لاہور (ملک مبارک سے) محکمہ آبپاشی کے شعبہ پروجیکٹ منجمنٹ یونٹ کرپشن کی آمجگاہ بن گیا ۔وارلڈبنک کی طرف سے اربوں روپے قرضے سے ایل بی ڈی سی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر خالد قریشی نے پروجیکٹ کےلئے خریدی گئیں کروڑوں روپے کی 15ویگوو دیگر لگژری گاڑیاں پروجیکٹ ختم ہوتے ہی اپنوں میں بانٹ دیں۔سفارشی طور پر تعینات ہونے والے پروجیکٹ ڈائریکٹر کی نااہل اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہیڈ بلوکی سے لنک کینال میں 1000کیوسک پانی میں اضافے کےلئے 22ارب روپے لگائے جانے کے باوجود منصوبہ پانی کا مطلوبہ ہدف پورا نہ کرسکا ۔بیرونی اربوں روپے سے نیا پروجیکٹ شروع ہونے والا ہے جس کےلئے دوبارہ پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات ہونے کےلئے خالد قریشی نے بھاگ دوڑ شروع کردی ہے نیب احکام اتنی بڑی بے ضبطگیوں بارے نوٹس لیں عوام کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق محکمہ آبپاشی میں کرپشن کا جن قابو نہ ہوسکا پاکستانی عوام کی بھلائی کےلئے نہری نظام کو بہتر کر نے کےلئے وارلڈ بنک بھاری بھرکم قرضے فراہم کرتا ہے آبپاشی کا زیلی شعبے پروجیکٹ منیجمنٹ یونٹ اور پی ایم او اس کو دیکھتے ہیں اس شعبہ میں کنٹریکٹ پر آفسران کو تعینات کیا جاتا ہے ۔ایل بی ڈی سی کا ہیڈ چند سال قبل خالد قریشی کو بنا گیا جب وہ لاہور زون کا چیف انجینئر تھا ریٹائرمنٹ سے دو دن پہلے سابق سیکرٹری آبپاشی سیف انجم نے سفارشی طور پر اس کو اس شعبہ میں پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کردیا خالد قریشی نے اپنے چیف انجینئر کی تعیناتی کے وران بھی لاہور زون کا بیڑہ غرق کیا پھر یہاں بھی وہی روش رہی ۔ذرائع کے مطابق ایل بی ڈی سی پروجیکٹ کےلئے کروڑوں روپے کی تقریبا 15لگژری گاڑیاں خریدیں گئیں جن کی منٹینس اور پٹرول پر بھی کڑوڑوں روپے خرچ ہوئے یہ پروجیکٹ تقریبا تین ماہ سے ختم ہوچکا ہے موصوف پروجیکٹ ڈائریکٹر نے اس پروجیکٹ کی قیمتی لگژری گاڑیایوں کی بندر بانٹ کردی ہے جب کہ یہ قیمتی گاڑیاں دوسرے شعبوں میں استعمال میں لائی جاسکتی ہیں جب کہ محکمہ آبپاشی میں گاڑیوں کی کمی ہے لیکن موصوف نے یہ گاڑیاں مفت مال دل بے رحم سمجھ کر اپنے دوستوں میں بندر بانٹ کردی ذرائع کے مطابق یہ قیمتی گاڑیاں غائب ہوگئی ہیں اب بھی یہ پرائیویٹ اشخاص کے زیر استعمال ہیں جن کو پٹرول اور مینٹننس متعلقہ شعبہ دے رہا ہے ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے بیرونی ملک سے جلال پور کینال پروجیکٹ کےلئے معاہدہ فاینل ہوگیا ہے اربوں روپے کا بجٹ آنے والا ہے جس کےلئے 15سے 20نئے ویگو اور دیگر لگژری گاڑیاں خریدنے کا پروگرام بنایا جارہا ہے جبکہ اس نئے پروجیکٹ منصوبے کےلئے یہی گاڑیاں استعمال کی جاسکتی تھیں لیکن افسران بالاءکرپشن کا رس لگ چکا ہے ۔عوام نے نیب احکام سے بھر پور مطالبہ کیا ہے کہ ان میگا پروجیکٹ کی چھان بین کریں اور آبپاشی کے اعلیٰ افسران بھی پروجیکٹ ڈائر یکٹر خالد قریشی سے انکوائری کریں کہ اس پروجیکٹ کی قیمتی لگژری گاڑیاں کہا تقسیم کی گئیں اور ایسے ظالم لوگ کب تک اس مقروض ملک کتنا مقروض کریں گے ۔اس خبر بارے جب پروجیکٹ ڈائر یکٹر خالد قریشی سے موقف لیا گیا تو انہوں نے روزنامہ خبریںسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں میڈ یا کو موقف دینے کا پابند نہیں اس بارے اپنے متعلقہ افسران کو موقف دونگا ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نیب افسران کون سے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں ۔






































