اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یہ تاثر کہ پاکستان میں دو جگہ سے پالیسی بنتی ہے درست نہیں کیونکہ دو جگہ سے پالیسیاں بننے سے ملک نہیں چل سکتا ۔ نجی ٹی وی سے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی درست نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ایم این ایز توڑ رہی ہے حکومت کے خلاف سازش ہوتی نظر نہیں آ رہی اگر ہوئی تو مقابلہ کریں گے پارٹی سے کوئی ایم این اے نہیں بھاگا اورنہ ہی پارٹی میں کوئی دراڑ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے خیر کی توقع رکھنا عقل کے زمرے میں نہیں آتا ہر سازش کا مقابلہ کریں گے بھارت کو باور کرا دیا ہے۔ بھارت ہمارے دوست ممالک میں نہیں سرحد پر اب بھی کشیدگی ہے بھارت کشمیری عوام کی رائے کو تسلیم کرے جب تک بنیاد ی مسائل حل نہیں ہوتے بھارت کے ساتھ بات نہیں ہو سکتی پاکستان مسئلہ کشمیر پر کبھی ایک قدم پیچھے نہیں ہٹابھارت ہمیشہ پاکستان میں عدم استحکام کا خواہاں رہا ہے موجودہ ماحول میں بھارتی وزیراعظم سے بات نہیں ہو سکتی۔ افغان صدر اشرف غنی کا دورہ ابھی طے نہیں پایا لیکن وہ جب بھی آئیں گے انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ امریکی صدر کے بیان کا نیشنل سیکیورٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا اور امریکی صدر کے بیان پر نیشنل سیکیورٹی نے واضح بیان دیا ہم سے زیادہ کوئی بھی افغانستان میں امن نہیں چاہتا ۔بطور وزیراعظم میری ذمہ داری ہے کہ نیب عدالت کے باہر رینجرز تعیناتی کی تفتیش کروں وہاں جو واقعہ ہوا وہ نہیں ہونا چاہئیے تھا اور پتہ چلاﺅں معاملہ کیا ہے کیسے ہوا کس کے احکامات پر ہواانہوں نے کہا کہ جمہوریت میں بیلٹ باکس کے ذریعے فیصلے ہوتے ہیں سڑکوں پر نہیں عوام آٹھ ماہ بعد فیصلہ کریں گے۔ہمارا کام حکومت آئین کے مطابق چلائیں اور الیکشن میں جائیں تاکہ عوام پھر فیصلہ کریں۔انہوںنے کہا کہ پاکستان میں تاثر ہے کہ شاید ٹیکس دینا ایک آپشن ہے میں بتاتا چلوں ٹیکس دینا ایک ذمہ داری ہے نہ دینے والے کوجیل جانا چاہئے میں وثوق کے ساتھ کہتا ہوں اسحاق ڈار بہت کام کرتے ہیں وہ سابق تمام وزرائے خزانہ سے دگنا کام کرتے ہیں میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوںاسحاق ڈار جتنے نواز شریف کے قریب ہیں اتنے میرے بھی قریب ہیںمیں نے ان کے ساتھ بہت کام کیا ہے ان کی کارکردگی سے میں مطمئن ہوں آج چیلنجز کے مقابلے کے لئے ان سے بہتر شخص اورکوئی نہیں الزام لگانے سے کوئی مجرم نہیں ہوتا شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتا حکومت آزاد کام کر رہی ہے نواز شریف نے کبھی کوئی حکم جاری نہیں کیا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی شہری کے پاس آٹو میٹک اسلحہ نہیں ہونا چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ ختم نبوت کا بل حکومت کا نہیں تھا پارلیمنٹ کی کمیٹی نے اس سارے ریفارم کو کیا حکومت صرف اس کو سامنے لے کر آئی اور اس میں جو خامی رہ گئی تھی اس کو دور کردیا گیایہ تاثر کہ یہ غلطی مسلم لیگ ن نے کی ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں حکومت کی سطح پر ایسا کوئی ایشو نہیںاب پارٹی اس بات کا پتہ چلائے گی کہ پارٹی پر جو الزام لگا اس کے ذمے دار کون لوگ تھے کیونکہ اس سے حکومت کی سبکی ہوئی۔






































