لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ میں عدلیہ مخالف نعرے بازی کیس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ ن کے ایم این اے شیخ وسیم اور ایم پی اے نعیم صفدر سمیت 6 ملزموں پر فرد جرم عائد کر دی گئی، ارکان اسمبلی نے صحت جرم سے انکار کر دیا، تمام ملزممان کو جواب دینے کیلئے 7 روزکی مہلت دے دی۔جمعہ کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ نے قصور عدلیہ مخالف احتجاج کرنے والے ارکان اسمبلی سمیت دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ فل بنچ نے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی شیخ وسیم اور رکن پنجاب اسمبلی نعیم صفدر انصاری سمیت 6 افراد پر قصور میں ریلی کے دوران عدلیہ مخالف تقاریر کرنے کے مقدمہ میں فرد جرم عائد کر دی۔ ارکان اسمبلی نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے مقدمہ لڑ نے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ عدالت نے استغاثہ سے آئندہ جمعہ کے روز ملزمان کے خلاف شہادتیں طلب کر لی ہیں جبکہ فرد جرم عائد ہونے سے قبل ملزمان نے جو معافی نامے عدالت میں جمع کروائے تھے وہ معافی نامے بھی واپس لے لیے ہیں۔ مقامی لیگی رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ پہلے بھی عدلیہ کا احترام کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں، غیر دانستہ طور پر جرم سرزد ہوا۔ فل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا لیڈر بھی سارا دن یہی کام کرتا ہے۔ تین ملزموں کے وکلا کی جانب سے غیر مشروط معافی کی استدعا کی گئی جس پر فل بنچ نے قرار دیا یہ کورٹ آف لا ہے یہاں کسی کے خلاف فیصلہ نہیں ہوگا، قانون کی حکمرانی ہوگی۔ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ارکان اسمبلی کیخلاف توہین عدالت کی مزید کارروائی 18 مئی تک ملتوی کر دی۔



































