لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ آئین کے مطابق صدر مملکت کو اختیار حاصل ہے کہ کسی عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزا کو ختم کر سکتے ہیں۔ یہ وہ شق ہے جس کے مطابق این آر او کیا گیا تھا۔ پرویز مشرف صاحب نے پی پی پی کے خلاف کسی گروپ یا لوگوں کو اس طرح نہیں بچایا جا سکتا تھا جس کی وجہ سے ایک کٹ تاریخ رکھی گئی یعنی فلاں تاریخ سےے لے کر فلاں تاریخ تک جتنے بھی مقدمات ہیں واپس لئے جاتے ہیں۔ اس میں سزا ہو چکی یا ابھی نہیں ہوئی۔ اس این آر او کے تحت پی پی پی کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے بیشتر مقدمات بھی واپس لے لئے گئے تھے۔
پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے این آر او میں بہت سارے کیسز واپس لے لئے گئے تھے۔ جس میں پی پی پی اور ایم کیو ایم کے بیشتر مقدمات تھے۔ جسٹس وجیہہ الدین صاحب آپ بتائیں کیا موجودہ صدر بھی اتنے ہی اختیارات رکھتے ہیں جتنے پرویز مشرف صاحب رکھتے تھے اور این آر او کی بھی بہت بات کی جاتی ہے کیا ممکن ہے شریف فیملی کو اسحاق ڈار کو عدالت سے کوئی سزا دی جائے تو صدر ممنون حسین اسے ختم کر سکتے ہیں۔
پرویز مشرف نے این آر او کے تحت جو مقدمات ختم کئے تھے۔ کیا ان میں ایسے معاملات بھی تھے جن میں سزا دی جا چکی ہو وہ سارے معاملات مقدمات کے لئے تھے یا سزاﺅں کو بھی ختم کیا گیا تھا؟ اگر آئین میں گنجائش موجود ہے تو نوازشریف صاحب اور ان کی فیملی ان کے پاس جا سکتے ہیں۔
اگر شریف فیملی کو اسحاق ڈار کو مریم نواز کو اور کیپٹن صفدر کو نیب عدالتوں کی جانب سے سزا ہو جاتی ہے تو کیا اسے بھی صدر مملکت ختم کر سکتے ہیں۔ جس طرح پرویز مشرف نے ختم کر دی تھیں۔ کیا اس وقت مقدمات ہی ختم ہو گئے تھے یا سزائیں بھی ختم ہوئیں تھیں۔ نوازشریف نے اپنی نااہلی اس طرح کیوں ختم نہیں کرائی اور اگر اب نیب کی جانب سے مزید سزائیں آئیں تو صدر صاحب اسے ختم کر سکتے ہیں؟؟
اگر معاملات مالی بدعنوانی اور کرپشن کے ہیں۔ کیا صدر ان معاملات میں سزائیں معاف کر سکتے ہیں۔ جس کی سزا معاف ہو جائے وہ دوبارہ اہل ہو سکتا ہے۔
جہانگیر صدیقی صاحب کے صاحبزادے علی صدیقی ہیں۔ جنہیں امریکہ میں سفیر تعینات کر دیا گیا۔ کیا جہانگیر صداقی کے بہت سے کاروبار ہیں ایک نمایاں کاروبار ان کا جے ایس بینک ہے۔ ’ہم ٹی وی‘ جہانگیر صدیقی کی ہمشیرہ سلطانہ صدیقی کا ہے۔ وہ پی ٹی وی کی سینئر پوزیشن پر بھی رہ چکی ہیں۔ علی جان کو ایک خصوصی اسائنمنٹ دی گئی تھی۔ فنانشل ایڈوائزر کے طور پر اس وقت بھی الزامات لگے تھے۔ اخبارات میں آئی تھی کہ علی جہانگیر پر بہت سے مالی بدعنوانی کے کیسز ہیں۔ یہ باتت زیر بحث آئی تھی کہ نوازشریف صاحب نے کس طرح اس شخص کو اہم منصب پر فائز کر دیا۔ اس وقت اسحاق ڈار وزیرخزانہ تھے۔ مالی امور وہ دیکھتے تھے۔ اس لئے بار بار ان سے بھی سوال کئے گئے۔ کہ علی جان کا تقرر کس طرح کیا گیا۔ اب ان کی امریکہ میں سفیر کی تعیناتی پر بڑا سوال ہے۔ وہ عنقریب امریکہ جا کر اپنی ذمہ داریاں لے لیں گے۔
مبشر لقمان پاکستان کے باخبر ترین اینکرز میں شمار ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جس میڈیا کے بارے بات ہو رہی ہے ان کی معلومات اس کے بارے زیادہ ہیں۔ مبشر صاحب یہ بتایئے علی جان صاحب کی تقرری جب ہوئی تھی۔ وزیراعظم کے پاس فنانس کے شعبہ میں اس وقت بھی بہت شور مچا تھا۔ ان پر ایس ای سی پی کے حوالے سے ان پر بہت سارے کرپشن کے الزامات تھے اسحاق ڈار نے بھی جواب دینے کی کوشش کی تھی۔ اب انہیں امریکہ میں سفیر تعینات کیاجا رہا ہے۔ اس وقت عدلیہ کے ساتھ ساتھ ہماری دفاعی فورسز کے خلاف بھی ایک عناد کا، بغض کا رویہ۔ سابق وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کے ذہن میں پایا جاتا ہے۔ آپ اس تقرری کو کیسے دیکھتے ہیں آپ کے خیال میں وہ کس طرح امریکہ میں ہماری نمائندگی کر سکیں گے؟؟
آپ کے پروگرام میں، فرحت اللہ بابر کو جو شیٹ اپ کال ملی، یہ بات ہو رہی تھی۔ آصف زرداری کی طرف سے۔ جنہوں نے فوج اور عدلیہ کے بارے برملا اظہار کر دیا جب تک وہ پی پی پی کے سنیٹر رہے تو خاموش رہے۔ چیئرمین رضا ربانی بھی اپنے عہدے پر محتاط رہے۔ وہ جونہی الگ ہو رہے ہیں زبردست تنقید کی اداروں پر کہہ یہ کون ہوتے ہیں عدلیہ والے کہ پارلیمنٹ پر آ کر مداخلت کریں۔ ایک طرح سے انہوں نے نواز شریف کے بیانیے کو سپورٹ دی کیا پی پی پی کا یہ گروپ جو نوازشریف سے متفق دکھائی دیتا ہے اس کی کیا ریشو ہو گی۔ آنے والے وقت میں کیا وہ نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ افضاءالطاف اگر کراچی آ کر سیاست نہیں کرے گی تو کیا وہ بوتیک بنانے آ رہی ہے۔ وہ اس شخص کے نام پر سیاست کرے گی جسے لاہور ہائیکورٹ نے میڈیا پر بین کر دیا تھا۔ افضا کے خلاف اس وقت کوئی مقدمہ بھی نہیں۔ افضا الطاف کے بارے میں کراچی میں وال چاکنگ ہو رہی ہے۔ وہ اسی ہفتے کراچی پہنچ جائے گی۔ پاکستان میں اس کی آمد ایم کیو ایم کے دھڑوں کے لئے سنگ میل ثابت ہو گی۔ اگر وہ سیاست میں آتی ہے تو ایم کیو ایم کے تینوں دھڑوں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ یا کوئی تیسرا دھڑا بنانے آ رہی ہے؟ کیا یہ دونوں دھڑوں کی قیادت کر سکے گی؟ ججوں کی ملازمتوں میں توسیع ہوتی رہتی ہے۔ جسٹس بشیر کی مدت میں توسیع کوئی خاص بات نہیں تھی۔ یہ احتساب عدالت کے جج ہیں ان کے پاس ہماری شاہی لیڈر شپ کے کیسز ہیں۔ اس اسٹیج پر الگ ہو جاتے تو آنے والے جج صاحب کے لئے ذرا مشکل ہوتا۔ الیکشن کمیشن میں حافظ سعید کی پارٹی ملی مسلم لیگ نے درخواست دی تھی۔ پہلے تو اس نے انکار کر دیا تھا۔ وہ اس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے ہیں جس نے ان کی درخواست سماعت کے لئے مقرر کر دی ہی۔ کل انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کی بجائے اسلام آبا ہائیکوورٹ میں رٹ دائر کی تھی۔ اگرچہ انہیں اسٹے نہیں ملا۔ تین صدبوں، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان نے معذرت کی ہے کہ جناب ہم یہ بھاری بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ البتہ پنجاب کا جگرا بڑا ہے۔ شہباز شریف جو مستقبل کے وزیراعظم بھی ہوں گے۔ پارٹی کے صدر بھی ہوں گے۔ وہ ہر چیلنج کو قبول کر لیتے ہیں انہوں نے ریڈ کریسنٹ کے حوالے فلاحی ادارے کر دیئے ہیں ان کے سکول محکمہ تعلیم کے حوالے کر دیئے ہیں۔ میری اطلاع کے مطاب آرڈر ابھی تک آرڈر ہیں جبکہ ان کی ایک سوزوکی گاڑی تک قبضے میں نہیں لی گئی نہ ہی کسی سکول کو شاید ان کی جانب سے تنخواہ ادا ہوئی ہے۔ باقی صوبوں نے تو انکار کر دیا ہے کہ کون تنخواہ دے گا۔ ماہر قانون دان، جسٹس وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ موجودہ صدر مملکت کو بھی اتنی ہی پاور حاصل ہے جتنی پرویز مشرف کو اپنے آخری دور میں حاصل تھیں۔ اس میں فرق نہیں۔ سزا کی معافی کی قوت اورطاقت بھی اپنی جگہ پر موجود ہے لیکن ان معاملات کا تعلق”اُفینیس“ پر ہے۔ اگر نااہلیت کا معاملہ ہے۔ یا پارلیمان میں جانے کا معاملہ ہے یا کوئی پراپرٹی کا معاملہ ہے۔یا کوئی جرمانہ لگانے کا معاملہ ہے تو وہ ان کی دسترس میں نہیں۔ ان کی دسترس میں سزا کے معاملات۔ وغیرہ اس میں وہ کمی کر سکتے ہیں۔ مشرف دور میں جو سزائیں ہوئیں۔ یا ختم ہوئیں وہ نارمل معاملات سے مختلف تھیں۔ آرڈیننس کے ماتحت یہ کارروائی ہوئی تھیں۔ اس وقت آئینی ادارے موجود نہیں تھے۔ اس لئے مشرف نے آرڈیننس کے ذریعے ساری کارروائی کی۔ ماہر قانون ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ ہمارا قانون سزاﺅں کو علیحدہ رکھتا ہے نااہلیت کو معاف نہیں کر سکتے نااہلیت کو سزا نہیں سمجھا جا رہا۔ اس سے یہ ثابت کرنا ہے کہ انتخابات لڑ سکتے ہیں یا نہیں۔ مشرف کی حد تک سزاﺅں کو معاف کیا گیا۔ اگر کسی کو سزا ہو جاتی ہے تو وہ پہلے دو، چار سال سزا بھگتے گا پھر پانچ سال اس کی نااہلی کی شرط آ جائے گی۔ جو سزا منی لانڈرنگ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اسے صدر مملکت موخر و معطل کر سکتا ہے۔ تجزیہ کار اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ضیا صاحب آپ کا شکریہ۔ میں آپ کو بتاﺅں اس سے زیادہ پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کیا ہو گا کہ انہوں نے علی جہانگیر کو امریکہ میں سفیر تعینات کر دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو اپنی رکھیل بنا کر رکھا ہوا ہے میاں نوازشریف اور ان کے گھر والوں نے علی جہانگیر اور ان کے والد محترم پیرس کے بہت سارے پروگرام کئے ہیں۔ ان کے دوسرے بھائی پر بھی کئے ہیں۔ یہ 9 کمپنی سے شروع ہوتے ہیں اور نیچے تک آ جاتے ہیں۔ میں نے 150 بلین تک کی ان پر کرپشن کا حکم اپنے شوز میں کیا ہے۔ ہم عدالتوں میں بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ میں اچھی طرح انہیں جانتا ہوں۔ جس میڈیا گروپ کی آپ بات کر رہے ہیں ایس ای سی پی کا چیئرمین، اسٹیٹ بینک کا گورنر بدلا گیا۔ شاہد خاقان عباسی سے اچھے کی امید تھی لیکن وہ بھی کرپٹ ہیں کیونکہ کرپٹ آدمی ہی بزدل ہوتا ہے۔ اس لئے وہ نوازشریف کے غلام ہیں یہ ان کے پارٹنر بھی ہیں۔ پاکستان گرے لسٹ میں آ چکا ہے۔ امریکہ ہمارے خلاف گن کر رہا ہے۔ امریکہ میں انڈیا لابی چھا گئی ہے۔ وہاں ہماری لابی مکمل غائب ہے۔ وہاں کسی اچھے اورذہین شخص، خورشید قصوری، عابدہ یا ملیحہ لودھی کو لیتے۔ جن کے وہاں کے تجربات تھے۔ وہ پاکستان کا وہاں امیج بناتے اپنے تجربات کی بناءپر آپ نے کاروباری شراکت دار کو وہاں لگا دیا۔ جو وہاں آپ کی کاروباری ڈیلیں کرائے گا۔ محترمہ بینظیر جب پی پی پی کو ٹیک اوور کر رہی تھیں۔ انہوں نے بہت سے ”انکلز“ کو چھوڑ دیا تھا۔ جتوئی، رامے، کوثر نیازی، مصطفی کھر وغیرہ ان انکلز کی وجہ سے محترمہ کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب آصف زرداری نے ٹیک اوور کیا تو ایک شخص نے بھی پی پی پی کو نہیں چھوڑا تھا۔ حتیٰ کہ ناہید خان، صفدر عباسی اور اعتزاز احسن کو چیخ چیخ کر کہنا پڑا تو ہم تو پی پی پی کا حصہ ہیں۔ ہمیں کوئی پارٹی سے الگ نہیں کر سکتا۔ آصف زرداری کا ایک خوف ان کی پارٹی پر طاری ہے۔ مافیا اسٹائل کا۔ نان سندھی آسانی سے پارٹی چھوڑ سکتا ہے۔ کیونکہ اس نے اندرون سندھ نہیں جانا۔ فرحت اللہ بابر اپنی اننگ کھیل چکے ہیں۔ رضا ربانی تو پہلے سے نواز شریف کی لائن لئے ہوئے لیکن اس وقت ان کے لائن بدلنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ نمائندہ لندن وجاہد حسین نے کہا ہے کہ افضا الطاف، الطاف حسین کی بیٹی ہے۔ ہم دو سال پہلے یہ خبر دے چکے ہیں کہ الطاف حسین اسے جانشین بنانا چاہتے ہیں۔ ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ اسے جانشین مقرر کیا جائے تاکہ جائیدادیں ان کے نام منتقل ہو جائیں اور پارٹی بھی سنبھال سکیں۔ ان دنوں الطاف حسین پر عمران فاروق اور منی لانڈرنگ کے کیس چل رہے تھے۔





































