لاہور (وقائع نگار) کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سی پی این ای و چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیاشاہد نے کہا ہے کہ اخبارات کو ادائیگیوں کے حوالے سے صوبہ پنجاب کی صورتحال دیگر صوبوں کی نسبت بہتر رہی ہے ،اب الیکشن کا وقت ہے اور یہی امتحان ہوگاپنجاب حکومت کے لیے کہ وہ اپنے اداروں کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائیںکہ اشتہارات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔اخبار سب کی سنتا اور سب کی خبر دیتا ہے ،بطور تنظیم ہم آزاد اور شفاف صحافت کے قائل ہیںاور کسی بھی سیاسی جماعت کا آرگن نہیں بنیں گے مگر حکومت کو بھی اپنے اداروں کو ان تین چار ماہ کے عرصے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔انہوں نے واضع کیا کہ تمام اخبارات کو اپنی پالیسی آزادانہ طور پر چلانے کا اختیار ہونا چاہئے۔سی پی این ای کے صدر نے کہا کہ انہیں دوستوں کی جانب سے تیسری دفعہ صدارت کے لیے کہا گیا لیکن میرا موقف بڑا کلیئرہے کہ میں تنظیم میں خوبصورت روایات چھوڑنا چاہتا ہوں اور ویسے بھی مجھ سے زیادہ باصلاحیت بہت سے ٹیلنٹڈ لوگ موجود ہیں وہ آگے آئیں اور اس کام کو سنبھالیں،اس کے باوجودجہاں میری ضرورت ہوگی میں سی پی این ای کے عام رکن کی حیثیت سے حاضر ہوں۔ ہم نے ادائیگیوں اور اشتہارات کی غیر مساویانہ تقسیم کے خلاف جو جنگ شروع کی وہ آئین اور قانون کے مطابق ہے اور آنے والی باڈی بھی اس بارے میں ڈٹ کر رہے، سی پی این ای کی اصل قوت اس کی سٹینڈنگ کمیٹی ہے۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل اعجاز الحق نے کہا کہ گزشتہ نشست میں حکومت پنجاب کی نمائندگی ترجمان حکومت ملک احمد خان اور ڈی جی پی آر نے کی ،جہاں پر مختلف امور پر گفتگو کی گئی اور اخباری صنعت کی مشکلات کے حوالے سے امور زیر بحث رہے۔ ہم فیصلہ سازی میں کسی بھی تنظیم کے شرکت پر معترض نہیں ہیں لیکن یہ بھی واضع کیا کہ ہماری تجاویز پر اختلاف کرنے والی اشتہاری ایجنسیاں تو پی اے اے کی رکن ہی نہیں ہیں۔ رواںبرس کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اعجاز الحق نے بتایا کہ سی پی این ای اسٹینڈنگ کمیٹی کے پانچ باقاعدہ اجلاس ہوئے جن میں سے بیشتر اجلاس اخباری صنعت،مدیروں اور صحافیوں کو درپیش مشکلات کو حکام بالا تک پہنچانے اور موثر حل کے لیے کوششوں پر مبنی تھے۔سی پی این ای کی کاوشوں کی بدولت میڈیا لسٹ سے ہٹائی گئی مطبوعات کو دوبارہ شامل کیا گیا۔سینئر صحافی عارف نظامی نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ اخبارات اور جرائد کو سرکاری اشتہارات کی مد میں حکومت اور اشتہاری ایجنسیوں کی جانب سے بقایا جات کی وصولی نہ ہونے کے باعث شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے ،اس ضمن میں کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز نے انکی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائی اور ان کو حق دلوانے کے لیے سپریم کورٹ تک جاپہنچی ہے۔سینئر کالم نویس و مدیر رحمت علی رازی نے کہا کہ مدیران کی تنظیم کی کاوشوں کی بدولت کے پی کے حکومت نے پریس اینڈ بک رجسٹریشن ایکٹ2013ءمیں آزادی صحافت سے متصادم شقوں میں ترمیم کی یقین دہانی کروائی گئی۔ پنجاب حکومت نے اخبارات کو براہ راست اور بروقت ادائیگی کا طریقہ کار کے لیے قانون سازی کا عندیہ ظاہر کیا۔ بلوچستان نے اشتہارات پر عائد پندرہ فیصد سیلز ٹیکس ختم کیا اور سندھ اور وفاقی حکومت نے بھی بڑی حد تک واجبات کی ادائیگی شروع کردی ہے۔ایاز خان نے کہا کہ جیسے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بار بار کہہ رہے ہیں کہ انہیں انتخابات میں” لیول پلے فیلڈ “ملنا چاہیے ایسا ہی میدان میڈیا کو بھی درکار ہے حکومت کو سب اخباری اداروں کو مساوی طور پر اشتہارات فراہم کرنے چاہیں۔انہوں نے کہا کہ آجکل سیاست میں بات ذاتیات پر آچکی ہے ہمیں سیاست دانوں کی توجہ اس مسئلے کی طرف بھی دلوانی چاہیے۔سینئر ایڈیٹر ارشاد عارف نے کہا کہ ن لیگ کا رویہ حکومت میں کچھ اور اور اپوزیشن میں کچھ اور ہوتا ہے یہ تضاد ہے جس کی طرف توجہ دلوانا ضروری ہے جب یہ حزب اختلاف میں ہوں تو میڈیا فرینڈلی ہوتے ہیں اور جب برسراقتدار ہوں تو من پسند افراد اور اداروں کونوازتے ہیں اور دوسروں سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے ،ن لیگ کو اس رویے کو بدلنا ہوگا۔اجلاس میں انور ساجدی، طاہر فاروق، کاظم خان، عامر محمود، جبار خٹک، عارف بلوچ، وقار یوسف عظیمی، سید انتظار زنجانی، نجم الحسن عارف، عبدالرحمن منگریو، عبدالخلیق علی، معظم فخر، مظفر اعجاز، سید فرزند علی، ممتاز احمدصادق، وقاص طارق، تنویر شوکت، ذوالفقار راحت، اسلم خان، بشیر میمن، طاہر محمود اشرفی، اسلم میاں اور میاں اکبر علی نے بھی شرکت کی۔



































