لاہور (وقائع نگار) وزیر آبی وسائل جاوید علی شاہ کی چینل فائیو کے پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں گفتگو کے حوالے سے سابق کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی مرزا آصف سعید بیگ نے کہا کہ اگر عالمی بنک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ماحولیات کے لیے پانی کے بارے تصفیہ کروانے کا کہا ہے تو یہ مثبت بات ہوگی۔ یہ اچھی تجویز ہے کہ پنجاب کے پانی پر سندھ کے اعتراضات پر انہیں کے انجینئرز کو کالا باغ ڈیم میں تعینات کر دیا جائے مگر یہ ارسا کی اتھارٹی کے تحت ہونا چاہیے کیونکہ 1991میں ہونے والے بین الصوبائی معاہدے میں پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی گئی ہے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ یہ متنازعہ نہ ہو جو چھوٹے چھوٹے اعتراضات ہیں وہ بھی بات چیت سے ممکن ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پانی کی کمی کا سامنا ہے بلکہ ہم نے تو بطور ملک اپنا گراﺅنڈ واٹر بھی استعمال کرلیا ہے اور اگر ہم فوری آبی ذخیروں کی جانب نہ گئے تو یہ بالکل ختم ہوتا جائے گا، یہ تباہی کا نسخہ ہے کہ فالتو پانی کو سمندر کے حوالے کر دیا جائے کیونکہ جو ضروری ہے اس سے تین گنا پانی ضائع کیا جا رہا ہے۔ ہماری آبادی بڑھ رہی ہے اسی کے اعتبار سے خوراک کی ضروریات بڑھ رہی ہیں ملک میں جوں جوں خوشحالی بڑھے گی پانی کی ضرورت مزید بڑھتی جائے گی، یہ ناقدری ہے جو ہم کررہے ہیں۔ سندھ اور کے پی کے کو اپنے بھائی پنجاب پر اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے اور عدم اعتماد نہ بڑھائیں کہ شاید کسی نے ان کا پانی کسی نے لے لیا کیونکہ کوئی ایک ایسا واقعہ نہیں جس سے ثابت ہو کہ کبھی ایسا ہوا ہوگا، پنجاب نے آج تک کبھی ایک بوند زائد کسی صوبے سے وصول نہیں کی ہے۔ اس عدم اعتماد کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ سندھ، بلوچستان اور کے پی کے جو پانی نہروں میں چھوڑا جاتا ہے اس کا کنٹرول بھی ارسا کے حوالے کردیا جائے جو اس پر چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بنائےگی۔ ملک سے پانی کے خاتمے کے حوالے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ سب سے بڑی زیادتی ہوگی کہ ہم بیٹھ کر تباہی کا انتظار کریں کہ پانی کی کمی ہماری نسلوں کو ختم کرے یا یہاں بھی جنوبی افریقہ جیسی صورتحال پیدا ہو۔ سب کو معلوم ہے کہ ملک میں بڑی تعداد میں غریب افراد بستے ہیں اور ہماری ستر فیصد سے زائد آبادی غزائیت کی کمی کا شکار ہے ہمارے بچے مکمل طور پر نشوونما نہیں کرسکتے ہیں آپ خود اندازہ لگائیں کہ جو قوم خوراک کی کمی کا شکار ہوگی اس کی کام کرنے کی صلاحیت کتنی رہ جائے گی۔ انہوں نے خبریں اور اس کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی کوششوں سے ایک بہت بڑا مسئلہ زندہ ہو گیا ہے جو پاکستان کے لئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ضیاشاہد نے اس ایشو پر بڑی محنت کی ہے۔ قوانین کا گہرائی میں جا کر مطالعہ کیا اور اعداد و شمار بھی اکٹھے کیے جو انتہائی مفید ثابت ہونگے۔ درحقیقت وہ اس معاملے میں جہاد کر رہے ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کو تباہی سے بچایا جائے۔



































