تازہ تر ین

تحریک انصاف جماعت اسلامی کی قومی احتساب کمیشن کے قیامکی مخالفت

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے قومی احتساب کمیشن کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے نیب کے سابقہ قانون کو بحال رکھنے پر زور دیا ہے دونوں جماعتوں نے کرپشن میں گرفتار عوامی عہدہ رکھنے والے اشخاص کے اہل خانہ کو بھی شامل تفتیش کرنے کی تجویز دی ہے اجلاس میں کرپشن کرنے والے کے ساتھ ساتھ کرپشن کروانے والے کو بھی کٹہرے میں لانے کی تجویز پیش کر دی گئی بدھ کے روز نیب قوانین سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعدمیڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں نیب قوانین سے متعلق اہم امور پر کمیٹی اراکین کے درمیان بحث ہوئی ہے انہوںنے بتایاکہ اجلاس میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ نہ صرف کرپشن کرنے والے شخص کے خلاف کاروائی کی جائے بلکہ جس نے بھی اسے کرپشن پر اکسایا ہے یا مجبور کیا ہے اس کے خلاف بھی کاروائی کی جائے انہوںنے بتایاکہ اجلاس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ کرپشن سے متعلق تمام معاملات کی تفتیش ،تحقیق اور شہادتوں کو چیرمین کی بجائے کمیشن دیکھے گا اور اگر کمیشن ضرورت محسوس کرے توکسی بھی کرپشن کے کیس سے متعلق ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے تاہم اس تجویز کی کمیٹی میں موجود دو سیاسی جماعتوںنے مخالفت کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین آج کے اجلا س میں موجود نہیں تھے لہذا کسی بھی تجویز پر فیصلہ نہ ہوسکا انہوںنے کہاکہ جن امور پر کمیٹی کے اندر اتفاق رائے نہ ہو اس پر ووٹنگ کرائی جائے گی اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کی ڈاکٹر شیریں مزاری اور جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہاکہ اجلاس میں قومی احتساب کمیشن کے قیام کی حکومتی تجویز کی مخالفت کی ہے اور پرانے نیب قانون کو بحال رکھنے پر اتفاق کیا ہے انہوںنے کہاکہ حکومت عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کے اہل خانہ کو احتساب کے دائرہ کار میں لانے کی مخالفت کر رہی ہے جبکہ ہمارا موقف ہے کہ کرپشن کرنے والوں کے اہل خانہ کو بھی تفتیش کے دائرہ میں لایا جائے ۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain