لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یہ درست فیصلہ ہے کیونکہ پورے ملک میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی جب ہم نے دیکھا کہ ہمارا سابق آئی ایس آئی کا چیف جس پر پہلے ہی اصغر خان کیس میں مقدمہ ہے کہ اس نے بینکوں کو لوٹ کر سیاستدانوں میں پیسہ تقسیم کیا اور ابھی تک اس مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوا۔ اس سے زیادہ بڑا جرم سرزد کیا کہ اس نے انڈیا کے ہم منصب ”را“ کے سابق چیف سے مل کر ایک کتاب لکھ دی۔ ساری دنیا میں قانون رائج ہے کہ اگر آپ کسی سرکاری عہدے پر رہے ہوں اس کا آپ نے حلف اٹھایا ہوا ہو لیکن اس کی روشنی میں دیکھ سکتے ہیں کہ قانون کیا کہتا ہے۔ 35 سال تک اپنے عہدے سے الگ ہونے کے بعد آپ کوئی ایسا سرکاری سیکرٹ آﺅٹ نہیں کر سکتے جس کی وجہ دشمن کو، مخالف کو یا دنیا کے ممالک کو ایسی باتوں کا پتہ چلے جس کو ہم سرکاری راز کہتے ہیں۔ ایک تو اس شخص نے ان سے جو کچھ بھی کہا اس سے آگے بڑھ کر موصوف دونوں ملک اندازہ لگا رہے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ بھئی مامے لگتے ہو تم دونوں کو اگلا وزیراعظم کون ہو گا جس کو عوام چاہیں گے وہ وزیراعظم ہو گا۔ بریگیڈیئر (ر) غضنفر نے کہا ہے کہ حساس ادارے کا کوئی سابق سربراہ حساس معاملات پر کوئی کتاب نہیں لکھ سکتے۔ اگر آپ نے کوئی کتاب لکھنی ہے تو قانون یہ کہتا ہے کہ کتاب کو شائع کرنے سے پہلے اس کا مسودہ جی ایچ کیو میں جمع کرانا ہے جہاں یہ ایک ٹیم ہوتی ہے جس میں ایم آئی کا افسر ہوتا ہے، آئی ایس پی آر کی ایجوکیشن برانچ ہوتی ہے کوئی ہسٹوریکل سیکشن سے ہوتا ہے۔ اور وہ اس کا تجزیہ کرتے ہیں کہ اگر اس میں کوئی ایسی چیز جو ملک کی سکیورٹی کے خلاف ہو وہ اس پر اپنی ریکمنڈیشنز دیتے ہیں کہ آپ یہ چیز اڈاپٹ کریں۔ اگر کسی کی ذات کے بارے میں بات ہو تو اس میں طے ہوتا ہے کہ اس کا بھی ورجن لے کر شائع کریں۔ اگر آپ اس کتاب کے مندرجات کو پڑھیں تو اس تمام پیرامیٹرز کے خلاف کتاب لکھی گئی ہے جو آرمی کا ڈسپلن ڈیمانڈ کرتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل سے تو اس چیز کی توقع کرنا یہ انتہائی بررا طرز عمل ہے اس سے گندا اور برا طرز عمل ہو نہیں سکتا۔ لیکن ان کا آپ کو پتہ ہے کہ اصغر خان کیس کے حوالے سے جس طرح پیسہ تقسیم کرنے کے حوالے سے چیزیں سامنے آئیں وہیں سے آپ ان کا اندازہ لگا لیں۔ کتاب میں جو تفصیل اکٹھی کی گئی ہیں وہ پاکستان میں نہیں بیرون ممالک سے معلومات کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ جیسے جیسے اس کتاب کے مندرجات ڈسکس کریں گے تو اور چیزیں سامنے آئیں گی۔ لیکن یہ چیزیں ہیں جن پر ان جی ایچ کیو کال کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف انکوائری آرڈر کر دی گئی ہے۔
ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جو حلف اٹھانے والے سیاستدان ہیں ان کے بارے میں بھی تو باقاعدہ قانون موجود ہے کہ وہ 35 سال تک کسی سرکاری راز سے پردہ نہیں اٹھا سکتے لیکن آرمی کے بارے میں اس سے بھی زیادہ سخت قانون موجود ہے حتیٰ کہ آرمی کے جو اتنے سابق سربراہ رہے ہیں جو سینئر جرنیل رہے ہیں۔ میں نے ایک دن پہلے بھی بتایا تھا کہ صیاءالحق کے دور میں بریگیڈیئر صدیق سال نے جو آئی ایس پی آر کے انچارج تھے انہوں نے مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان کے ساتھ جو تکلیف دہ واقعات ہوئے تھے اس پر کتاب لکھی تھی انہوں نے خود مجھے بتایا تھا کہ میری کلیئر اوکے نہیں آئی اور ایک ایک لفظ کو پڑھا جاتا ہے اگر کوئی آرمی کا ریٹائر افسر بھی لکھنا چاہے۔حیران ہوں کہ اسد درانی نے اتنی بڑی حرکت کی نہ ہی کسی سے پوچھا نہ کوئی مسودہ دکھایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے اور آرمی کا جو کورٹ آف کنڈکٹ ہے ان کا اپنا اس میں ان کو ٹائٹ کرنا چاہئے اور پہلے قدم کے طور پر انہوں نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے کہ آرمی چیف نے کہ ان کا نام ای سی ایل میں نام ڈال دیا تا کہ وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آرمی کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے آرمی کے لوگ تو اس میں جائیں گے لیکن جو سیاست دان اس طرح کا کام کریں گے ان کے لئے آل ریڈی قانون ہوتا ہے اس قانون کے تحت ان کو ٹرائی کرنا چاہئے۔ اور اب تک آرمی کے بہت سے لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں۔ سیاسی کتابیں لکھی ہیں، آرمی پر لکھی ہیں اور ایسے واقعات پر لکھی ہے جو تنازع تھے لیکن مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے، خبریں بھی ٓاتی رہی ہیں کہ ان کی کتاب آئی ایس پی آر نے کلیئر کی اور ایک ایک لفظ پڑھ کر کلیئر اجازت دی تھی۔
پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے دونوں اطراف سے مشاورت چل رہی تھی۔ بت سی باتیں میڈیا پر اوپن نہیں کی جاتیں کیونکہ تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ لازمی بات یہ نام پہلے بھی زیر غور ہو گا تبھی سامنے آ گیا۔ ناصر الملک اچھی شہرت کے حامل جج ہیں، صاف شفاف کردار اور باصلاحیت شخصیت ہیں۔ ہمارے ماضی میں ان سے گلے شکوے رہے ہوں گے باقی جماعتوں کے بھی ہو سکتے ہیں مگر مجموعی طور پر وہ اچھی شہرت اور اچھے باصلاحیت جج تھے۔ لیکن یہ بات بھی ہے اگر یہ فیصلہ اسمبلی کے ممبران پارلیمان کے اندر نہ ہو پانا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق نہ ہوتا تو بھی قیامت کوئی آتی کیونکہ انہیں کے دیئے ہوئے ناموںکو کمیٹی نے دیکھ لینا تھا۔ اگر کمیٹی میں اتفاق نہ ہوتا تو دیئے گئے انہی ناموں میں سے الیکشن کمیشن نے چننا تھا۔ الیکشن کمیشن کے پاس اپنا اختیار تو نہیں ہے کہ اپنے طور پر نگران وزیراعظم لگا دے۔ سیاستدانوں میں اتنی صلاحیت ہے وہ اختلاف کے باوجود وہ کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ نگران وزیراعظم کا الیکشن میں بہت تھوڑا رول ہوتا ہے لیکشن کمشنر بااختیار ہے خود مختار ہے اس کو وسائل کی خود مختاری بھی حاصل ہے۔ اب الیکشن کمشن کی ٹانگوں میں کتنی سکت ہے۔ اگر وہ کھڑے ہو جائیں تو کوئی مرکزی صوبائی حکومت، کوئی ادارہ کچھ نہیں کر سکتا۔ ضیا شاہد نے کہا کہ پنجاب میں فیصلہ ہو گیا یہ بھی جناب شہباز شریف اور محمود الرشید صاحب نے بھی اتفاق سے ایک مکی ناصر کا لفظ ان جا رہا ہے۔ ناصر الملک نگران وزیراعظم اور ناصر کھوسہ نگران وزیراعلیٰ بنے ہیں۔ ان کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے، خیبرپختونخوا میں پشاور ہائیکورٹ کے جج بنے پھر اس کے چیف جسٹس بنے اور بعد میں چیف جسٹس کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس کے اعتبار سے اس وقت یہ جھگڑا پیدا ہوا پی سی او والا اور انہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔ یہ ایک ہو گئے۔ پیپلزپارٹی کے دور میں دوبارہ ان کو جوڈیشری میں لے لیا گیا ان کی شہرت بھی ایک بہت بااصول جج کی رہی ہے خدا کرے کہ ان کی نگران وزارت اعلیٰ کا دور بڑا مشکل دور ہے کیونکہ اس وقت تک پارٹیوں کے درمیان پولرائزیشن اتنی ہے کہ چھوٹی چھوٹی شکایت اور پھر میڈیا اتنا پاور فل ہے کہ آدھے گھنٹے میں، 15 منٹ میں سارے ملک میں بات پھیل جاتی ہے اللہ ان کو مقصد میں کامیاب کرے اور اس ملک میں فری اینڈ فیئر الیکشن کروانے میں کامیاب ہو جائیں۔ وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ناصرالملک بڑے قابل احترام ہیں۔ قانون کو سمجھتے ہیں اور جوڈیشل کمشن جو بنا تھا جس کی تحقیقات کی گئی تھی اس کے سربراہ تھے۔ جتنی پچھلے انتخابات کی قباحتیں تھیں اور کمزوریاں ان کی نظر میں سے گزری ہیں۔ یہ توقع ہے کہ ان چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے۔ ماضی کی تلخیوں کے سامنے رکھتے ہوئے شفاف الیکشن کروائیں توقع کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی کابینہ بنائیں گے جو واقعی غیر جانبدار ہو گی۔ اور بیورو کریسی میں ایسی تبدیلیاں کریں گے جس سے عوام کا اعتماد بحال ہو گا۔ جہاں تک نوازشریف کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کہا تھا کہ دھماکے نہ کریں لیکن نوازشریف صاحب کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی۔ نوازشریف یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میں نے بہت بڑا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ایک پاکستان کی ضرورت تھی۔ بھارتی دھماکوں کے جواب میں۔ جہاں تک پیسوں کا سوال ہے تو وہ پاکستان کے پیکیج کی بات ہو رہی تھی ان کی ذات کے لئے نہیں وہ پاکستان کے لئے نہیں تھا۔ اگر نوازشریف دھماکے نہ کرتے تو ملک میں ان کے خلاف ایسا لاوا پھٹتا کہ وہ اس کو برداشت نہ کر پاتے۔ وہ ہماری ضرورت تھی۔ وہ ہماری نیشنل سکیورٹی کی ضرورت تھی ان کو کرنا ہی پڑتے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے نوازشریف نے اس وقت صحیح فیصلہ کیا ہے الگ بات ہے کہ پوری سلیکٹ آرمی کبھی سامنے نہیں آتی لیکن ہمارے دفاع کے ماہرین کا خاص طور پر کیونکہ انڈیا کی طرف سے دھمکیاں جا رہی تھیں۔ ہمارے سیاسی ماہرین سب کا مشورہ تھا کہ حود شاہ محمود قریشی صاحب بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جناب ہر طرف سے دباﺅ تھا کہ انڈیا کی دھمکیوں کے پیش نظر اب سوا کوئی چارہ نہیں تھا لیکن جو کریڈٹ ان کو جاتا ہے وہ دنیا والے اگر امداد کی بڑے پیمانے پر پیش کش بھی ہوتی تھی اور امریکہ اس وقت پیش کش کر رہا تھا کہ آپ دھماکہ نہ کریں آپ یہ گرانٹ لے لیں۔ اس کے مقابلے میں ہمت کر کے حوصلہ کر کے ہمارے وزیراعظم کے طور پر نوازشریف نے ایک درست فیصلہ کیا اور آج اس فیصلے کی وجہ سے بھی آپ کو یقین دلاﺅں کے جو اس وقت صورت حال تھی اور جس طرح کشمیر پر تو وہ اپنے پاﺅں پنجے گاڑنا چاہتا تھا اس وقت جو صورتحال تھی خدانخواستہ جناب نوازشریف بروقت فیصلہ نہ کرتے تو ہمارا نیوکلیئر دھماکے اوپر یچے 6 دھماکے کئے پاکستان نے ایک دفعہ دہشت پھیل گئی اس پورے خطے میں۔ ایک نئی نیوکلیئر پاور آ گئی دنیا میں اور انڈیا پہلے ایٹمی طاقت نہ تھا۔ ہم بھی برابر کی ایٹمی طاقت ہیں اب انڈیا کو سو دفعہ سوچنا ہو گا۔ ہمارے دفاعی ماہرین نے، سائنسدانوں نے دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی جس کے لئے ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ کچھ کہتے ہیں چین نے وہی کچھ کئے ہیں کوریا نے دی چاہے کسی نے دی لیکن ہم نے وہ تیاری کی۔ آج پوزیشن یہ ہے کہ ایٹم بم کو کیری کرنے کے لئے جن میزائلوں کی ضرورت ہوتی ہے جناب اس میں پاکستان سب جانتے ہیں انٹرنیشنل ماہرین اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میزائل ٹیکنالوجی میں جو دم بردار میزائل ہوتا ہے میزائل لوڈڈ ود ایٹم اس کو یہاں سے بیٹھ کر دلی پر مار سکتے ہیں اللہ نے پاکستان کو اعلیٰ درجے کی نیووکلیئر ٹیکنالوجی دی ہے اور ددنیا جانتی ہے کہ بھارت کی طرف سے کوئی شرارت ہوتی ہے تو ادھر سے ہمارے میزائل تیار ہیں جو کم از کم انڈین شہروں کو میزائل ان کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
یوم تکبیر کے موقع پر ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پروگرام میں ٹیلی فونک گفتگو کا حصہ بنے۔ ضیا شاہد نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان صاحب میں آپ کا بڑا مداح رہا ہوں۔ پاکستان کے ہر فرد و بشر کی طرح سے آپ سے محبت کی آپ کا احترام کیا اور آج نوازشریف کی طرف سے تقریر ہوئی آج یوم تکبیر منایا گیا۔ میں نے کہا کہ نوازشریف نے صحیح فیصلہ کیا، ان کو مبارکباد۔ ان کا یہ کریڈٹ کوئی نہیں چھین سکتا لیکن جب ایٹم بم اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی بات ہو گی تو معاف کیجئے گا میں نے کہا کہ اس میں ڈاکٹر قدیر خان کا نام نہ لیا جائے تو یہ تاریخ کے ساتھ بڑا ظلم ہو گا۔ آج کے دن کے حوالے سے پاکستان کے ایٹم بم کی صلاحیت پیدا کرنے اور نوازشریف کی طرف سے دھماکہ کرنے کے سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ حالات 20 سال پرانے ہو گئے پھر بھی کہانیاں دہرائی جاتی ہیں، دعویدار بھی نکل آتے ہیں اور جھوٹی باتیں بھی کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑا مشکل اور ناممکن کام تھا جسے ہم لوگوں نے ممکن بنا لیا۔ اگر اس پراجیکٹ کے بارے میں صحیح جاننا چاہیں تو اس پروگرام کے 17 سال ہیڈ رہنے والے غلام اسحاق خان کا وہ خط پڑھ لیجئے جو انہوں نے زاہد ملک اور مشاہد الرحمن کو لکھا تھا۔ اس خط میں پروگرام کی پوری تفصیل ہے کہ کس طرح ہوا، کس نے کیا اور کہاں کیا اس میں صرف ایک ہی لفظ تھا کہ یہ صرف ڈاکٹر اے کیو خان اور ان کی ٹیم نے کیا اور کسی نے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سہولت دی اور یہ کام ہو گیا۔ اس کا کریڈٹ بہت زیادہ بھٹو صاحب کو جاتا ہے کہ انہوں نے ہمیں یہ پروگرام سٹارٹ کرنے کی اجازت دی اور بہت دلچسپی لی۔ اس کا کریڈٹ صدر ضیاءالحق کو جاتا ہے کہ انہوں نے بہت پریشر برداشت کیا۔ وہ مشرف کی طرح ڈرپوک نہیں تھے جو ٹیلی فون پر پریشر میں آ جاتے۔ انہوں نے 12 سال ساری دنیا کو پریشر قبول کیا۔ ضیا شاہد کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ایٹمی دھماکوں کا اصل کریڈٹ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ غلام اصحاق خان نے اس پروگرام کے لئے بہت بھاگ دوڑ کی اور ایٹمی صلاحیت آنے کے بعد اس کی حفاظت کے لئے انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصے تک کوشش کی۔ کیا آپ اس تھیوری کی تصدیق کرتے ہیں؟ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ غلام اسحاق خان نے جو کردار ادا کیا ہمیشہ اس کی تعریف کی۔ لیکن پروگرام میں نے بنایا اور ڈیزائن کر کے سب کچھ میں نے آرگنائز کیا۔ مجھے پہلے بھٹو صاحب کی سرپرستی حاصل تھی پھر جنرل ضیا کی۔ بھٹو صاحب اور جنرل ضیا نے یہ چیز غلام اسحاق پر ڈالی تھی اور غلام اسحاق کا میرے ساتھ سلوک اپنے بیٹے کی طرح تھا اور میں ان کی والد کی طرح عزت کرتا تھا۔ انہوں نے ہمیں سپورٹ کیا اور پروگرام کی تکمیل میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کی۔ غلام اسحاق خان کی سپورٹ تھی کہ ہم ان سے جو مانگتے تھے وہ دیتے تھے اور ہمیں چوروںاور ڈاکوﺅں سے محفوظ رکھتے تھے، اور جو بکواس کرتے پھرتے تھے ان سب سے ہماری حفاظت کرتے تھے۔ اللہ پاک انہیں جنت نصیب کرے ان کا بہت بڑا کردار تھا۔






































