اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے)نے اصغر خان کیس میںسابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کو پوچھ گچھ کے لیے دوبارہ بلانے کا فیصلہ کرلیا۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع ایف آئی اے نے بتایا کہ اسلم بیگ اور اسد درانی سے 1990کے انتخابات میں نواز شریف سمیت 35سیاستدانوں اور صحافیوں کو ادا کی گئی رقم سے متعلق ثبوت مانگے جائیں گے۔ذرائع ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ فیصلے پر عملدرآمد کے لیے نئی کمیٹی تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اس اقدام سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کو بھی مدنظر رکھے گی۔یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کی سماعت کے دوران اسلم بیگ اور اسد درانی کی نظرثانی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمدر سے متعلق ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ڈی جی ایف آئی اے بتائیں کہ انہوں نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کیا اقدامات کیے۔1990 میں اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل اور انتخابات میں دھاندلی کے لیے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق ایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان مرحوم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔سپریم کورٹ نے 2012 میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ(ن)کے قائد میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم اور 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درنی پر عائد کی تھی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا۔مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی نظرثانی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے گزشتہ روز مسترد کیا گیا۔



































