سرکاری اراضی سے سابق وفاقی وزیر کا قبضہ ختم کرانے کی کوشش

اسلام آباد ( قسور کلاسرا سے) چےنل۵ اور خبریں کی خبر پر ایکشن لیتے ہوے سی ڈی اے کے ڈریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ نے سابق وفاقی وزیر ماحولیات حمیداللہ جان آفریدی کی جانب سے اسلام آباد کے مہنگے ترین سیکٹر ایف 10میں 30کنال سرکاری اراضی پر قبضہ واگزار کروانے کی بے سود کوشش۔ میڈیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلیے سی ڈی اے کے افسران اور سابق وفاقی وزیر نے ملی بھگت سے زمین واگزار کرانےکا ڈرامہ رچاتے ہوے کچھ تعمیرات تو گرا دیں لیکن معزز عدالت کے حکم کے باوجود زمین مکمل طور پر واگزار نہیں کرای جاسکی۔ چینل ۵ اور خبریں کا ےہ نمایندہ جب موقع پر پہنچا تووہاں تعینات سیکورٹی گارڈز نے نہ صرف اس نمایندہ کو روکا بلکہ دھمکانے کی ناکام کوشش بھی کی۔ بعد ازاں سابق وفاقی وزیر ماحولیات حمیداللہ جان آفیر یدی کے کہنے پر خبریں کی ٹیم کو اندر جانے کی اجازت ملی۔ جگہ کا مشاہدہ کرنے پر اس نمایندہ نے اپنی آنکھوں سے مسمار کی ہوی عمارت کا ملبہ دیکھا جس سے ظاہر ہوا کہ سابق وفاقی منسٹر نے سی ڈی صے ۹۰۰۲ میں کیے گے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوے گرین بیلٹ پر تعمیرات کی اور شہریوں کا داخلہ بند کیا۔ معاہدے کی خلاف ورزی اور عدالتی حکم کے باوجود سی ڈی اے کا زمیں واگزار نہ کرانا اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشین ہے۔ باوثوق زرایع سے معلوم ہوا ہے کہ سی ڈی کے اعلی افسر کی مداخلت پر سابق وفاقی وزیر کے قبصہ سے سرکاری زمین واگزار کرانے کا عمل رک گیا ہے۔ روزنامہ خبریں میں خبر چپنے کے بعد سی ڈی اے کی ٹیم سرکاری اراضی پر تعمیرات گرانے اور قبضہ واگزار کروانے کی بجائے معمولی توڑ پھوڑ کے بعد واپس لوٹ گئی۔ حمیداللہ جان آفریدی کے سابق سٹاف آفیسر اور ممبر سی ڈی اے خوشحال خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور وزیراعظم کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے ہیں۔ خبریں اور چینل۵ کی ٹیم روانہ ہونے کے بعد حمیداللہ آفریدی کے ملازمین نے سرکاری اراضی میں داخلے کا گیٹ دوبارہ بند کردیا ہے خبریں کت رابطہ کرنے پر حمیداللہ جان آفریدی نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے سرکاری اراضی پر کی جانے والی تعمیرات پر 50لاکھ روپے خرچ کئے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر ماحولیات حمیداللہ جان آفریدی نے سی ڈی اے سے 2009میں اپنی خوبصورتی کے نام پر 30کنال اراضی حاصل کی تاہم بعدازاں سی ڈی اے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری اراضی پر تعمیرات کرلی گئیں۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ نے سی ڈی اے کو ڈیڑھ ارب روپے مالیت سے زائد کی سرکاری اراضی فوری طور پر واگزار کرواکر رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی ہے۔ ممبر سی ڈی اے خوشحال خان اور ڈائریکٹر عشرت وارثی وزیراعظم سیکرٹریٹ اور عدالتی احکامات کے باوجود سرکاری اراضی کو واگزار کروانے میں لیت ولعل سے کام لیتے ہوئے درمیانی راستہ نکالنے میں مصروف ہیں۔ سرکاری دستاویز کے مطابق سابق وفاقی وزیر ماحولیات حمیداللہ جان آفریدی نے 2009میں سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کے پوش اور مہنگے ترین سیکٹر ایف 4/10میں اپنی رہآئش گاہ ہاوس نمبر 294 گلی نمبر 56سے ملحقہ 30کنال سرکاری اراضی خوبصورتی کے نام پر سی ڈی اے سے مفت حاصل کی تھی۔ سی ڈی اے نے حمیداللہ جان آفریدی کو باغیچے کیلئے 30کنال اراضی مخصوص شرائط پر حوالے کی۔ سی ڈی اے کی تحریری شرائط کے مطابق خوبصورتی کے نام پر دی گئی اراضی عوام الناس کیلئے بند نہیں کی جائےگی۔ سرکاری اراضی پر باڑ، بیرئیر اور کسی بھی قسم کی تعمیرات نہیں کی جائیں گی۔ سی ڈی اے کسی بھی وقت خلاف ورزی یا کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کے بغیر بھی سرکاری اراضی واپس لے سکتا ہے۔ اراضی واپس لینے کی صورت میں سی ڈی اے کے خلاف کسی بھی عدالت سے رجوع نہیں کیا جائے گا۔ حیران کن طور پر حمیداللہ جان آفریدی نے سرکاری اراضی پر ٹینس کورٹ، پارکنگ، کنکریٹ کی تعمیرات اور 30کنال اراضی کےداخلی راستے پر بیرئیر لگاکر زمین پرعام شہریوں کا داخلہ بند کر دیا۔ دستاویز کے مطابق حیمد اللہ جان آفریدی کی جانب سے شرائط کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے نے این او سی منسوخ کردیا اور سرکاری اراضی واگزار کروانے کی کوشش کی۔ حمیداللہ جان آفریدی نے اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی واپس کرنے کی بجائے عدالت سے رجوع کرلیا۔ ذرائع کے مطابق سی ڈی اے کے افسران حمیداللہ جان آفریدی کو حکم امتناع حاصل کرکے مقدمہ کے ذریعے پر قبضہ برقرار رکھنے کی تجویزدی۔ حمیداللہ جان آفریدی نے سول کورٹ، سیشن اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے مرحلہ وار رجوع کیا مگر عدالتوں سے سرکاری اراضی اور سی ڈی اے کے خلاف فیصلہ حاصل کرنے میں ناکام رہے مگر سی ڈی اے میں موجود حمیداللہ جان آفریدی منظورنظرافسران نے سرکاری اراضی پر قبضہ ختم نہ کروایا۔ دستاویز کے مطابق ایف 10/4کے رہائشی محمد حنیف نے حمیداللہ جان آفریدی کی جانب سے سرکاری اراضی پر قبضے اور عوام کو درپیش مشکلات کے باعث وزیراعظم کو درخواست بھیجی۔ درخواست کے ہمراہ قیمتی اراضی کی تفصیل اور عدالتی احکامات بھی لف کئے گئے جس پر بالاخر وزیراعظم سیکرٹریٹ سے سابق سی ڈی اے کو سابق وفاقی وزیر حمیداللہ جان آفریدی سے اربوں روپے مالیت کی 30کنال سرکاری اراضی واگزار کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی سی ڈی اے کو سرکاری اراضی کے غلط استعمال روکنے کے تاریخی احکامات جاری کئے مگر حیران کن طور پرسی ڈی اے مخصوص افراد کے خلاف سرکاری اراضی واگزار کروانے کیلئے آپریشن کیا مگر بااثر سابق وفاقی وزیر حمیداللہ جان آفریدی سمیت سیاسی شخصیات کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات پر نظر پوشی پر 20نومبر کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سماعت کی اور سی ڈی اے کے ڈائریکٹر عشرت وارثی سے جواب طلب کیا۔ ڈائریکٹر سی ڈی اے عشرت وارثی نے معزز عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ آئندہ دو روز میں سابق وفاقی وزیر حمیداللہ جان آفریدی سے قیمتی اراضی واگزار کروالی جائے گی۔ مگر ابھی تک ایسا ممکن نہ ھو سکا۔ معلوم ہوا ہے کہ سی ڈی اے کے ایک دیانتدار انسپکٹر انفورسٹمنٹ نے 30 کنال سرکاری اراضی پر حمید اللہ جان آفریدی کی جانب سے قبضے اور تعمیرات کی رپورٹ حکام بالا کو ارسال کردی ہے۔ انسپکٹر انفورسمنٹ نے سرکاری اراضی واگزار کروانے کیلئے بھاری مشینری، آلات اور افرادی قوت طلب کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق ممبر سی ڈی اے خوشحال خان سابق وفاقی وزیر ماحولیات حمیداللہ جان آفریدی کے سٹآف آفیسر رہ چکے ہیں۔ خوشحال خان انفورسمنٹ انسپکٹر کی رپورٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات اور وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود سرکاری اراضی واگزار کروانے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

 

حلقہ بندیوں کا ترمیمی بل، حکومت نے پیپلز پارٹی سے مدد مانگ لی

اسلام آباد(آئی این پی)حکومت نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے حکومت کے آئینی ترمیم بل پر حمایت کیلئے پیپلز پارٹی سے مدد مانگ لی‘ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے سپیکر چیمبر میں 12 منٹ ملاقات کی ہے جس دوران انہوں نے سینیٹ میں حلقہ بندیوں کے حوالے سے حکومت کے آئینی ترمیم بل کےلئے پیپلز پارٹی سے حمایت کی مدد مانگی ہے ‘میں نے وزیر اعظم کو بتا دیا ہے کہ اس حوالے سے میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا ‘ان کا پیغام اپنی اعلیٰ قیادت تک پہنچا دوں گا‘بہتر ہے حکومت تحریری طور پر قیادت کو اپنی تجاویز اور درخواست کرے ۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر چیمبر میں مجھ سے 12 منٹ ملاقات کی جس میں شاہد خاقان عباسی نے سینیٹ میں حلقہ بندیوں کے حوالے سے حکومت کے آئینی ترمیم بل کے لئے پیپلز پارٹی سے حمایت کی مدد مانگی ہے لیکن میں نے وزیر اعظم کو بتا دیا ہے کہ اس حوالے سے میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا لیکن ان کا پیغام اپنی اعلیٰ قیادت تک پہنچا دوں گا۔ جس پر شاہد خاقان عباسی نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے آصف زرداری یا بلاول بھٹو سے ملاقات یا فون پر رابطے کے لئے بھی تیار ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کا پیغام اعلیٰ قیادت تک پہنچا دیا ہے اب اعلیٰ قیادت ہی سینیٹ میں حکومت کے آئینی ترمیم کے بل کی حمایت یا شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کا فیصلہ کرے گی۔

ڈیپوٹیشن کیس، آپ نے یہ تو نہیں کہا، مجھے کیوں نکالا: جسٹس عظمت سعید

لاہور(نیٹ نیوز)مجھے کیوں نکالا کی بازگشت سپریم کورٹ میں بھی سنائی دینے لگی ہے ،ورکرز ویلفیئر فنڈز ڈپیوٹیشن افسران کیس کی سماعت کے دروان جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے تو یہ نہیں کہا کہ مجھے کیوں نکالا ،جی ٹی روڈ پر آپ نہیں جا سکتے کیونکہ فیض آباد بند ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ورکرز ویلفیئر فنڈز ڈپیوٹیشن افسران کیس کی سماعت ہوئی جس دوران جسٹس عظمت سعید نے اپنے یمارکس میں کہا کہ عدالتی حکم کی عدم تعمیل ہوئی تو توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر 8میں سے پانچ ڈپیوٹیشن افسران کو واپس بھیج دیا ،3افسران پر عدالتی حکم کا اطلاق نہیں ہوتا ،جس پر وکیل درخواست گزار کا کہناتھا کہ جن پانچ افسران کو واپس بھیجا گیا وہ ابھی تک کام کر رہے ہیں ،عدالتی حکم پرمتعلقہ سیکریٹریوں نے عمل نہیں کیا۔جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ کیا ان کے ساتھ ’یس منسٹر یس منسٹر کھیلا جارہاہے ‘۔وکیل متاثرہ افسران نے عدالت کو بتایا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ ز میں پسند نا پسند پر فیصلے ہوئے ،جس پر عظمت سعید شیخ نے کہا کہ آپ نے یہ تو نہیں کہا کہ مجھے کیوں نکالا ،جی ٹی روڈ پر آپ نہیں جا سکتے فیض آباد بند ہے ،فیض آباد کھلے گا تو جاسکیں گے ،انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ سیکریٹریوں کو بلایا ہے ،سب کو سن کر فیصلہ کریں گے ،عدالت نے سیکریٹری اوورسیز اور سیکریٹری ڈبلیو ڈبلیو ایف کو طلب کر لیاہے اور کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

حکومت کو عدلیہ سے ٹکرانہ مہنگا پڑے گا، شیخ رشید

اسلام آباد (این این آئی) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت کو عدلیہ سے ٹکرانا بہت مہنگا پڑے گا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہاکہ نااہل شخص کو اہل قرار دینا آئینی طور پر ناممکن ہے ¾اس طرح تو اجمل پہاڑی اور عزیر بلوچ کو بھی وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے تاہم امید ہے کہ سپریم کورٹ انتخابی اصلاحات ایکٹ کو ختم کر دےگی جب کہ حکومت کو عدلیہ سے ٹکرانا بہت مہنگا پڑے گا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ نوازشریف کے بغیر یہ کام ممکن نہیں تھا جب کہ وزیر خزانہ اور نوازشریف سب اقامے والے ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ ہر محلے کو اوسط بل ڈال دیا جاتا ہے میٹر ریڈنگ کی اہمیت ہی نہ رہی، بجلی والوں کو 14 ہزار چالان روزانہ کرنے کا حکم ہے جبکہ پولیس کو بھی لازمی چالان روزانہ کرنے کا ٹاسک ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو واپڈا افسر ٹارگٹ بل پورا نہیں کرتا اور حقائق پر جاتا ہے تو اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے، میں نے کبھی ذاتی کیس پیش نہیں کیا مگر میرے ہاسٹل میں گیس چلی نہیں اور 40 ہزار کا بل بھیج دیا۔

ہائی کورٹ نظر ثانی بورڈ کا حافظ سعید کو فوری رہا کرنیکا حکم

لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی ریویو بورڈ نے حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع کی حکومتی درخواست مسترد کر دی اور حافظ سعید کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عبدالسمیع خان کی سربراہی میں 3 رکنی ریویو بورڈ کے سامنے حافظ سعید کو پیش کیا گیا اور ریویو بورڈ نے بند کمرے میں کارروائی کی کارروائی کے دوران حافظ سعید نے اپنی نظر بندی کو بلا جواز قرار دیا اور موقف اختیار کیا کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے انہیں ایک سال سے نظر بند رکھا گیا ہے حکومت کی جانب سے نظر بندی میں ساٹھ سے نوے روز کی نظر بندی کی استدعا کی گئی تین رکنی ریویو بورڈ نے تمام ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد حافظ سعید کی نظر بندی کی معیاد مکمل ہونے سے ایک دن پہلے ہی نظر بندی ختم کر دی ریویو بورڈ نے حکم دیا کہ حافظ سعید کے خلاف کوئی دوسرا کیس نہ ہونے کی بنیاد پر انہیں فوری طور پر رہا کر دیا جائے حافظ سعید کو اس سال 30 جنوری کو نظر بند کیا گیا تھا جس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے احکامات کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ریویو بورڈ کے فیصلے کے بعد حافظ سعید کی لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت نظر بندی کے خلاف زیر سماعت درخواست رہائی کی وجہ سے غیر موثر ہو گئی ہے لاہور ہائیکورٹ نے حافظ سعید کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے حافظ سعید کی پائیکورٹ میں آمد پر ان کی تنظیم کے کارکن نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں حافظ سعید کی نظر بندی ختم ہونے کے احکامات پر نعرے بھی لگائے گئے حافظ سعید نے اپنی رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بھارت کو خوش کرنے کے لیے انکو نظر بند کیا تھا حافظ سعید نے ہائیکورٹ ریویو بورڈ کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ عدلیہ کے فیصلہ کے بعد بھارت کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔

 

سلیمان داود نے واپسی کیلئے یو این اویا برطانیہ کی گاڑی مانگی :یوسف رضا گیلانی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یہ ماننا پڑے گا آج مسلم لیگ (ن) اسمبلی میں اکثریت دکھانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ کہا جا رہا ہے تھا کہ 70کا ٹولہ ان سے علیحدہ ہو چکا ہے ایسا ہر گز نہیں ہوا۔ میاں صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ وہ مینڈکوں کو ایک گھڑے میں اکٹھا رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں تناﺅ موجود ہے۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں کچھ گلے شکوے کر رہے ہیں۔ مجھے کسی صاحب نے لندن سے مٹھائی بھیجی ہے۔ انہوں نے کہا میرے لیڈر کامیابی سے نکل گئے ہیں اور دشمن ناکام رہے ہیں۔ دوسرے دوست نے مجھے فون کیا اور کہا کہ نااہل وزیراعظم کے لئے اتنے سارے پارلیمنٹیرین نے ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا! معاف کرنا پاکستانی قوم میں غیریت نام کی کوئی چیز نہیں انہوں نے کہا! لفظ ذرا سخت ہیں لیکن پاکستان کی قوم بے غیرت ہے عدالت نے جس شخص کو نااہل کر دیا۔ اسے پھر چن رہے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ اس شخص کے بارے میں سب کچھ بیان کر دیتا ہے۔انہوں نے کہا اسی طرح اپوزیشن بھی بہت نااہل ہے جو اوپر سے مخالف ہیں اور اندر سے ملے ہوئے ہیں۔ نوید قمر نے گنوائے کہ کتنے لوگ ہیں جو ابھی تک نوازشریف کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے تیسری بات بھی کہی اسٹیبلشمنٹ نااہل ہے۔ میں ڈرتا ہوں 1971ءکی طرح نابالغ اور نااہل اسٹیبلشمنٹ اپنا ایک اور ٹکڑا نہ ہاتھ سے گنوا بیٹھے۔ عمران خان نے پہلے سے گنتی کر لی ہو گی کہ میرے ایک ووٹ سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ اسی لئے وہ پارلیمنٹ میں نہیں گئے میں نے جب بھی انہیں فون کیا انہیں مشورہ دیا کہ پارلیمنٹ میں جانا چاہئے۔ جس سسٹم پر آپ یقین نہیں رکھتے پارلیمنٹ میں نہیں جاتے۔ تو کس طرح قوم کو راضی کریں گے کہ آپ کو چن کر اس میں بھیجیں۔ شاید عمران خان نے سمجھ لیا ہے کہ انہیں نااہل کر دیا جائے گا۔ اسی لئے وہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنی تحریک جاری رکھوں گا۔ عمران خان کو پھر بھی پارلیمنٹ میں ضرور جانا چاہئے۔ ایک مرتبہ مغربی پاکستان کی پارلیمنٹ میں باقی بلوچ کو تو گولی مار دی گئی تھی۔ لیکن خواجہ محمد صفدر صاحب جن کے بیٹے یہ خواجہ صاحب ہیں۔ لیکن ان میں ان کے جیسی خوبیاں نہیں ہیں خواجہ صفدر بہت محنتی، مخلص پارلیمنٹرین تھے۔ وہ بہت محنت کرتے تھے۔ وہ رات کو ایک بجے بھی کتابوں میں الجھے ہوتے تھے۔ سیف اللہ خان، رحمت اللہ ارشد، افتخار احمد انصاری باقی بلوچ یہ لوگ اتنی محنت کرتے تھے کہ شاید 11 یا 13 بندوں کی اپوزیشن تھی لیکن وہ ایک ایک چیز میں بل روک لیتے تھے۔ اور کتنے کتنے مہینے بل رکوا لیتے تھے کہ یہ آئین اور قانون کے مطابق غلط ہے۔ پارلیمانی پریکٹس کے لئے بہت ضروری ہے کہ آپ اس کے ساتھ جڑے رہیں۔ یہ ضیاءالحق کے دور میںہوا کہ ہاتھ اٹھا کر فیصلہ دےے دو۔ کوئی پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو۔ اب تعلیم کی شرط بھی ختم کر دی ہے دعوے سے کہتا ہوں 70 سے 80 فیصد پارلیمنٹیرین بجٹ کی انگریزی میں کاپی پڑھ ہی نہیں سکتے۔ ظفر اللہ جمالی کے ساتھ بڑے قریبی تعلق ہیں میں نے ان کے ساتھ دنیا کے مئی ممالک میں دورہ کیا۔ میری پہلی کتاب آئی تو وہ ڈیرہ مراد جمالی میں تھے۔ انہوں نے مجھے وہاں سے فون کیا اور اب میری نئی کتاب بھی وہ پڑھ کر مجھے بتاتے ہیں کہ تم نے کتاب میں فلاں واقعہ لکھا ہے۔ ولاں بات لکھی ہے۔ وہ پرانے پارلیمنٹیرین ہیں۔ وزیر، وفاقی وزیر، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم سب رہ چکے ہیں۔ لیکن اس قسم کی سیاست کہبازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگےوہ پارلیمنٹ کو تماشا کہتے ہیں۔ عدالت کیا فیصلہ کرے کوئی اس بارے حتمی رائے نہیں دے سکتا۔ عدالت کیلئے مشکل بن گئی ہے اگر وہ الیکشن کے ترمیمی بل کو برقرار رکھتی ہے تو یہ ٹرینڈ بن جائے گا۔ آپ نے قتل کیا پھانسی کی سزا ہوئی آپ کو اکثریت حاصل ہے۔ اسمبلی اسی شق کو ہی اڑا دے جس کے تحت آپ کو سزا ہوئی ہے۔ آپ اس کو جمہوریت کی فتح کہہ سکتے ہیں آزاد عدالتیں کیا اس کو تسلیم کر لیں گے کہ بندہ پھانسی پانے والا تھا کہ اچانک فیصلہ کر دیا جائے کہ یہ شق کینسل اور 302 کے سب ملزم بری۔ میاں نوازشریف کو خیال آیا کہ ہم نے لندن میں میثاق جمہوریت کیا تھا۔ وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ آﺅ اس پر اب بات کو لو۔ لیکن اس کے شاید 50 فیصد چانسز نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی وہ آپس میں ایک ہیں۔ یہ ایک تھیوری اسلام آباد میں موجود کہا جاتا ہے کہ اندر خانے ان کے رابطے موجود ہیں۔ آصف زرداری کسی وقت بھی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ نوازشریف بڑے بھائی ہیں ان سے بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے۔ 2018ءکے الیکشن کے لئے اپنی پہچان قائم رکھنے کیلئے نوازشریف سے بات نہ بھی کریں۔ میرے خیال کے مطابق پی پی پی کے پنجاب میں کوئی طاقتور شخصیت موجود ہی نہیں ہے سوائے قمر زمان کائرہ کے۔ شاید وہ اپنی سیٹ نکال سکیں۔ وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب میں تو پی پی پی کے پاس نمائندے ہی موجود نہیں ہیں۔ اسحاق ڈار میرے بہت پرانے دوست ہیں کافی کوشش کے باوجود ان سے فون نہیں ہو سکا شاید وہ علیل تھے۔ پچھلے دنوں میں کوئٹہ گیا۔ وہاں کونسل آف ایڈیٹرز کی ملاقات ڈاکٹر مالک صاحب سے ہوئی۔ تمام اخباروں کے ایڈیٹرز وہاں چائے پر موجود تھے۔ انہوں نے عجیب بات بتائی۔ جب ہم نے پوچھا کہ باغی ارکان جنہیں آپنے منا کر لانا تھا کہاں گئے۔ انہوں نے انکشاف کیا۔ میں نے جنیوا، لندن سب جگہ براہمداغ بگٹی سمیت تمام بلوچ رہنماﺅں سے ملا ہوں اور وہ بغیر کسی شرط کے واپس آنے پر تیار ہوگئے تھے۔ جب میں نے وزیراعظم نوازشریف کو بتایا۔ اس پر انہوں نے کہا ہم سوچ کر بتاتے ہیں۔ اتنے عرصہ میں ان کی مدت ختم ہو گئی اور ن لیگ کے وزیراعلیٰ اقتدار میں آ گئے۔ کیا واقعی ایسی صورتحال تھی کیا غلطی نہیں کی کہ انہیں قومی دھارے میں نہیں لا سکے؟ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پی پی پی نے اپنی ذمہ داری کو نبھایا۔ انہوں نے سینٹ میں بھی بل پاس کروایا کہ نااہل شخص پارٹی صدارت نہیں رکھ سکتا۔ ادھر بھی انہوں نے کوشش کی اور 98 ووٹ لئے۔ خدا نہ کرے کہ 1971ءکا واقعہ دوبارہ رونما ہو۔ مگر پارلیمنٹ آزاد اور خود مختار ہے وہ خود فیصلہ کرتی ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد پارٹی لیڈر کو کافی اختیارات مل گئے تھے۔ اس لئے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جانا اتنا آسان نہیں ہے کہ جو خدشات آپ کو نظر آ رہے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں۔ اس میں اسٹیبلسمنٹ کا کیا رول ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ تو پارلیمنٹرین کے ووٹوں کا معاملہ ہے اس میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی رول نہیں ہے۔ جب میں وزیراعظم تھا۔ مجھے ڈی جی، آئی ایس آئی نے بریفنگ دی تھی بلوچستان کے بارے ان کے خیال کے مطابق وہاں انڈیا کی بہت زیادہ دخل اندازی موجود تھی۔ وہ بلوچستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں آپ اس کا کوئی حل نکالیں۔ ہم نے آعاز حقوق بلوچستان پر کام کیا۔ جتنے بھی قرارداد اس دن تک بلوچستان اسمبلی کے پاس کئے تھے ہم نے من و عن ان سب کو تسلیم کر لیا۔ اور ان کی رائلٹی کیلئے ان کی تمام تر ڈیمانڈز پوری کر دیں۔ ہم نے آغاز کر دیا تھا کہ مثبت قدم اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اتنے بھی حالات خراب نہیں کہ ہم بلوچستان کو سنبھال نہ سکیں۔ جب میں وزیراعظم بنا ہم نے بلوچوں کے لئے عام معافی کا اعلان کر دیا۔ ڈاکٹر مالک اور نواب صاحب بھی میرے قریبی دوست ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں۔ اس وقت ان بلوچ رہنماﺅں نے شرط رکھی تھی کہ ہماری گارنٹی یو این او، یا برطانیہ دے۔ ہم نے جواب دیا نہیں یہ ہمارے اپنے ملک کا مسئلہ ہے اس کی گارنٹی میں اپنے اداروں سے آپ کو معافی دلواتا ہوں آپ تشریف لائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت وہ بغیر کسی شرط کے واپس آنا چاہ رہے تھے تو یہ بہترین موقع تھا۔ حکومت نے اس پر کام نہ کر کے غلطی کی۔

وزیر اعظم کے ظہرانہ میں نہ آنے والے ارکان اسمبلی کیخلاف ایکشن کا فیصلہ

اسلام آباد ( آن لائن ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ظہرانے میں شرکت نہ کرنے والے لیگی ممبران اسمبلی نے نیا طوفان کھڑا کردیا ، سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ ، وزیراعظم ہاﺅس ، کیبنٹ انکلیو اور ایوان صدر میں وزراءاور ممبران کی دوڑیں لگودیں ۔ غیر حاضر ممبران کی فہرست طلب کرلی گئی ۔ عدم شرکت کی معقول وجہ نہ ہونے پر شوکاز نوٹس جاری کئے جانے سے متعلق متضاد دعوے ، مریم نواز نے بھی پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنےوالے ممبران کا پتہ چلانے کےلئے ویڈیو فوٹیج حاصل کرلی، وفاداریاں بدلنے والوں کیخلاف سخت ایکشن کا فیصلہ ۔ ذمہ دار ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے حکومت کی تمام تر کوششوںکے باوجود ظہرانے میں شرکت نہ کرنے والوں کے بارے میں سخت برہمی کااظہار کیا ہے اور ان کے بارے میں ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف نے تمام غیر حاضرممبران کی فہرست طلب کی ہے اس سلسلے میں رات گئے تک پارلیمنٹ ہاﺅس ، ایوان صدر ، وزیراعظم ہاﺅس اور سیکرٹریٹ ، کیبنٹ انکلیو اور ایوان صدر میں ہنگامی رابطے کئے گئے اور اکثریتی عدم شرکت والے ممبران کے ٹیلی فونک رابطے منقطع تھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شرکت نہ کرنے والے ممبران اسمبلی کو خود فون کرتی رہی ہیں اس بات پر بھی برہمی کااظہار کیاجارہاہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے دورہ لندن منسوخ کرکے تمام تر توجہ اس بات پر فوکس رکھی کہ ممبران اسمبلی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ظہرانے میں شرکت کریں تاہم ظہرانے میں 128،134اور 138کے علاوہ 146ممبران کی شرکت کی متضاد خبریں آتی رہیں جس کے بعد مریم نواز نے نہ صرف حساس اداروں بلکہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ پارلیمنٹ سے شرکت کرنے والے ممبران کی فوٹیج بھی حاصل کرلی ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنا دورہ لندن منسوخ صرف اس ظہرانے کیلئے کیا تھا ان کی پاکستان میں موجودگی تمام ممبران اسمبلی کو یہ پیغام دینا تھا کہ وہ پاکستان میں رہیں گے اور اپنے مقدمات کا سامنا کرینگے تاہم اس کے باوجود ممبران کی عدم شرکت نے سیاسی محاذ پر ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کردیا ہے جس کے باعث وزیراعظم ہاﺅس سے لیکر تمام ایوانوں میں کھبلی مچی ہوئی ہے اور مسلم لیگ (ن) پر ایک سکتے کی کیفیت طاری ہے۔

پاپا کی چوائس کوئی اور مگر وہ وزیر اعظم نہیں بننا چاہتے ،لاڈلی بیٹی مریم نواز کا دبنگ اعتراف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) منتخب پارلیمنٹ نے ڈاکٹیٹر کے بنائے ہوئے کالے قانون کو ردی ی ٹوکری میں ڈال دیا ہے۔ یہ جمہوریت کی فتح کا دن ہے۔ میاں نوازشریف نے تحمل مزاجی کا درس دیا ہے۔ وہ کسی سے ٹکراﺅ نہیں چاہتے۔ پاکستان میں جمہوریت جتنی مزور سمجھی جا رہی ہے اتنی کمزور نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی مریم نواز نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل ایک عہد ساز دن تھا جب منتخب پارلیمنٹ نے ڈکٹیٹر کے کالے قانون کو ردی بنا کر کچرے کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ ہم اسے جمہوریت کی فتح سمجھتے ہیں۔ کسی کی شکست نہیں سمجھتی۔ پارلیمنٹ نے ڈکٹیٹر کے بنائے ہوئے کالے قانون کو رد کر کے اچھی مثال قائم کی ہے۔ اپوزیشن والے اداروں کے پیچھے چھپ کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ نوازشریف کو میدان میں شکست نہیں دے پائے تو اداروں کو سہارا بنا لیا۔ اپوزیشن کو اپنی صفوں کی فکر کرنی چاہئے کیونکہ بل لانے والے خود پارلیمنٹ میں موجود نہیں تھے۔ تلخ حقائق کو بیان کرنا۔ ٹکراﺅ نہیں ہوتا۔ سب ادارے قابل احترام ہم ان کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ادارے قانون اور آئین سے باہر جا کر ایک شحص کے لئے ایسی مثال قائم کریں کہ وہ قانون کے مطابق نہ ہوں تو سوال تو اٹھیں گے۔ میاں نوازشریف کروڑوں کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ وہ لیڈر ہیں۔ پاکستان کو ایک فیصلہ کن سمت دینے کا وقت آ گیا ہے۔ میرے لئے فخر کی بات ہے جو خوف اور ڈر سے بھاگی نہیں اور اپنے والد کے ساتھ کھڑی ہوں۔ مشکلات کا سامنا کر کے ہی قوم کو درست سمت دی جا سکتی ہے۔ نوازشریف نے تحمل مزاجی کا سبق دیا ہے وہ کسی ادارے سے ٹکراﺅ نہیں چاہتے۔ اگر ٹکراﺅ کی کیفیت نظر آ رہی ہے تو یہ کس نے پیدا کیا ہے جمہوریت جتنی کمزور سمجھی جا رہی ہے پاکستان میں اتنی کمزور نہیں ہے۔ پارلیمنٹ نے اس کا ثبوت دے دیا ہے۔ ماورائے عدالت کام کو اگربند باندھا جا رہا ہے تو یہ بہتر قوم ہے۔ غیر قانونی اقدام قابل قبول نہیں۔ شہباز شریف وفادار بھائی ہیں۔ اپنے والد کے بعد وہ بھائی کو باپ کا درجہ دیتے ہیں۔ ان کی جدوجہد بہت بڑی ہے۔ نوازشریف کی اپنی چوائس شہباز شریف تھے لیکن وزیراعظم نہ بننے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا۔ انہیں لگتا تھا کہ درمیان میں کام چھوڑنے کی وجہ سے منصوبوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے سوچا کہ وقت تھوڑا ہے۔ الیکشن قریب ہیں۔ بہتر ہے کہ منصوبوں کو مکمل کر لیا جائے۔ اگر وہ وزارت عظمیٰ کی طرف جاتے ہیں تو صوبے کے کاموں میں فرق پڑ سکتا ہے۔ 1999ءمیں جتنی سزا میاں صاحب کو دی گئی۔ وہ ان کے لئے تمغہ ہے۔ ان ہی جلا وطنیوں نے انہیں نوازشریف بنایا ہے۔ ان کی جدوجہد سنہری حروف میں لکھی جا رہی ہیں۔

اہم پیش رفت زاہد حامد کام روک دیں دھرنا ختم کردینگے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)فیض آباد میں جاری دھرنے کے خاتمے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور مظاہرین وزیر قانون زاہد حامد کے فوری استعفی کے مطالبے سے دستبردار ہوگئے ہیں جبکہ دوسری طرف مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آرہی ہے ، مظاہرین کے پتھراﺅ کی وجہ سے ایس پی صدر عامر نیازی سمیت چار اہلکار زخمی ہوگئے ۔ فیض آباد دھرنے کے مسئلے کے حل کے لیے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی نے تحریک لبیک کے رہنماں سے مذاکرات کے بعد سفارشات حکومت کو بھجوادی ہیں اور دھرنا مظاہرین وزیر قانون زاہد حامد کے فوری استعفی کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ تحریک لبیک کا موقف ہے کہ ہم زاہد حامد کو مرکزی ملزم نہیں مانتے، تاہم ختم نبوت ترمیم کی تحقیقات کرنے والی راجہ ظفرالحق رپورٹ منظرعام پر آنے تک وزیر قانون اپنا کام روک دیں تو ہم دھرنا ختم کردیں گے۔وزارت مذہبی امور نے پیر حسین الدین شاہ کی کمیٹی کی رپورٹ وزیرداخلہ کو ارسال کردی ہے۔ وزارت مذہبی امور نے جید علما پر مشتمل یہ مذاکراتی کمیٹی گزشتہ روز تشکیل دی تھی جس میں پیر حسین الدین ،ڈاکٹر ساجد الرحمن ، پیر ضیا الحق شاہ، مولاناعبدالستارسعیدی اور پیرنظام الدین جامی شامل ہیں۔دوسری طرف حلف نامے میں ترمیم کے مسئلے پر اسلام آباد میں 17 روز سے دھرنا جاری ہے جس دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوتی رہیں ، تازہ ترین اطلاعات کےمطابق مظاہرین گارڈن ایونیو کے قریب کنٹینر پر چڑھ گئے ہیں اور ان کے پتھراو کی وجہ سے ایف سی اور پولیس کے چا راہلکار زخمی ہوگئے ہیں جن میں ایس پی صدر عامر نیازی بھی شامل ہیں۔

 

بیٹی کی شادی کیلئے 3لاکھ دیکر غریب باپ سے 4گنارقم بٹور لی

حا صل پور(نمائندہ خبریں) سود خور مافیا کنڈی گروپ نے غریب شہری کا جینا دوبھر کر دیا،مجبور باپ کو بچی کی شادی کے لیے تین لاکھ روپے سود پر دیکر کر ساڑھے سات لاکھ روپے بٹور لیے،مزید سات لاکھ روپے رقم کی ڈیمانڈ ورنہ دکان پر قبضہ کرنے کی دھمکی۔غریب شہری پریس کلب حا صل پور پہنچ گیا،تفصیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار محمد زاہد ولد محمد افضل جٹ رہائشی حا صل پور اور محمد اسلم ماہو نے ریس کلب حا صل پور میں ایک پریس کا نفرنس میں کیا ۔انھوں نے کہا کہ بچی کی شادی کے لیے مجبور ہو کر ایک سود خور مافیا کے کنڈی گروپ کے رکن عطاءمحمد خان ولد سر بلند خان پٹھان سے نقدی رقم مبلغ تین لاکھ روپے سود پر حا صل کیے۔جس پر سود خور مذکور نے ہر چھ ماہ بعد ڈیڑھ لاکھ روپے بطور سود ادا کرنےکی شرط پر اور دو عدد خالی اسٹام پیپر معہ دو عدد خالی پرو نوٹ اور دو عدد اوپن چیک وصول کر کے رقم تین لاکھ روپے دے دیئے۔ اور قرض کی ادائیگی کی مدت ایک سال مقرر کی،انھوں نے کہا کہ تین لاکھ روپے رقم کی مد میں تقریبا 750000 روپے کی رقم مذکورہ عطا محمد کو ادا کر چکا ہوں۔ اور اب سود خور عطاءمحمد مزید680000 روپے رقم کی ڈیمانڈ کر رہا ہے۔ اور کہہ رہا ہے کہ اگر تونے یہ رقم نہ دی تو تمھارا چیک پرونوٹ اپنی مرضی سے بھر کر تمھاری دکان اور پلاٹ پر قبضہ کر لونگا،انھوں نے کہا کہ میں غریب شہری ہوں اتنی بھاری رقم ادا نہیں کر سکتا اس سلسلہ میں عدالت عالیہ میں بھی رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔انھوں نے کہا کہ میرے چیک پرونوٹ عطاءمحمد سے برآمد کیے جائیں،اور مقدمہ درج کیا جائے،ہم وزیر اعلٰی پنجاب، آئی جی پنجاب۔ ڈی آئی جی بہاولپور، ڈی پی او بہاولپور سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے،ورنہ اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ وزیر اعلیٰ ہاﺅس کے سامنے پٹرول چھڑک کر خود سوزی کرنے پر مجبور ہونگا،اس موقع پر رانا زاہد مہتاب و صحافی برادری کثیر تعداد میں موجود تھی۔