تازہ تر ین

سستی موٹر سائیکل کا جھانسہ دیکرعوام کو لوٹنے والی ایم این ایم کمپنی نئے دفاتر بنا کر پھر سر گرم

شیخوپورہ (جاوید معراج، قمرالدین قادری سے) شیخوپورہ میں سستی موٹر سائیکل سکیم کی آڑ میں شہریوں کو سود کی لت ڈالنے والا گروہ شہر میں کروڑوں روپے کا فراڈ کر نے کے بعدفاروق آباد ،کوٹ عبد المالک،کوٹ رنجیت اور جوئیانوالہ موڑ پر ایم این ایم کے نئے دفاتر بنا کر شہری اور دیہی علاقوں کے افراد کو پھر لوٹنا شروع کر دیا ہے 32500کی سنگل انٹری پر 35دن بعد 7500روپے منافع یعنی سود کی رقم کی ادائیگی پر دھرلے سے انٹریاں جاری ہیں جبکہ نبی پورہ میں ایم این ایم کی مرکزی برانچ تاحال بند پڑی ہیں اور متاثرین سود اور اصل رقم کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں ،ایف آئی اے اور مقامی پولیس نے شیخوپورہ کے اس بڑے مالیاتی فراڈ پر تاحال اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور نہ ہی اس پر منتخب عوامی نمائندوں نے کوئی نوٹس لیا ہے جبکہ متاثرہ افراد نے مقامی تھانہ میں ایم این ایم کے سٹاکسٹ کے خلاف درخواست بھی دے دی ہے گزشتہ روز ”خبریں “ جب نبی پورہ میں ایم این ایم کی برانچ کے باہر پہنچی تو وہاں سستی موٹر سائیکل سکیم منافع سود کے لیے اپنی بھاری رقوم کی انویسٹمنٹ کرنے والے شہریوں میاں محمد جلیل نے بتایا کہ وہ تاجر ہے اور اس نے 32500کے حساب سے اپنی 32انٹریاں درج کروائی ہیں جسے 35دن بعد لاکھوں روپے منافع کالالچ دیا گیا تھا اور اب کئی روز سے ایم این ایم کا دفتر ہی بند ہے فاروق آباد کے نذیر احمد نے بتایا کہ اس نے عبدالواحد سٹاکسٹ کے ذریع اپنی 12انٹریاں کروائیں اب یہ گروہ یہاں سے دفتربند کر کے فاروق آباد منتقل ہو گیا ہے جہاں متاثرہ افراد پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ نئی انٹری کروائے تو نئی انٹری کے ساتھ 2سابقہ انٹریوں کا منافع بھی دیا جائے گا ،محلہ معراج پورہ کے رہائشی توقیر،وزیراں ورکاں کے عامر سجاد،رسولنگر کے محمد قاسم،ہاﺅسنگ کالونی کے رہائشی ندیم خان نے بھی بتایا کہ وہ لاکھوں روپے کی رقوم زیادہ منافع کے لالچ میں جمع کروا چکے ہیں اور اب نہ تو منافع مل رہا ہے بلکہ ان کی اصل رقم بھی ڈوب گئی ہے یہ امر قابل ذکر رہے کہ شیخوپورہ میں 5ماہ قبل ایم این ایم جو کہ عوام کو سستی موٹر سائیکل فراہم کرنے کی دعویٰ دار تھی نے نبی پورہ میں اپنا ایک آفس بنا کر مقامی با اثر افراد اور پولیس کے بعض افسران کو شامل کر کے عوام سے 25500روپے سنگل انٹری پر 35دن بعد13000روپے فی کس منافع کا لالچ دیا اور آغاز میںاپنے ہی چند کار خاص نمائندوں کے ذریعے منافع کی رقم تقسیم بھی کی اور پھر شہر بھر میں یہ تاثر عام ہو گیا کہ ایم این ایم موٹر سائیکل کی بکنگ پر 35دن بعد ہزاروں روپے منافع دے رہی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایم این ایم نے شہریوں کو اپنے جال میں جکڑ لیا اور عوام خود بھی اور اپنے عزیزو اقارباءسے منافع کی لالچ میں بھاری رقمیں انوسٹ کرتے رہے ایم این ایم کے اندرونی ذرائع کے مطابق شیخوپورہ سے گزشتہ 5ماہ کے دوران تقربیاً7ارب روپے اکٹھے کئے گئے اور سٹاکسٹ حضرات نے زیادہ انٹریاں کروا کر کمپنی سے کمیشن ،گاڑی اور دیگر قیمتی تحائف وصول کئے اور عام آدمی منافع کی لالچ میں اپنی اصل رقم بھی ڈوبو بیٹھا اب نبی پورہ میں اس برانچ کو بند کر کے یہی سٹاکسٹ جن میں عبدلواحد،ڈاکٹرآصف علی نے فاروق آباد میں ایم این ایم کا دفتر بنا کر عوام سے رقوم اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں اور انہیں دھوکہ دیا جارہا ہے انہیں 25نومبر تک ایم این ایم اپنے تمام کھاتہ داروں کو منافع یعنی سود کی رقم ادا کر دے گی اسی طرح جوئیانوالہ موڑ پر حافظ علی احس نامی اور کوٹ رنجیت میں گلزار شاہ نامی شخص نئے دفاتر بنا کر سستی موٹر سائیکل سکیم کی آڑ میں شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain