اجمل کو پروفیسر کے معاملے پر پی سی بی کو مدد کی پیشکش

لاہور (نیوزایجنسیاں) جادوگر سپنر سعید اجمل نے آل راﺅنڈر محمد حفیظ کا باﺅلنگ ایکشن ٹھیک کروانے میں مدد کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور محمد حفیظ نے ان کیساتھ رابطہ کیا تو وہ ایک مہینے میں باﺅلنگ ایکشن ٹھیک کروا سکتے ہیں۔نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سعید اجمل نے کہا کہ 2004ءمیں جب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے جب انہیں معطل کیا گیا تو ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد نے ان کا ایکشن درست کروانے میں مدد کی۔

آفریدی ٹی 20 میں زیادہ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی باؤلر بن گئے

ڈھاکا (اے پی پی) شاہد خان آفریدی ٹی ٹونٹی کرکٹ میں زیادہ وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے اور دنیا کے چوتھے باﺅلر بن گئے، انہوں نے رواں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ڈھاکہ ڈائنامائٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے رنگپور رائیڈرز کے خلاف میچ میں 2 وکٹیں لیکر یہ اعزاز حاصل کیا۔، انہوں نے سابق ہم وطن باﺅلر یاسر عرفات کی زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا، اسطرح آفریدی ٹی ٹونٹی میں مجموعی طور پر زیادہ وکٹیں لینے والے باﺅلرز کی فہرست میں چوتھے نمبر پر آ گئے ہیں، یاسر عرفات نے 281 جبکہ آفریدی نے 283 وکٹیں لے رکھی ہیں، ویسٹ انڈیز کے ڈیوائن سمتھ 389 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں، لاستھ مالنگا 326 وکٹوں کے ساتھ دوسرے اور سنیل نارائن 302 وکٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

 

سلمان بٹ مسلسل نظر انداز کیے جانے پر شدید مایوس

کراچی (یوا ین پی)اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا یافتہ اوپنر سلمان بٹ نے مسلسل نظر انداز کئے جانے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کی کسی فرنچائز نے بھی ان کا انتخاب نہیں کیا۔سلمان بٹ کایو این پی سے کہنا تھا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں گزشتہ برس رنز کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر تھے لیکن پی ایس ایل میں گولڈ کیٹگری میں موجودگی پر بھی کسی فرنچائز نے ان کو قابل غور نہیں سمجھا اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا جس کی وجہ انہیں خود بھی معلوم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس سے وہ انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اگرچہ رواں سال ان کی کارکردگی پچھلے سیزن جیسی نہیں رہی لیکن پھر بھی وہ دوسروں سے بہتر رہے لیکن ان کو نظر انداز کر دیا گیا۔ سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ وہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ پی سی بی انہیں دوبارہ قومی فریضہ انجام دینے کا موقع دینے کیلئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا یا نہیں اور نہ ہی وہ اس بارے میں کوئی وضاحت طلب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ان کا کام محنت کرنا اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہے جو وہ پوری ایمانداری سے کر رہے ہیں۔ سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ بورڈ کو ان کی پرفارمنس پر نظر رکھنا چاہئے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کا نام قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے کیلئے ضرور زیر غور لانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری امید ہے کہ سلیکٹرز انہیں موقع دے کر شائقین کرکٹ کو مایوس نہیں کریں گے۔

ملکہ برطانیہ دینا کی معمر ترین حکمران بن گئیں

سینتیس برس زمبابوے (ویب ڈیسک) پر حکمرانی کے بعد رابرٹ موگابے کو آخر کار عہدہ صدارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ترانوے سالہ موگابے دنیا کے معمر ترین حکمران تھے۔ ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد اب ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم معمر ترین حکمران بن گئی ہیں کیونکہ ان کی عمر اکانوے برس ہے۔ تیونس کے نوے سالہ صدر محمد الباجی قائد السبسی معمر حکمرانوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ 2014ءمیں ملک کے صدر بنے۔ دنیا کے تیسرے معمر ترین حکمران کویت کے امیر۔۔شیخ صباح احمد الجابر الصباح ہیں، ان کی عمر اٹھاسی برس ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی، امریکہ کا میانمار پر پابندی کا عندیہ

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکہ نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار کے اقدامات کو نسل کشی قرار دے دیا۔ اپنے ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، میانمار حکومت جامع تحقیقات کروا کر واقعات میں ملوث افراد کو سزا دلائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دباو¿ بڑھانے کے لئے امریکہ میانمار پر پابندی لگا سکتا ہے۔گزشتہ روز ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھی روہنگیا دیہات کو کھلی چھت والے قید خانے قرار دیتے ہوئے فوجی جرنیلوں کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلانے کا عندیہ دیا تھا۔

آزاد کشمیر پر بیان، فاروق عبداللہ کی زبان کاٹنے کیلئے 21 لاکھ روپے انعام کا اعلان

سرینگر (اے این این) دہشت گردی مخالف فرنٹ نامی ایک غیر معروف تنظیم نے سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی زبان کاٹنے کیلئے 21لاکھ روپے کاانعام مقرر کیا ہے۔فاروق عبداللہ کو بقول اس تنظیم کے یہ سزا ان کو پاکستان حامی بیان دینے اور آر ایس ایس کی مخالفت کرنے پر دی جارہی ہے۔تنظیم نے کہا ہے کہ ڈاکٹر فاروق نے ایسے بیان دے کر ملک کی توہین کی ہے۔فرنٹ کے قومی صدروریش شنڈیلانے معاملے کی فوری تحقیقات اور انکی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے چندی گڑھ میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ فاروق اپنے بیانات میں آر ایس ایس کے خلاف بولتے ہیں اور پاکستان کے حق میں بات کرکے ملک کی توہین کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاروق عبداللہ ملک دشمن ہیںاور اس کی زیڈ پلس سیکورٹی واپس لی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں اس شخص کو 21لاکھ روپے انعام دوں گا جوفاروق عبداللہ کی زبان کاٹ کر لائے۔دوسری جانب عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیا ہے کہ جس شخص کے پاس آپس مین رگڑنے کیلئے دو کوڑیاں نہیں وہی احمق 21لاکھ روپے انعام دینے باتیں کررہا ہے۔

 

سعد حریری 20 روز بعد لبنان پہنچ گئے، صدر مشیل عون سے ملاقات

بیروت (این این آئی) لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعدحریری 20 روز بعد بدھ کی صبح اپنے وطن واپس پہنچ گئے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعد حریری نے 4نومبر کو سعودی عرب میں وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، وہ استعفیٰ دینے کے 3ہفتے بعد لبنان واپس پہنچے ہیں۔مستعفی وزیراعظم سعد حریری نے وطن واپس پہنچنے کے بعد لبنان کے صدر مشیل عون سے ملاقات کی،اس ملاقات کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں تاہم ذرائع کے مطابق صدرمشیل عون نے مستعفی وزیراعظم سے اپنا استعفی واپس لینے اورملکی باگ ڈوردوبارہ سنبھالنے کی درخواست کی ہے جس کا ابھی تک سعدحریری نے جواب نہیں دیا،واضح رہے کہ لبنان کے صدر نے مستعفی وزیراعظم سعدحریری کا استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے،سعد حریری نے وطن واپس پہنچنے کے بعد ملک کی جشن آزادی کی تقریب میں بھی شرکت کی اس موقع پر ان کے ہمراہ صدرمشیل عون اوردیگر اعلیٰ حکومتی وعسکری حکام تھے۔

 

اسحاق ڈار کی 3 ماہ کیلئے چھٹی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے وزارت خزانہ اور اقتصادی امور کی ذمہ داریاں واپس لے لی گئیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسحاق ڈار نے طبعیت کی ناسازی کے باعث وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لینے اور ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے سے متعلق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 20نومبر کو خط لکھا جو وزیراعظم کوموصول ہوا جس پر سابق وزیراعظم نوازشریف سے مشاورت کے بعد شاہد خاقان عباسی نے اسحاق ڈار کی چھٹیاں منظور کرتے ہوئے ان سے تمام ذمہ داریاں واپس لے لیں۔ وفاقی وزرا اور وزیر مملکت کی چھٹی اور استحقاق سے متعلق رولز 17 (1) 1975 کے مطابق انہیں چھٹی دی گئی ہے، رولز کے تحت یہ چھٹی زیادہ سے زیادہ 3 ماہ پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ اسحاق ڈار سے واپس لی گئی ذمہ داریاں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے پاس رہیں گی اور مشاورت کے بعد وہ وزارت خزانہ کا قلمدان کسی اور شخص کو دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے ایک دو روز میں ایک وزیر مملکت کو خزانہ کا چارج دیا جائے گا تاکہ اسمبلی اور سینٹ کے امور کو نمٹایا جا سکے لیکن وزارت توانائی اور پٹرولیم کی طرح وزارت خزانہ بھی وزیراعظم کے پاس ہی رہے گی۔ اسحاق ڈار گزشتہ کئی دنوں سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کا عارضہ قلب کا علاج جاری ہے جب کہ ڈاکٹروں نے انہیں ناسازی طبیعت کے باعث سفر کرنے سے منع کیا ہے۔ واضح رہے کہ احتساب عدالت نے اسحاق ڈار پر آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنسز میں فردجرم عائد کررکھی ہے جب کہ مقدمات سے مسلسل غیر حاضری پر انہیں مفرور قرار دیا گیا ہے اور ان کے خلاف اشتہاری ملزم قرار دینے کی کارروائی بھی جاری ہے۔

 

نواز شریف، مریم، کیپٹن صفدرکیخلاف مزید 3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ

اسلام آباد (آئی این پی) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف ‘ مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز میں استغاثہ کے مزید تین گواہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے‘ نواز شریف اور مریم نواز حاضری سے استثنیٰ کے باجود عدالت میں پیش ہوئے‘ خواجہ حارث ایڈووکیٹ نیب کے گواہ پر جرح کے دوران غصے میں آگئے اور گواہ کو کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں جس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھایا کہ گواہ کو کنفیوژ کیا جارہا ہے‘ نیب پراسیکیوٹر اور خواجہ حارث ایڈووکیٹ کے درمیان گرما گرمی پر فاضل جج محمد بشیر نے دونوں کو کہا کہ اگر آپ نے لڑنا ہے تو پھر میں چلا جاتا ہوں‘ دو گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے پر عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف ‘ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو جانے کی اجازت دیدی‘ سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے عدالت حاضری سے استثنیٰ کی تاریخوں میں تبدیلی کی درخواست دائر کردی گئی جبکہ مریم نواز نے5دسمبر سے 5جنوری تک عدالت حاضری سے استثنیٰ کی نئی درخواستوں پر عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کردیا ‘ عدالت نے کیس کی سماعت28نومبر تک ملتوی کردی۔ بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز ایون فیلڈ پراپرٹیز اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی 13ویں اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی 14ویں سماعت کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف ساتویں مرتبہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر نے نویں مرتبہ حاضری یقینی بنائی۔ نواز شریف اور مریم نواز کو حاضری سے استثنیٰ دیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود دونوں باپ بیٹی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں میں تبدیلی کی درخواست جمع کرائی گئی۔مریم نواز نے ایک ماہ کی حاضری سے استثنیٰ کی مدت میں تبدیلی کی درخواست میں استدعا کی کہ حاضری سے استثنیٰ کی مدت 5 دسمبر سے 5 جنوری کی جائے۔سماعت کے دوران نیب کے گواہ محمد رشید نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ نیب لاہور نے انہیں پانچ ستمبر کوخط بھیجا کہ دستاویزات لےکرنیب لاہور کے دفتر حاضر ہوجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں تفتیشی افسر عمران ڈوگر کے سامنے حاضر ہوا اور اسے تمام دستاویزات فراہم کیں اور اس نے مجھ سے وصول کیں جو ریفرنس کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ گواہ نے کہا کہ میں نے لفافہ بند دستاویزات ان کو دیں ان دستاویزات سے میرا ذاتی کوئی تعلق نہیں ہے گواہ محمد رشید نے بتایا کہ نیب نے 5 ستمبر سے پہلے کوئی خط نہیں لکھا اور 6 ستمبر 2017 کے علاوہ کبھی نیب کے سامنے پیش نہیں ہوا ۔جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کی۔ انہوں نے گواہ سے کہا کہ کیا پہلے کبھی نیب نے آپ کی کمپنی کو کوئی خط لکھا جس پر گواہ نے کہا کہ پانچ ستمبر سے پہلے کوئی خط نہیں لکھا گیا۔ جس پر جج محمد بشیر نے گواہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیدھا جواب دیں جھوٹ بولیں گے تو دس سوال اور ہوں گے۔ گواہ نے کہا کہ 6ستمبر 2017کے علاوہ کبھی نیب کے سامنے پیش نہیں ہوا۔ اس دوران خواجہ حارث کے لہجے میں کچھ سختی آئی اور وہ گواہ سے الجھنا شروع ہوئے جس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے اعتراض کیا کہ گواہ کو کنفیوژ کیا جارہا ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ پراسیکیوٹر بے جا مداخلت کرتے ہیں اس پر مجھے اعتراض ہے یہ کیسی باتیں کررہے ہیں جب تک گواہ نہ بولے تو یہ لقمہ کیوں دیتے ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم لقمہ دینے کے لئے ہی کھڑے ہیں۔ خواجہ صاحب کچھ بھی پوچھیں اور ہم خاموش رہیں یہ نہیں ہوسکتا۔

 

آئین کی شقیں ذاتی فائدے کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیئیں، میجر جنرل آصف غفور

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ اس کی تفتیش ذاتی فائدہ کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور فوج کمزور ہو تو یہ ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے،اداروں کے خلاف بات کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیں،تمام ادارے پاکستان کی بہتری کام کریں تو بہتر ہے،فوج اداروں میں تصادم نہیں چاہتی،تمام ادارے مل کر کام کریں تو یہی بہتر ہوگا ملک دشمن قوتیں ہمیں کمزور کرنا چاہتی ہیں،ملک کے اندر جو بھی ہورہا ہے وہ ہم بھی دیکھ رہے ہیں لیکن ہماری توجہ اس طرف نہیں ہے ،ہم آئین کی سربلندی کے لئے کام کرتے رہیں گے،ملک سب سے پہلے لوگ بعد میں ہیں۔ نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہاکہ ہماری توجہ بلوچستان کی ترقی پر ہے۔ اس حوالے سے وہاں خوشحا ل پاکستان پروگرام کا آغاز کرنے جارہے ہیں ،جس کے لئے حکومت نے 60ارب مختص کئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم بھی چاہیں تو کسی بھی ملک میں بینر لگو اسکتے ہیں لیکن ہم ایک پروفیشنل فوج ہیں ہم ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ میجر اسحاق کے گھر والوں کے حالات کیا ہیں وہ ہی سمجھ سکتے ہیں ،میجر اسحاق کے والد بھی حیات نہیں ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جب ساتھی شہید ہوتا تو یہ ایک درد ناک لمحہ ہوتا ہے جوان لوگ قربانیاں دے کر پاکستان کے امن کوقائم بنا رہے ہیں اپنے پیارو ں کو خون میں دیکھنا آسان نہیں،سیکورٹی ادارے ملک میں امن کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں ،ملک میں امن کے لئے کچھ بھی کرناپڑا تو کریںگے،ملکی تحفظ کے لئے کام کرتے رہے ہیں اور کرتے رہے گے،ملک میں ایسا کوئی کام نہیں ہو گا جو آئین کے متصادم ہو۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد کا معاملہ حساس ہے ،چاہتے ہیں کہ حکومت اس معاملے کو حل کرے ،اگر فوج کو بلایا تو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں گے۔ میجر جنرل آصف غفورکاکہنا تھا کہ فاٹا سے دہشت گردو ں کاصفایا کر دیا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ افواج پاکستان ریاست کا ادارہ ہے اور دھرنے کے سلسلے میں حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان ریاست کا ادارہ ہے، حکومت وقت نے جب بھی فوج کو بلایا ہے فوج نے ذمہ داری ادا کی ، صورتحال افہام و تفہیم سے حل ہوجائے تو بہتر ہے تاہم دھرنے کے سلسلے میں حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ شہدا ہمارے خاندان کا حصہ ہوتے ہیں ہم ان کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ آسان نہیں، پورے ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہورہے ہیں اور یہ آپریشن خفیہ اداروں کی اطلاعات پر ہورہے ہیں، قوم کی حمایت کے بغیر کوئی بھی فوج کامیاب نہیں ہوسکتی، افغانستان کی حالت سب کے سامنے ہے، افغانستان کی صورتحال وہاں کی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے،اسی وجہ سے وہاں سکیورٹی خلا ہے، افغانستان کی سرحد کے گرد باڑ لگائی جارہی ہے، جب تک دوسری طرف سےاقدامات نہیں ہوتے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ سیاسی صورت حال اور سیاست دانوں کے بیانات پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاست کا اپنا ایک دائرہ کار ہے، سیاسی عمل چلتا رہنا چاہئے، سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ جیسے کرتے ہیں انہیں کرنا چاہئے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اس کی والدہ سے ملنے سے متعلق ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دفتر خارجہ نے بیان دے دیا ہےکہ انسانیت کے ناطے حکومت اگر ملنے کی اجازت دے تو کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس کے ساتھ جو ہونا ہے وہ ہوگا اس لیے کلبھوشن کا اپنی والدہ سے ملنے میں کوئی حرج نہیں۔ جنرل آصف غفور نے کہا کہ آئین کی سربلندی کیلئے اپنا کام کرتے رہیں گے۔ ادارے اہم ضرور ہوتے ہیں لیکن ریاست سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ آئین کی شقیں اپنی مرضی کے فائدے کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہئیں کوئی بھی شخص ادارے سے بڑا نہیں اور کوئی ادارہ ریاست سے بالاتر نہیں ہے۔
جنرل غفور