لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار رﺅف طاہر نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے تحریک انصاف کی پالیسی بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا اس بارے میں بہت سی چیزیں ابہام میں ہیں۔ایک موقع پر عمران خان نے کہا کہ کسی کو بھی سپورٹ نہیں کریں گے جبکہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پہلے یہ واضح ہو جائے پیپلز پارٹی کا اصل امیدوار کون ہے اس کے بعد ہی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میںہوں گے۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بطور چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا رویہ سب کے سامنے رہا تاثر یہی ہے وہ کوئی اتنی پسندیدہ شخصیت بھی نہیں۔انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کے رفاہی کاموں سے کسی کو انکار نہیں۔کشمیریوں کو حق خودارادیت کا حق ملنا چاہئے۔کشمیری جو کر رہے ہیں یو این او کے چارٹر کے مطابق کر رہے ہیں۔کالم نگار جاوید کوہلوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا عہدہ بڑا عہدہ ہے سینیٹ انتخاب میں انتخاب کم اور سوداگری زیادہ ہوئی۔اب دیکھیں چیئرمین سینیٹ کے لئے کس کو نامزدکیا جاتا ہے۔فرحت اللہ بابر نے عوام کو منتشر کرنے اوور اداروں سے ٹکرانے کی ترغیب دی۔انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کا بھارت میں ہونے والی تحریکوں میں کوئی ہاتھ نہیں۔ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں خواتین پاکستانی معاشرے میں اپنے حقوق سے مستفید ہو رہی ہیں۔تجزیہ کارثروت روبینہ نے کہا کہ سیاست میںکچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی پس پردہ معاہدے کی بات کرنا کافی عجیب ہے کیونکہ دونوں جماعتوں کی سمتیں مختلف ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن میں امیدواروں کی خرودوفروخت ہوتی ہے سینیٹ انتخابات کو ایک منڈی سے تشبیہ دی جا ئے تو غلط نہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ چوہدری سرور کی ہر پارٹی میں عزت ہے۔مسلم لیگ ن کے اقتدار میں علی جہانٰگیر صدیقی جیسے شخص کو امریکی سفیر لگا دینا کوئی اچنبے کی بات نہیںحالانکہ یہ انتہائی غیر سنجیدہ کام کیا گیا ہے۔کشمیر کے تنازعے پر کوئی دو رائے نہیں۔ کشمیری عوام کے جو جذبات پاکستان کےلئے ہیں وہی جذبات پاکستانیوں کے کشمیری عوام کے لئے ہیں۔خواتین ڈے کے حوالے سے انہوں نے کہاسب سے دھندلایا ہوا چہرہ ہمارے ہاں خواتین کا ہے صرف دن منانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے عملی اقدامات کرنا ہوںگے۔ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ خواتین کو جائیداد سے حصہ مرنے کے بعد ملتا ہے۔پاکستانی عورتوں کو باہر سے نہیں گھر کے مردوں سے تشدد کا خطرہ رہتا ہے۔تجزیہ کار و کالم نگارمکرم خان نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ آئینی عہدہ ہوتا ہے جبکہ وزیراعظم کا عہدہ انتظامی ہوتا ہے صدر کے بعد اگر کوئی قائمقام صدر بنے تو وہ چیئرمین سینیٹ ہوتا ہے۔امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ علی جہانگیر صدیقی ابھی عمر کے اس حصے میں نہیں جس میں پختگی آتی ہے نہ ہی ان کے پاس سفارتکاری کا کوئی تجربہ ہے ۔یہ پاکستان کے ایک بڑے میڈیا ہاﺅس کے مالک بھی ہیں۔اس وقت پاک امریکہ تعلقات اس بات کے متقاضی ہیں کسی عمر رسیدہ ، تجربے کار شخص کو امریکہ میں پاکستان کا سفاتکار لگایا جاتا۔کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جماعت الدعوہ پر بھارت جو الزام لگاتا رہتا ہے اس کاکوئی سر پیر نہیں، بھارت زہر فشانی کرتا رہتا ہے۔





































