لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ اسحاق ڈار کو عدالت میں پیش ہونا چاہئے، ایسے ہتھکنڈے استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ لندن سے خبریں آتی ہیں کہ اسحاق ڈار کو وہاں بعض اوقات مہنگے شاپنگ ہال پر خریداری کرتے دیکھا گیا ہے، سیاسی تقاریب میں بھی شریک ہوتے ہیں بظاہر ان کو کوئی بڑی تکلیف نظر نہیں ااتی۔ لگتا ہے نون لیگ کے اراکین نے یہ طے کر رکھا ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں کو نہیں مانتا اور عوام کی عدالت میں جانا ہے۔ ان کی قیادت عجیب و غریب دلیل پیش کرتی ہے کہ لوگوں نے ووٹ دیا تھا لہٰذا ججز ایکشن نہیں لے سکتے۔ اسحاق ڈار کو چاہئے کہ ایک بار آ کر عدالت میں پیش ہو جائیں اور پھر آئندہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دے دیں تو معاملات اتنے خراب نہیں ہوں گے۔ عدالتوں کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محرومی کی بنیاد پر کسی علاقے سے ”پریشر گروپ“ سامنے آئے ہیں، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بھی یہی گروپ تھا۔ نواز، شہباز نے بڑےے اعلانات کئے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ یوسف رضا گیلانی نے بھی اپنے دور میں کوشش کی تھی۔ پیپلزپارٹی نون لیگ کے ساتھ 18 ویں ترمیم کی طرح اشتراک عمل کر لیتی تو آسانی سے آئین میں ترمیم ہو کر جنوبی پنجاب صوبہ یا صوبے بن سکتے تھے۔ دونوں جماعتوں نے اس میں دلچسپی نہیں لی۔ اب عمران خان نے بہت بڑا چھکا لگایا ہے، جنوبی پنجاب محاذ کے اراکین کی شمولیت کا فیصلہ تحریک انصاف کی بڑی کامیابی ہے۔ اس سے بہاولپور و ملتان سے بڑی زبردست حمایت ملے گی۔ نون لیگ کی پالیسیوں سے دلبرداشتہ ہو کر پہلے ہی جنوبی پنجاب سے کچھ ارکان قومی اسمبلی سے استعفے دے چکے تھے، باقی ناراض تھے۔ سینئر سیاستدان ذوالفقار علی کھوسہ اور ان کے صاحبزادے دوست محمد کھوسہ بھی ناراض ارکان میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران خود شہباز شریف نے مجھ سے پوچھنے پر کہا تھا کہ بہاولپور و ملتان کو انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے سوچچ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر جاوید علی شاہ میرے پروگرام میں تفصیلی انٹرویو میں کہا تھا کہ 20 مئی سے پہلے انتظامی یونٹس کا فیصلہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف پر بڑااٹیک آیا ہے، چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نے ایک بڑی رقم بھارت بھیجی غالباً منی لانڈرنگ کی گئی۔ سٹیٹ بینک نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ قانونی طور پر رقم انڈین حکومت کو نہیں دی گئی لیکن جس کو بھی یہ پیسے دیئے گئے منی لانڈرنگ تھی یا کسی کاروبار کے لئے تھے اس کا جواب دیں۔ نوازشریف پر بڑا خوفناک الزام ہے، منتظر ہیں کہ وہ خود یا ان کے ترجمان اس کا جواب دیں۔ اس الزام سے خوفناک فضا پیدا ہوئی ہے۔ جب یہ بھارتی وزیراعظم کی حلف برداری تقریب میں شریک ہوئے تھے تو اس وقت ان کے صاحبزادے بھی ساتھ گئے تھے۔ ان کے مخالفین پہلے ہی کہتے رہے ہیں کہ سابق وزیراعظم کے بچوں کی بھارت میں بڑی سرمایہ کاری ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی سے محاذ بننے سے پہلے سے بات چیت جاری تھی۔ خوشی ہے کہ اب انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہماری سیاسی جدوجہد میں شریک ہوں گے۔ نون لیگ نے 10 سال جنوبی پنجاب کو نظر انداز کیا، سارے ترقیاتی فنڈ لاہور میں خرچ ہوئے۔ جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں میں حساس محرومی پیدا ہوا اور شہباز شریف تک رسائی بھی نہیں مل سکی۔ پھر انہوں نے دوسری طرف دیکھنا شروع کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے اعلان کر دیا ہے، حکومت میں آ کر جنوبی پنجاب کو علیحدہ انتظامی یونٹ بنائیں گے۔ شہباز شریف نے اگر جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز خرچ کئے ہیں تو نظر کیوں نہیں آئے۔ اقتدار ملا تو جنوبی پنجاب کے عوام و نمائندوں سے مشاورت کر کے انتظامی یونٹ یا صوبے بنانے کا فیصلہ کریں گے۔ نظام ایسا ہونا چاہئے جس سے وہاں کے لوگوں کے مسائل تیزی سے حل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کا بہت جلد کے پی کے میں انضمام ہونے والا ہے۔ اگر ہزارہ کو علیحدہ انتظامی یونٹ بنانا تھا تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن ایسے میں علاقائی سطح پر ترقیاتی و فلاح و بہبود کے کام روک لئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام و نمائندوں سے مشاورت اور ان کی رائے کے بغیر وہاں کے مسائل کے حل کے لئے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ سینئر سیاستدان ذوالفقار علی کھوسہ نے کہا ہے کہ 2010ءمیں کابینہ اجلاس میں نون لیگ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے وعدے کی تکمیل میں تو وقت لگے گا البتہ ابھی وہاں ایڈیشنل چیف سیکرٹری، آئی جی اور ہر بڑے سیکرٹری کا ایڈیشنل سیکرٹری بیٹھے گا۔ عمل صرف اتنا ہوا کہ 2 یا 3 سیکرٹریز کو بھیجا گیا تھا۔ چند دنوں بعد وہ بھی واپس چلے گئے۔ معاملہ کولڈ سٹیوریج میں پڑا رہا۔ اس وقت شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کر کے بھیج دی مگر مرکزی حکومت نہیں کر رہی۔ مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں تھی۔ 2013ءسے تو مرکز میں بھی نون لیگ ہے، 5 سال میں صوبہ کیوں نہیں بنا؟ انتظامی یونٹس صرف کاری ہے، نون لیگ نے کبھی اراددہ ہی نہیں کیا تھا کہ اپنی طاقت کم کریں گے اور الگ صوبہ بنائیں گے۔ شہباز شریف بڑا پٹواری بنا ہوا ہے وہ صوبے کو کم نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے ارکان پہلے میرے پاس تشریف لائے تھے لیکن اس وقت پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ ہو سکتا ہے کہ اب ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی ہو، ان کی جماعت میں شامل ہو گئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ ہونا چاہئے، بہاولپور کا مطالبہ اب سامنے آیا ہے کہ اگر یہ سٹیٹ ہوتی تو آج یہاں نواز ہوتے۔ جب بہاولپور الگ صوبے کا مطالبہ کر دیا گیا تو اس وقت بھی کہا تھا کہ اس سے جنوبی پنجاب صوبہ کے کاز کو تقویت نہیں ملے گی بلکہ حکمران اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ دونوں مطالبات میں تضاد سے معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ اب بھی کہتا ہوں کہ 3 ڈویژنوں کے 11 ضلعوں کو ایک صوبہ ہونا چاہئے، 4 سوا 4 کروڑ آبادی بن جاتی ہے۔ بہاولپور 3 ضلعوں پر مشتمل، معلوم نہیں یہ صوبہ کیسے سود مند ہو گا؟ شہباز شریف کی خواہش ضرور ہو گی کہ وہاں سیکرٹریز بیٹھیں جو ان کے کنٹرول میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ فنڈز خرچ کرنے کے بیان سے متفق نہیں ہوں، ان کی غلط بیانی کو سختی سے چیلنج کرتا ہوں۔ لاہور میں 242 ارب روپے اورنج ٹرین کے ایک منصوبے پر لگا دیئے، جنوبی پنجاب میں 10 سال میں غالباً 50، 60 ارب روپے خرچ کئے گئے ہوں گے۔ ملتان کے شہریوں نے میٹرو بس کی مخالفت کی تھی، وہاں خالی بسیں گھومتی ہیں۔ ان کا مسئلہ یہ نہیں تھا وہ پینے کا صاف پانی اور نکاسی آب کا درست نظام چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے جو محرومی ہے اس میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ یوسف رضا گیلانی نے بجلی و گیس دی ہو گی لیکن آج بھی دیہاتوں میں پینے کا صاف پانی موجود نہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔



































