لاہور(خصوصی رپورٹ)سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری مختلف وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے، سگریٹ نوشی، ٹریفک ،ایندھن اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھویں کے باعث سانس کی بیماریاں شدت اختیار کررہی ہیں، لوگوں کی اکثریت اس بیماری سے متعلق آگاہی نہیں رکھتی ، دنیا میں 6 فیصد لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں جبکہ پاکستان میں 70لاکھ سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں،اس بیماری سے بچنے کیلئے پانی کا زیادہ استعمال کریں،سگریٹ نوشی نہ کی جائے،نمک کاکم استعمال کیا جائےاور تیزابیت والی اشیا سے پر ہیز کیا جائے،سب سے پہلے مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں پھر ادویات کا استعمال اور ضرورت پڑنے پر انہیلر کا استعمال کریں اور جن چیزوں سے ان کو الرجی ہو ان سے دور رہیں تاکہ پیچیدگیاں کم سے کم پیدا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی (جنگ گروپ آف نیوز پیپرز) پاکستان چیسٹ سوسائٹی پنجاب اور GETZ فارما کے زیر اہتمام سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری (COPD) کے عالمی دن کے حوالے سے ہونے والے سیمینار بعنوان The many faces of COPD” میں کیا۔ ماہرین کے پینل میں ایف سی پی ایس (میڈیسن) ایم سی پی ایس اینڈ ایف سی پی ایس (پلمونری میڈیسن)، صدر پاکستان چیسٹ سوسائٹی پنجاب کے سربراہی شعبہ پلمونولوجی علامہ اقبال میڈیکل کالج و جناح ہسپتال لاہور پروفیسر ڈاکٹر محمداشرف جمال، ڈپلومیٹ امریکن بورڈ آف میڈیسن پلمونری کریٹیل کیئر اینڈ سلیپ میڈیسن، سربراہ شعبہ پلمونولوجی سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سروسز ہسپتال لاہور، پروفیسر ڈاکٹر کامران چیمہ، ایف سی پی ایس میڈیسن ایم سی پی ایس چیسٹ، ڈی ٹی سی ڈی، سابق پروفیسر ڈاکٹر صولت اللہ خان، ڈی ٹی سی ڈی، ایم سی پی ایس (چیسٹ) ایف سی پی ایس (پلمونولوجی)، سربراہ شعبہ پلمونولوجی پی جی ایم آئی لاہور جنرل ہسپتال لاہور پروفیسر ڈاکٹر خالد وحید شامل تھے۔ حرف آغاز محفوظ الحسن نے پیش کئے۔ میزبانی کے فرائض چیئرمین میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی واصف ناگی نے سر انجام دیئے۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسولؓ مقبول کی سعادت خلیق حامد نےحاصل کی۔ محفوظ الحسن نے بتایا کہ Getz فارما پاکستان کی تیسری بڑی فارماسیوٹیکل کمپنی ہے اور 25سے زائد ممالک میں کام کررہی ہے۔ ادویات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ ادویات کے معیار کو بھی مدنظر رکھاجاتاہے۔ پروفیسر ڈاکٹر کامران چیمہ نےکہا کہ سگریٹ نوشی کرنے والا خود کو تو موت کی طرف لے جارہاہوتا ہے مگر اس کے دھویں سے دوسرے افراد بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ سگریٹ کے دھویں سے سانس کی نالیاں بند ہو جاتی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی، بائیو ماس فیول بھی اس مرض کی وجوہات میں شامل ہیں۔ اموات کے حوالے سے یہ مرض پوری دنیامیں تیسرے نمبر پر ہے جبکہ 1992 میں یہ تیسرے نمبر پر تھا۔ خدشات ہیں 2030 تک تقریبا 45لاکھ اموات اس مرض کے باعث ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی ٹیکے بھی ضرورت لگوانے چاہئیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کمال نے کہاکہ سانس کی بیماری صرف کسی ایک وجہ سے لاحق نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کی بہت سی وجوہات اور رخ ہیں جن کو مدنظر رکھنا بہت زیادہ ضروری ہے۔ COPD ایک قابل علاج اور قابل بچاﺅ بیماری ہے۔ اس بیماری میں سانس کی نالیاں مستقل تنگ ہوجاتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ یہ بیماری شدت اختیار کرلیتی ہے۔ اس مرض کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، دنیا میں 6 فیصد لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں جبکہ پاکستان میں 70لاکھ سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ ورزش بہت اہم ہے ، تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کرنا چاہئے اور ادویات کا استعمال وقت پر کرنا چاہئے تاکہ علاج میں آسانی رہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پانی کا استعمال مناسب مقدار میں کرنا چاہئے کھانے میں نمک کا کم استعمال کرنا چاہئے تیزابیت پیدا کرنے والی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد وحید نے کہا کہ سی او پی ڈی میں چالیس سال یا اس سے زائد عمر کے افراد شامل ہوتے ہیں جبکہ دمہ بچپن میں لاحق ہوتا ہے،دمہ میں سگریٹ نوشی کا براہ راست کوئی عمل دخل نہیں ہے،اسکے مریض کو ہر وقت سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے جبکہ دمے کا حملہ الرجی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریبا 60 لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جبکہ اس کی وجہ سے شرح اموات 5فیصد ہوتی ہیں۔ یہ مرض مردوں اور خواتین میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔






































