تازہ تر ین

سانحہ ماڈل ٹاون کی انکوائری رپوٹ پیش ان کیمرہ جایزہ

لاہور (کورٹ رپورٹر) ہائیکورٹ نے اردو زبان کو رائج کرنے کی درخواست پر ڈائریکٹر جنرل مقتدرہ ارادہ قومی زبان سے 8 دسمبر تک رپورٹ طلب کر لی، چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے اے کے ڈوگر کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ہر ملک میں ان کی اپنے قومی زبان رائج ہے کوئی قوم بھی اپنی قومی ذبان کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی،دو برس گزار گئے لیکن پاکستان میں اب بھی اردو زبان فروغ نا پا سکی،1973 کے آئین میں اردو کو قومی ذبان کا درجہ دیا گیا تھا لیکن پھر بھی دفتری اوقات میں اردو کے بجائے انگریزی زبان استعمال ہو رہی ہے جبکہ سپریم کورٹ اردو زبان کو رائج کرنے کا حکم بھی دے چکی ہے۔ ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کی تعنیاتی کے خلاف درخواست پر چیف سیکرٹری پنجاب زاہد سعید اور دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا، ہائیکورٹ نے والڈ سٹی اتھارٹی میں ثقافتی عمارتوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے والڈ سٹی اتھارٹی کو 11 دسمبر تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا، ہائیکورٹ نے شاہی قلعہ میں ریسٹورنٹس اور کھوکھے بنانے کیخلاف درخواست پر شاہی قلعے میں ریسٹورنٹس کی اجازت پر 4 ہفتوں میں قانونی حیثیت پر دلائل طلب کر لیے،چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے شہری ابدال احمد کی درخواست پر ریمارکس دیئے کہ شاہ قلعہ میں ثقافتی ورثہ میں قانون کے تحت کیسے ریسٹورنٹس بنائے جا سکتے ہیں،ریسٹورنٹس بنانے سے ثقافتی ورثہ کی خوبصورتی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا،عدالت کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے تحت شاہی قلعہ میں کسی بھی کمرشل سرگرمی کی اجازت نہیں ہے جبکہ کے عدالت نے والڈ سٹی اتھارٹی کے بورڈ سے بھی قلعہ میں ریسٹورنٹس بنانے پر جائزہ رپورٹ طلب کر لی ہے،درخواست گزار نے مقف اختیار کیا کہ حکم امتناعی کے باوجود شاہی قلعہ میں ریسٹورنٹ تعمیر کیا جا رہا ہے جس پر عدالت نے ریسٹورنٹس کی اجازت پر قانونی حیثیت میں دلائل طلب کرتے ہوئے والڈ سٹی اتھارٹی سے حکم امتناعی پر 4 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔ ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عائشہ شیخ کی تعنیاتی کے خلاف درخواست پر چیف سیکرٹری پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، پنجاب بھر میں 550 سے زائد سول ججز کی آسامیوں کے لیے تحریری امتحان آج((15 نومبرکو ہو گا،سول ججز کے لیےتحریری امتحان 15 نومبر سے 22 نومبر تک لیا جائے گا، سول ججز کے لیے لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں تحریری امتحان کے لیے سنٹرز بنائے گئے ہیں، سول ججز کے لیے7 ہزار سے ذائد امیدوار تحریری امتحان میں بیٹھیں گے ،ہائیکورٹ میں پنجاب پبلک کمپنیز کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے ایک اور درخواست دائر ہو گئی، ہائیکورٹ میں سپیشل سکرٹری ہوم نے سانحہ ماڈل ٹان کی انکوائری رپورٹ پیش کر دی، جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں فل بینچ نے انکوائری رپورٹ کا ان کیمرہ جائزہ لیا ،پنجاب حکومت کی طرف سے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہوئی تھی جس پر چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے تین رکنی بینچ تشکیل دیا جوکہ گزشتہ تین ہفتوں سے سانحہ ماڈل ٹان کیس کی سماعت کر رہا ہے، پنجاب حکومت کی طرف سے خواجہ حارث نے دلائل دیے جبکہ سانحہ ماڈل ٹان کے متاثرین کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے،گزشتہ سماعت پر عدالت نے انکوائری رپورٹ عدالت پیش کرنے کا حکم دیا تھا جس پر رپورٹ عدالت پیش کر دی گئی، عدالت نے انکوائری رپورٹ کے جائزہ پر فیصلہ 17 نومبر تک ملتوی کر دیا، ہائیکورٹ میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا سے فیسوں کی وصولی روکنے اور حکم امتناعی جاری کرنے کے لیے متفرق درخواست دائر کر دی گئی، درخواست میں موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل پچیس اے کے تحت شہریوں کو مفت تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے،ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہی یے، سرکاری سکولوں میں غیر معیاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں، ماڈل ٹاون کچہری مختلف مقدمات میں ملوث ملزمان کے گواہان کو پیش نہ کرنے پر لاہور کے سات تھانوں کے چھبیس سب انسپکٹر کی تنخوائیں بند کرنے کا حکم دے دیا گیا، جوڈیشل مجسٹریٹ افشاں سدرہ نے اچھرہ، نشتر کالونی، غالب مارکیٹ، جوہر ٹاﺅن،لٹن روڈ،ٹاﺅن شپ اور کاہنہ تھانے کے سب انسپکٹر سمیت پولیس کی تنخوا بند کرنے کا حکم دیا،پراسیکوشن نے عدالت کو بتایا کہ سب انسپکٹر چوری، شراب برامدگی،ساﺅنڈ ایکٹ ،ہوائی فائرنگ اور جعلی چیک کے مقدمات میں ملوث ملزمان کے گواہان کو پیش نہیں کر رہے جس سے مقدمات التوا کا شکار ہوتے جا رہے ہیں جس پر عدالت نے 26 سب انسپیکٹر کی تنخواہیں بند کرنے کا مراسلہ سی سی پی او لاہور کو جاری کر دیا۔ ہائیکورٹ نے سندھ بنک ڈیفالٹر شریف خاندان کی حسیب وقاص شوگر کیخلاف ریکوری کے دعوی پر فریقین کو ایشوز پروپوز کرنے کیلئے پندرہ دسمبر کو طلب کر لیا، ہائیکورٹ نے پاکستان انڈسٹریل انویسٹمنٹ کارپوریشن ڈیفالٹر لاہور سپننگ ملز کی جائیداد کی سترہ نومبر کو نیلامی روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ڈگری ہولڈر انویسٹمنٹ کمپنی سے جواب طلب کر لیامسٹر جسٹس شاہد کریم نے ڈیفالٹر لاہور سپننگ ملز کی درخواست پر سماعت کی، بنکنگ عدالت نے پنجاب بنک ڈیفالٹر ایس کے ایس ایگرو رائس پراسیسنگ ملز کو مشینری اور تین ہزار ایک سو اکتیس سو کلو کی چاولوں کی بوریوں سمیت آٹھ دسمبر کو نیلام کرنے کا حکم دے دیا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain