تازہ تر ین

عالمی بنک کا وعدہ ،پانی کے لیے بھارت سے پر زور بات کریں گے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید جاوید علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی واٹر پالیسی چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے تیار ہوئی اس پر تمام صوبوں کے وزراءاعلیٰ کے دستخط ہیں اور مشترکہ مفادات کونسل نے بھی اس کی منظوری دی ہے۔ پاکستان کے آبی وسائل بڑھانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے۔ گزشتہ دنوں ورلڈ بینک کا ایک وفد پاکستان آیا تھا جس کے سامنے ہم نے اپنا موقف بھرپور طریقے سے رکھا کہ بھارت پانی کے دریاﺅں کا سارا پانی بند نہیں رکھ سکتا جس کے جواب میں وفد نے جو پاکستان کے بعد بھارت کے دورے پر جا ررہا تھا نے یقین دلایا تھا کہ بھارت پر زور دے گا کہ وہ بین لاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنا پانی کا مسئلہ حل کرے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے چینل ۵ کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں کہنہ مشق صحافی اور معروف تجزیہ کار ضیا شاہد کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ ان کی گفتگو سوالاً جواباً پیش خدمت ہے۔
سوال: سپریم کورٹ نے کالا باغ ڈیم کے بارے میں ایک رٹ کے جواب میں حکومت سے استفسار کیا ہے کہ آپ کی واٹرپالیسی کیا ہیں۔ واٹر پالیسی پر جواب دیں۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے آپ بار بار یہ کہہ چکے ہیںکہ آپ کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد بھی منظور کی تھی اس کے باوجود آپ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں ہیں اب آپ سے سپریم کورٹ نے جو جواب مانگا ہے آپ اس سلسلے میں کیا فرمائیں گے۔ اور ہماری واٹر پالیسی کیا کہتی ہے جو منظور کی ہے،کیا اس میں نئے آبی ذخائرکے قیام کا ذکر موجود ہے۔
جواب: سب سے پہلے تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں یہ پہلی نیشنل واٹر پالیسی ہے جو ہم نے لانچ کی ہے۔ اور اس کو لانچ کرنے سے پہلے ہم نے کونسل آف کامن انٹرسٹ (سی سی آئی) میں منظور کرائی ہے چاروں چیف منسٹرز نے اس پر چارٹر کی صورت میں دستخط کئے ہیں تا کہ کل کوئی پھر یہ ناکہہ سکے کہ اس کی فلاں شک پر ہمیں کوئی اعتراض تھا یہ پورے اتفاق رائے سے ان کے جو خدشات تھے وہ دور کرنے کے بعد اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان کی موجودگی میں چاروں وزراءاعلیٰ نے دستخط کئے جس کو ہم چارٹر کہہ رہے ہیں واٹر پالیسی کا۔ ہم نے پھر اس کو لانچ کیا کابینہ نے اس کو منظور کر دیا یہ اپنی پوری شکل میں آ چکی ہے۔ آج بھی اس پر وزیراعظم صاحب سے ایک میٹنگ ہوئی جس میں پہلی چیز ہی یہی ہے کہ آبی ذخائر قائم کرنے ہیں جس پانی کی سمندر میں ضرورت ہے اس سے تین گنا زیادہ جا رہا ہے وہ ضائع جاتا ہے ۔ پچھلے دنوں جو کمی ہوئی ہے اس سے ون ایف ایکٹرملین پانی بھی ہمارے پاس ہوتا تو یہ کمی نہ ہوتی کیونکہ اس سے کہیں زیادہ سمندر کی نذرہو جاتا ہے جو ضائع ہو جاتا ہے۔ آپ واٹر پالیسی کی تفصیل پڑھیں یہ آ چکی ہے اس میں آپ دیکھیں گے کہ کوئی ایسا ایشو نہیں جو ہم نے ٹچ نہ کیا ہو یہ کہ پانی بچانا کس طرح ہے ڈیم میںکیسے کرنا ہے پانی کی تقسیم کیسے ہونی ہے ہم نے ریسرچ کیسے کرنی ہے واٹر کی ٹریٹمنٹ کیسے ہونی ہے کوئی ایسا ایشو نہیںہے جس کا تعلق پانی سے ہو اور اس میں ہم نے لائے ہوں میں سمجھتا ہوں کہ آج اگر سپریم کورٹ نے پوچھا ہے تو خدا کا شکر ہے کہ بروقت یہ واٹر پالیسی دے چکے ہیں اور یہ پاکستان کی پہلی نیشنل واٹر پالیسی ہے کہ ہمارے ہمسایہ ممالک انڈیا اور بنگلہ دیش میں بھی یہ پالیسیاں کئی دفعہ آ چکی ہیںاور وہاں ہر دس سال بعد ریوائز بھی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ابھی بنی نہیں تھی یہاں ہمیشہ تساہل کا شکار ہو جاتی ہے یا حکومتیں دوسرے مسئلوں کا شکار ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے جو میجر ایشوز یا اصل کام ہیں وہ کرنے کا موقع ہی کم ملتا ہے اگر ہم گہرائی میںجائیں تو یہ ساری چیزیں اس وقت ہوئی ہیں۔
سوال: جاوید علی شاہ صاحب خوشی کی بات ہے اور آپ مبارکباد کے بھی مستحق ہیں کہ لیکن اس سوال کا جواب دیجئے کہ واٹر پالیسی ایک جنرل براڈ لائنز پر مرتب کی جاتی ہے اچھی بات ہے کہ صوبے اس پر متفق ہیں لیکن یہ فرمایئے کہ جب بھی بات کی جاتی ہے کہ بڑے آبی ذخائر ہونے چاہئیں کوئی اس سے انکار نہیں کرتا پچھلے 15,12 سال سے ہم یہی سن رہے ہیں کہ دیامیر میں بھاشا ڈیم بنے گا اس پر لوگوں کا اتفاق ہے لیکن جونہی کالا باغ ڈیم کا ذکر ہوتا ہے فوراً یہ کہا جاتا ہے کہ اس پر کے پی کے کو بھی اعتراض ہے اس پر سندھ کو بھی اعتراض ہے۔ اصل مسئلہ تو ان دونوں صوبوں کے اعتراضات کے ختم کرنے اور متفقہ فارمولا تیار کرنے کا ہے صرف واٹر پالیسی لیول پر ایک مشترکہ مسودہ تیار کرنا اچھی بات ہے لیکن اس کا عملاً کوئی فائدہ نہیں ہو گا جب تک بڑا یعنی ڈسپورٹ اصل تنازع کالا باغ کی تعمیر کا ہے اس پر اتفاق رائے نہیں ہو رہا۔آپ آبی وسائل کے ہی وزیر ہیں آپ کے ذہن اس اتفاق رائے کے حوالے سے لائحہ عمل ہے اور خاص طور اس لئے کہ عام انتخابات آنے والے ہیں آپ کے پاس کتنے دن ہیں اس مختصر وقت میں کیا کوئی پیشرفت اس سمیت میں ہو سکتی ہے ۔
جواب: ضیاشاہد صاحب!نیت درست ہو تو کیوں پیشرفت نہیں ہو سکتی۔ میں نے اس حد تک آفر کی ہے کہ اگر سندھ کو یہ خدشہ ہے کہ کالاباغ کے بننے سے ان کے پانی میں کمی آ جائے گی تو ہم صوبوں کے درمیان ایک اور ٹریٹی سائن کرتے ہیں جس سے ہم کالا باغ ڈیم کا سارا کنٹرول سندھ کو دینے کو تیار ہیں کہ وہ پہلے اپنا پانی پورا کرے اور اگر بچے تو پنجاب اور دوسرے صوبوں کو دے ورنہ نہ دے۔ ہم کالا باغ ڈیم کا پورا اختیار ان کے سپرد کرنے کو تیار ہیں اور اس طرح ہم نے کے پی کے کو کہا ہے کہ اگر آپ کو خدشہ ہے کہ نوشہرہ ڈوب جائے گا تو نوشہرہ سے پہلے مہمند ڈیم بنانے کے لیے تیار ہیں تاکہ اس ڈیم کا پانی کنٹرولڈ ہو گا تو نوشہرہ کو کسی فکرکی ضرورت نہیں ۔ نہ ہی اتنا پانی ڈیموں سے باہر ہو گا کہ نوشہرہ ڈوب جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوشہرہ ڈوبنے والی بات صریحاً غلط ہے مگر کوئی خدشہ اگر ہے بھی سہی تو مہمند ڈیم بننے سے کے پی کے کا خدشہ ختم ہو گا اور کالاباغ ڈیم کا کنٹرولر سندھ کو دینے سے ان کا خدشہ ختم ہو سکتا ہے۔ مگر بات نیتوں کی ہے کہ اگر اتفاق رائے نہیں ہوتا تو ہم اسے بلڈوز نہیں کرنا چاہتے کیونکہ پنجاب زیر عتاب رہتا ہے ہم نہیں چاہتے کہ کوئی کہے کہ اتفاق رائے کے بغیر کام کیا ہے۔ ہم نے اسمبلی کے فیصلہ اور میڈیا کے ذریعے آفر کی ہے۔ مگر سمجھ نہیں آتی کہ وہ اس پر مل بیٹھ کر بات کرنے کےلئے تیار نہیں۔ کالا باغ کا نام سننے کے لیے تیار نہیں۔ محض اس بات کا ذکر کرنے سے کہ ا تفاق رائے کے بغیر ہم کرنا نہیں چاہتے وہ میرے خلاف قراردادیں پاس کر دیتے ہیں۔ یا حکومت کو الزام دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر نیک نیتی سے پاکستانی سوچ کے تحت یہ کیا جائے تو ڈیم بن سکتا ہے اور یہ بنایا جانا ضروری ہے بلکہ میں آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ پچھلے دنوں ایک میٹنگ میں بیٹھ کر چارٹر سائن کرنے کی بات کی تو میرے لیے یہ چیز انتہائی حیران کن تھی کہ چیف منسٹر سندھ نے کہا کہ میں اس پر دستخط اس وقت کرنے کو تیار ہوں گا جب پالیسی میں لکھا جائے کہ آئندہ پاکستان میں کوئی ڈیم نہیں بنے گا یہ میرے لیے بڑی تکلیف دہ بات تھی کہ کوئی ڈیم بھی وہ بنانے کیلئے تیار نہیں۔ وہ لکھوانا چاہتے تھے جس پر ا نہیں سمجھایا گیا کہ واٹر پالیسی ایک مختلف ڈاکومنٹ ہے اس میں ڈیموں کے نہ بننے کا تذکرہ تو نہیں بننے کا تذکرہ ہونا چاہیے تاکہ ہم اپنے ریزروائز قائم کریں۔ انڈیا ہمارے دریاﺅں پر ریزروائز قائم کرتا ہے وہ ہم برداشت کر جاتے ہیں مگر ہم ا یک دوسرے کو اللہ جانے برداشت کرنے کےلئے کیوں تیار نہیں۔
سوال: میں پچھلے کئی برس سے ستلج میں اور راوی میں جو مکمل بندش ہے اور سارا سال پانی نہیں ہوتا اور اس کا حل رابطہ نہروں کے ذریعے تجویز کیا گیا ہے لیکن اس کے ذریعے دریا کا بیٹ(جس کو پیٹ کہتے ہیں) وہ پورے طریقے سے پانی سے کبھی نہیں بھرتا لنک کینال جاتی ہے اور ایک ڈیم سے پہلے دریا میں پانی چھوڑتی ہے اور وہیں بند باندھ کر کسی نہ کسی نہر میں دوسری طرف ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔ میں نے خود جناب شاہد خاقان عباسی کو عرض کیا ،کتاب پیش کی، رپورٹ پیش، خط پیش کیا۔ کچھ ڈاکومنٹس پیش کیے اور ان سے گزارش کی کہ جناب 7 سال سے میں نے آپ سے بھی کہا جب آبی وسائل کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے آپ کوسی پی این ای کے سیمینار میں آواری ہوٹل لاہور میں بلایا تھا۔ آپ نے بڑی اچھی باتیں کیں میں نے عرض کیا کہ پچھلے 7برس سے انڈس بیسن یعنی جو سندھ طاس کا کمشنر ہے لاہور کا خواہ اس کا کوئی بھی نام ہو وہ 7سال سے ہر سال یہ ایک یادداشت بنا کر بھیجتا ہے کہ جناب ہمیں ریسرچ کے لیے اتنے پیسے دئیے جائیں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پہلے ہم نے تحقیق کر کے پھر ہم نے سندھ طاس کے انڈین کمشنر سے بات کرنی ہے کہ جناب وہ ان دریاﺅں کو سوفیصد خشک نہیں کر سکتے۔ 1960ءمیں جو آبی معاہدہ ہوا تھا جس میں ستلج اور راوی کا پانی انڈیا کے حصے میں آیا تھا (زرعی پانی) لیکن نمبر1زرعی پانی ان کے حصے میں آیا تھا مکمل پانی یعنی ماحولیات کا پانی آبی حیات کا پانی اور مچھلیاں وغیرہ تھیں ان کا پانی اور دریاﺅں کے کنارے جو سبزہ ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ماحول صاف رہتا ہے وہ پانی ان کے حصے میں نہیں آیا تھا جناب لیکن1970میں دنیا میں ایک بہت بڑا انقلاب آیا، انٹرنیشنل واٹر کنونشن تھا جس کو من و عن اپنا لیا گیا یو این او کی طرف سے اور اب یہ تمام ممالک میں نافذ العمل ہے۔ میری درخواست ہے کہ براہ کرم آپ کوشش کریں کہ مجھے شاہد خاقان عباسی صاحب نے کہا کہ ہمارا کیس ورلڈ بینک کے پاس ہے اور ورلڈ بنک 7سال سے ہمیں اجازت نہیں دے رہا کہ جناب میں نے بہت سٹڈی کی ہے ماہرین سے مشورہ کیا ہے ورلڈ بنک گارنٹر تھا اس کے ذریعے ریفر ہوتا ہے کیس، ورلڈ بنک کوئی عدالت نہیں کہ وہ ہمارا کیس روک سکے۔ نمبر1ایک ہمیں اس سے ریفر کروائے بین الاقوامی مصالحتی عدالت میں جانا چاہیے اور ہمیں یہ کیس دائر کرنا چاہیے کہ معاہدہ زرعی پانی کا تھا۔ زرعی پانی ستلج اور بیاس کا انڈیا کے حصے میں آیا تھا۔ جناب پینے کا پانی، ماحولیات کا پانی، آبی حیات کا پانی مکمل طور پر نہیں بند کیا جاسکتا۔ دنیا میں خاص طور پر افریقہ میں، امریکہ میں یورپ میں بھی دریائے ڈینیوب ہے، امریکہ میں مس سپی ہے اور افریقہ میں بہت سے دریا ہیں جن میں اپر حصے کے ممالک زیریں حصے کے ممالک کو سوفیصدپانی نہیں بند کر سکتے۔ اس کا پراسیس یہ ہے کہ پہلے تحقیق کی جائے پھر انڈس واٹر کمیشن کے جو انڈیا کا کمشنر ہے اس سے بات چیت کریں گے۔ یہ معاہدے میں لکھا ہوا ہے۔ اگر وہاں سے انکار ہو جائے تو ہم ورلڈ بنک جا سکتے ہیں وہاں سے ریفر کروا کر بین الاقوامی مصالحتی عدالت میںجائیں گے۔ آپ اپنے اختیارات استعمال کریں۔
جواب: آپ نے جتنا اس کیس کو سٹڈی کیا ہوا ہے میرے خیال میں اس سے بہتر کوئی ہینڈل کر سکتا ہے نہ کر سکا۔ پچھلے ماہ ورلڈ بنک کا وفد آیا ہوا تھا ہم نے بڑے پرزور طریقے سے انہیں کہا کہ آپ گارنٹر ہونے کی حیثیت سے مداخلت کریں اور بھارت کو اس بات پر مجبور کریں کیونکہ انڈیا اکثر معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ کسی معاہدے کا احساس نہیں کرتا۔ ورلڈ بنک کے لوگوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے دورے کے بعد انڈیا جاتے رہے ہیں ان سے پرزور طریقے سے یہ بات کریں گے کہ جو چیزیں معاہدے کے تحت طے ہوئی تھیں جس میں ماحولیات کے حوالے سے نباتات، حیوانات کے لیے یا درختوں کے لیے پانی دینا ضروری ہے وہ ان دریاﺅں کو دیا جائے تاکہ نباتات اور حیوانات زندہ رہ سکیں۔

 

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain