ہیں درخواست ہے کہ جس گمراہی کا آپ شکار ہیں اس سے ہٹ جائیں اور آکر اپنے صوبہ کی تعمیر وترقی میں حصہ لیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ چار سالوں میں نوازشریف نے ملک میں موٹروے کا جال بچھایا ملک کی تاریخ میں 70سال میں جو بجلی کے منصوبے لگے تھے اسی سے زیادہ بجلی کے منصوبے اسی عرصہ میں لگائے گئے اس کے اثرات عوام تک پہنچیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گیس کے منصوبے جو تعطل کا شکار تھے بنے نہیں تھے گیس کے منصوبے بنائے گئے آج ملک میں گیس کی صورتحال بہت بہتر ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سب سے قیمتی ذریعہ پانی ہے جس کو عشروں سے نظر انداز کیا گیا آج بھاشاڈیم کا منصوبہ زیر تعمیر ہے یہ وہ منصوبہ ہے جو پورے پاکستان کو پانی دے گا۔ اس سے پہلے بھی حکومتیں یہ کام کرسکتی تھیں مگر نہیں کیا ۔ اسی طرح مہمند ڈیم کا منصوبہ کے پی کے کی تقدیر بدلے گا۔ اس کے ثمرات پورے پاکستان تک جائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کیلئے ایک علیحدہ وزارت قائم کی گئی ہے ۔ وزارت خاص طور پر بلوچستان کے پانی کے مسائل کو حل کرے گی ۔ داسو،تربیلافور اور فائیو کے منصوبے ملک کی تقدیر بدلیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر کوہ اور سوئی کیلئے پانی کے مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی دوکمپنیاں پی پی ایل اور او جی ڈی سی علاقہ میں کام کرتی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ او جی ڈی سی کی طرف سے 50بیڈ کا ہسپتال 10کروڑ روپے کی لاگت سے ڈیرہ بگٹی میں قائم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف کالجوں میں اس علاقہ کے 60طلباءکی تعلیم کیلئے ہر سال ایک کروڑ روپے کے رقم دی جائے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ چار کروڑ روپے کی لاگت سے انٹرمیڈیٹ کالج کو ڈگری کا درجہ دیا جائے گاوہاں پر ہوسٹل بنایا جائے گااورآمدورفت کیلئے سہولیات مہیا کی جائیں گی جبکہ 11کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ریسکیوسینٹر قائم کیا جائے گاجو علاقہ میں حادثات اور معاملات میں مریضوں کو سہولیات فراہم کرے گا۔ اس سے علاقہ کی بہتری ہوگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے 28جولائی کو ایک فیصلہ کیا ہمیں اسی فیصلہ سے اتفاق تو نہیں مگر اس کا احترام ہم ضرور کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ منٹوں کے اندر وزیراعظم نے حکومت چھوڑ دی فیصلہ پر عملدرآمد کیا گیا اور چار دن میں حکومت واپس آئی ملک میں کوئی انتشار نہیں ہوا یہی جمہوریت کی فتح ہے یہی پاکستان کے عوام کی فتح ہے ۔ جب بھی ملک میں انتشار ہوتا ہے سب سے پہلا نشانہ ترقی ہوتی ہے ملک کی ترقی رک جاتی ہے منصوبے رک جاتے ہیں اسی لیے عوام نے حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر فیصلہ کرنا ہے ۔ عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اپنی اور ملک کی ترقی چاہتے ہیں یا نہیں چاہتے ۔ تمام جماعتوں کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے ۔ ن لیگ واحد جماعت ہے جس نے ہمیشہ ملک کیلئے سوچا پاکستان کے مسائل کو حل کیا ۔ علاقہ کو ترقی دی اور پاکستان کو آگے بڑھایا یہ فیصلے عوام نے کرنے ہوتے ہیں اور ان کے اثرات عوام تک پہنچتے ہیں ۔ میں توقع کرتا ہوں کہ ڈیرہ بگٹی بھی آئندہ الیکشن میں ن لیگ کا گڑھ ثابت ہوگا۔ ہمارا وعدہ ہے کہ علاقہ کے مسائل کو بھی حل کیا جائے گاصوبہ کے مسائل کو بھی حل کیا جائے گااور سب سے بڑھ کر ہم نے پاکستان کو تعمیر وترقی کے جس راستہ پر ڈالا ہے جمہوریت کو فروغ دیا ہے اس راستہ ہم آگے بڑھائیں گے ۔





































