لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ احسن اقبال پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ امید ہے جیسے انہوں نے کہا بھی تھا وہ عدالت میں پیش ہوں گے۔ انہوں نے بھی بڑے چھکے لگائے، بڑھ چڑھ کر باتیں کی ہیں البتہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ ان کے خلاف اقامہ کا مسئلہ بھی چیلنج ہو رہا ہے۔ سرکاری محکمے بہت نا اہلی کا ثبوت دے رہے ہیں جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ حکومت اپنی کارکردگی بہتر کرلے تو پھر عدالتی نوٹسز سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ خبریں میں چھپا ہے کہ چیف جسٹس نے اب تک کیا کیا کام کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی سے جو بجلی بنتی تھی اس کے 3 برے کارخانے بند ہیں جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ بڑھتی جا رہی ہے۔ شارٹ فال 4 ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے، گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ بڑھتی جائے گی بند کارخانے نہ کھلے تو بہت زیادہ دقت پیش آئے گی۔ خورشید شاہ نے بھی مذاق اڑایا ہے کہ شہباز شریف کا نام ”لوڈ شیڈنگ“ رکھ دیا جائے۔ گرمی کی شدت بڑھنے سے بجلی و پانی کی کھپت بڑھے گی اور ایکسپورٹ کم ہوتی ہوتی اب خوفناک لائن سے نیچے آ چکی ہے۔ برآمدات کم ہونے کا مطلب ہے کہ ہم زرمبادلہ کمانے کے ایک بڑے ذریعے سے محروم ہو گئے ہیں۔ جو تھوڑا زرمبادلہ آ رہا ہے وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وجہ سے ہے جو یہاں اپنے گھر والوں کو پیسے بھیجتے ہیں۔ اس میں بھی آہستہ آہستہ کمی ہوتی جائے گی۔ اس میںبھی آہستہ آہستہ کمی ہوتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دو خبریں آئی ہیں ایک تو یہ کہ برطانیہ نے اپنے قوانین میں تبدیلی کر دی ہے، اب کوئی شخص آف شور کمپنی میں ملکیت کو چھپا نہیں سکے گا۔ دوسری یہ کہ ڈوگر صاحب نے احتساب عدالت کو معلومات فراہم کی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز نے ملکیت کے بارے میں جو کاپی جمع کرائی تھی وہ جعلی نکلی ہے۔ چنانچہ یہ دونوں باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ شاید نواز شریف کی گفتگو میں جو تلخی آ رہی ہے، زوروشور سے جلسے شروع کر دیئے اور یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اگر میں جیل بھی چلا جاﺅں تو میرے پیغام کو آگے لے کر چلنا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خلاف فیصلے آنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کو نااہلی فیصلے پر سپریم کورٹ جانے کا پورا حق حاصل ہے لیکن شاید اتنی معصومیت سے وہ نہیں نکل سکیں گے۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی عابد شیرعلی نے کہا ہے کہ حکومت بنی تو ساڑھے 13 ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار تھی، نواز شریف کی قیادت میں 5 سال میں نئے پاور پلانٹ لگے جن کی پیداوار 3600 میگا واٹ ہے۔ ان پلانٹس کی میعاد 36 مہینے تھی لیکن ہم نے 20 مہینوں میں ان کو آپریشنل بنایا۔ ان کے مختلف ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ پاور پلانٹس میںکوئی مسئلہ نہیں ان کی انشورنس سمیت ایک دو مسئلے ہیں جن کو جلد ہی حل کرلیا جائے گا، 20,15 مئی تک انہیں ٹیسٹ رَن کر کے آپریشنل بنائیں گے، ہم نے سرکلرڈیڈ کو کم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اینٹی ڈی سی کی نئی لائنوں میں ایشو آنے کے باعث بجلی کا حالیہ بحران آیا ہے۔ دو دہائیوں میں مشرف اور پی پی دور میں بجلی کے شعبے میں ایک دھیلے کی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ 5 سال میں ہم نے شارٹ فال پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن نظام کو بھی بہتر کرنا تھا۔ ساہیوال اور جام پور میں 2,2 پاور پلانٹ لگائے ہیں۔ نیلم جہلم قبرستان بن چکا تھا اس کو آپریشنل کیا۔ نندی پور پاور پلانٹ کو آپریشنل کیا اب وہ 525 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں۔ انہوں نے سیالکوٹ میں خوف کا ماحول بنا رکھا تھا۔ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے عیاشی کرتے، یو اے ای کی ایک کمپنی کے ساتھ وفاداری کا حلف و ضمیر فروشی کر رکھی تھی۔ حکمران ایساکرے تو پھر قومی غیرت کا معاملہ بھی آجاتا ہے۔عوام کےلئے 5 سال جدوجہد کی، کامیابی ملی۔ ان کے لئے کروڑوں روپے کچھ نہیں،کروڑوں چھپارکھے تھے اب کہتے ہیں کہ وہ ظاہر نہیں کرسکا۔ بیرون ملک سے تنخواہ اور مراعات لے رہے تھے۔ 80 کی دہائی میں خواجہ آصف کلرک تھے۔ 25 سال میں ارب پتی بن گئے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ عدالت میںبتانا چاہتا ہوں یہ اقامے کی وجہ سے نااہل نہیںہوئے بلکہ اقامہ لینے سے پہلے جو خفیہ معاہدے، بزنس و اکاﺅنٹ کھول رکھے تھے اس کی وجہ سے سزا ہوئی ہے۔ امید ہے سپریم کورٹ سے بھی حق پر مبنی فیصلہ آئے گا، ایک بار پھر 22 کروڑ عوام کی جیت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے جو قوم کا پیسہ لوٹا میرا مسئلہ وہ ہے ان کی شادیاں نہیں۔ اگر انہوں نے دوسری یا تیسری شادی کر کے چھپا رکھی ہے تو بھی ان پر 62 ون ایف لگے گا۔ اس کے بارے ان کی پہلی بیوی ہی بتا سکتی ہیں، مجھے معلوم نہیں۔



































