لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہدکے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نواز شریف نے بڑی دلچسپ بات کی کہ انتظار کریں دھرنوں کے پیچھے کیا راز تھا جلد سامنے آ جائے گا۔ دھرنے کو اتنا وقت گزر گیا اب نون لیگ کے علاوہ کوئی اس کا تذکرہ بھی نہیں کرتا۔ مستقبل کی کوئی بات کریں، ہر بات ساڑھے 3 سال پہلے ہونے والے دھرنوں پر ڈال دی جاتی ہے۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، تیل مہنگا ہونے سے مزید اضافہ ہو گیا، روٹی 10 روپے کی ہو گئی۔ نواز شریف صاحب سارے لوگ مسائل میں مبتلا ہیں، ابھی بھی کوئی گنجائش ہے کہ ہم سارے سر جوڑ کر بیٹھیں اور سوچیںکہ دھرنے کیوں ہوئے تھے، آپ راز افشاں کرنے والے ہیں۔ آپ کے خیال میںبڑامسئلہ مہنگائی، صحت، کیمسٹوں کی ہڑتال، ینگ ڈاکٹرز کے ہنگامے ہیں یا یہ ہے کہ دھرنے کس وجہ سے ہوئے؟ یہ بچگانہ بات ہے۔ نوازشریف یا تو کھل کر بات کریں، یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ ”صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں“ کبھی کہتے ہیںکہ نظر نہ آنے والے چہرے، ان کا جی کرتا ہے کہ کہیں فوج کر رہی ہے لیکن اس کے لئے دلائل و ثبوت چاہئیں جو ان کے پاس نہیں یا پھر کہنا نہیںچاہتے یا پھر مزید ایک اور مقدمہ نہیں کرانا چاہتے۔ گول مول گفتگو کرتے ہیں۔ ماضی میں ان کے حق میں بڑے فیصلے ہوتے رہے ہیں۔ جب نہیں ہوتے تو سپریم کورٹ پر حملہ کروا دیتے ہیں۔ جب بے نظیر کی حکومت کو منسوخ کیا گیا تھا تو وہ سپریم کورٹ گئیں لیکن بات نہیں بنی، پھر اس کیس میں نواز شریف کی حکومت کئی تو اسے سپریم کورٹ نے بحال کر دیا۔ اس وقت بےنظیر کہا کرتی تھیں کہ یہ چمک کا اثر ہے، ان کا اشارہ تھا کہ ججوں نے رشوت کھائی ہے۔ سیاستدان ذہین ہوتے ہیں پکڑ میں نہ آنے کے باعث ایسے گول مول الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ این اے 120 میں کلثوم نواز کے جیتنے کے بعد بھی مریم نواز کہتی رہیں کہ ان کے سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ہمارے لوگوں کو خفیہ چہرے ووٹ نہیں ڈالنے دیتے۔ آج تک گرفتار ہونے والوںکے بارے پتہ نہیں چلا کہ ان کی رہائی ہو گئی یا ابھی بھی کسی جیل میں ہیں۔ نواز شریف بھی فوج پر الزام لگا رہے ہیں، عمران خان کو لاڈلا کہتے ہیں مطلب کہ عدالتوں کا لاڈلہ ہے۔ اگر نواز یا ان کے ساتھیوں کے پاس اس الزام کے ثبوت ہیںتو منظر عام پر لائیں، سپریم کورٹ جائیں۔ عدالت نے جب نواز شریف کو نااہل کیا تو اس فیصلے میں جہانگیر ترین کو بھی نااہل کیا۔ گوشوارے جمع کرتے وقت جن کو نوٹسز ملے ان میں شیخ رشید بھی تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نون لیگ نیب کے بارے جو مرضی کہتی رہے، چیئرمین نیب نے جواب دے دیا ہے کہ نیب کا سورج صرف پنجاب میں نہیں پورے پاکستان میں چمک رہا ہے۔ سندھ میں شرجیل میمن بھی گرفتار ہیں، اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نیب کی کارروائیاں صرف ایک صوبے تک محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے تو جنوبی پنجاب میں انتظامی یونٹس کے قیام پر کہا تھا کہ سوچ رہے ہیں لیکن جاوید علی شاہ کھل کر بات کی کہ اپوزیشن یا جنوبی پنجاب محاذ کو کریڈٹ نہیں لینے دیں گے، جنوبی پنجاب میں صوبوں کا کریڈٹ نون لیگ ہی لے گی۔ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا ہے کہ نواز شریف کی حکمت عملی ہے جس کے تحت وہ بڑے عرصے سے ملک کے دو مقتدر اداروں پرکیچڑ اچھالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نواز کا دھرنوں کے پیچھے کہانی کا اشارہ افواج کی طرف ہے کہ تحریک انصاف نے فوج کے اشارے پر دھرنا دیا تھا، ان کی ہمت نہیں ہو گی کہ یہ حقیقت بیان کر سکیں کیونکہ یہ جھوٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی سیاست کی پرانی روایت ہے کہ جب سیاستدان کو شکست نظر آتی ہے تو ایسے بہانے ڈھونڈتے ہیں کہ میرے پاس ایک راز ہے وقت آنے پر بتاﺅں گا۔ انہوں نے وزیراعظم ہاﺅس میں بیٹھ کر پاک افواج کے خلاف سازش کی تھی جب وہ پکڑی گئی تو ڈان لیکس کی رپورٹ بنائی گئی تھی جو چھپا رکھی ہے۔ نواز شریف انہی حرکتوں و عادتوں سے باز نہیں آتے ہیں۔ ان کو نیب عدالت سے سزا نظر آ رہی ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ قوم کی نظروں میں ہیرو بن کر جیل جائیں۔ جانتا ہوںکہ نون لیگ اندرونی طور پر شدید انتشارکا شکار ہے کئی نون لیگی ایم این ایز و ایم پی ایز تحریک انصاف میں شمولیت کے لئے تیار ہیں، صحیح وقت کا انتظار ہے کہ فوج و عدلیہ نے ابھی تک نواز شریف کے خلاف کوئی چارہ جوئی نہیں کی۔ یہ باقاعدہ عدالت عظمیٰ کی دیانتداری پر حملے کرتے رہے۔ دانیال عزیز کا جو فیصلہ محفوظ ہوا ہے، ان کے مختلف بیانات کی روشنی میں ان کوسزا ضرور ملے گی۔نہال ہاشمی کی طرح یہ بھی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ سابق وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب میں صوبے کے بغیر وسائل نہیں آ سکتے۔ انتظامی طور پر افسروںکی تقرری سے صرف سرخ فیتے کی لمبائی بڑھے گی، آنا پھر بھی لاہور ہی پڑے گا۔ اس سے مسئلہ حل نہیں بلکہ مزید گھمبیر ہو جائے گا، اس خطے کے لوگوںکی محرومی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت الیکشن سے پہلے انتظامی یونٹس بناکر ایک اور دھوکہ دے رہی ہے۔ اگر یہ چاہیں تو 3 دن میںصوبہ بنا سکتے ہیں۔ افسروںکی تعداد بڑھا کر وہاں کے غلام رکھے جانے والوں کو مزید غلام بنانے کا راستہ کھول رہے ہیں۔



































